اشتراکِ عمل : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 832
عنوان اشتراکِ عمل
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228482
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

اشتراکِ عمل کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

اشتراکِ عمل - کی دوسری شاخیں-
حوالاجات و حواشي

اشتراکِ عمل


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

باب 13

CHAPTER XIII

اشتراکِ عمل

CO-OPERATION



ترجمہ: امتیاز حسین، ابن حسن



جیسا کہ ہم ماقبل دیکھ چکے ہیں کہ سرمایہ دارنہ پیداوارکا آغاز حقیقتاًاس وقت ہوتا ہے جب ہر انفرادی سرمایہ دار نسبتا ً زیادہ مزدوروں کو بیک وقت کام پر لگا دیتا ہے؛ اور نتیجتاً جب عملِ محن توسیع شدہ پیمانے پر اختیار کیا جاتا ہے اوریہ نسبتاً زیادہ مقدار میں اشیاء پیدا کرتا ہے۔ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ پر( اور اگر آپ چاہیں تو محن کے ایک ہی میدان میں)اکٹھے کام کرنے والے زیادہ تعداد کے مزدور ایک ہی نوع کی اشیاء پیدا کرنے کے لئے جب ایک ہی سرمایہ دار کے زیرِ نگیں آ جاتے ہیں تب تاریخی اور منطقی ہر دو طرح سے سرمایہ دارانہ پیداوار کا نقطۂ آغاز تشکیل پاتا ہے۔ خود طبعِ پیداوار کے حوالے سے پیداوار،صحیح ترین معنوں میں ، اپنی ابتدائی ترین منازل میں گِلڈز کی دستکاری کی تجارت سے بمشکل ہی ممیز ہوتی ہے سوائے اس کے کہ ایک ہی سرمایہ زیادہ تعداد کے مزدوروں کو بیک وقت کام پر نہ لگا دے۔ قرونِ وسطیٰ کے دستکار کے مالک کی کارگاہ کو محض توسیع دے دی گئی ہے۔

چنانچہ یہ فرق اولاً خالصتاً مقداری ہے۔ ہم دکھا چکے ہیں کہ بڑھائے گئے سرمائے کی پیدا کردہ قدرِ زائد ،ہر مزدور کی پیدا کردہ قدرِ صرف اور بیک وقت کام میں لگائے جانے والے مزدوروں کی کُل تعداد کے حاصلِ ضرب کے مساوی ہے۔مزدوروں کی تعداد خود اپنے تئیں نہ قدرِ زائد کی شرح پر اثر انداز ہوتی ہے اور نہ قوتِ محن کے استحصال کی سطح پر۔ اگر 12گھنٹوں کی ایک دیہاڑی 6شلنگ میں متجسم ہو تو ایسی 1,200دیہاڑیاں 6شلنگ کے 1,200گُنا میں متجسم ہوں گی۔ ایک معاملے میں 1,200×12دیہاڑیاں، اور دوسرے معاملے میں ایسے 12گھنٹے مصنوعہ میں مجتمع ہوں گے۔ قدر کی پیداوار میں مزدوروں کی خاص تعداداُتنے ہی انفرادی مزدوروں کے برابر ہو گی اور اس سے پیدا کی جانے والی قدر پرکوئی فرق نہیں پڑے گا کہ چاہے 1,200آدمی ایک ہی سرمایہ دار کے تابع ہو کر الگ الگ یا اکٹھے کام کریں ۔

اس کے باوجود مخصوص حدود کے اندر کوئی تبدیلیضرور رونما ہوتی ۔قدر[کی شکل] میں حاصل کیا جانے والا محن اوسط سماجی مقدار کا محن ہے، چنانچہ یہ اوسط قوتِ محن کا خرچ ہونا ہی ہے۔ تاہم کوئی بھی اوسط اجماع ایک ہی نوع کے، مگر مختلف مقداروں کے تمام مختلف حجموں کا اوسط ہی ہے۔ہر صنعت میں ہر انفرادی مزدور، چاہے وہ زید ہو یا بکر، اوسط مزدور سے تخصیص رکھتا ہے۔ یہ انفرادی امتیازات ، یا‘‘ تفریقات، جیسا کہ اُنہیں ریاضی میں کہا جاتا ہے، ایک دوسرے کی کمی پوری کر دیتے ہیں اور اس وقت ختم ہو جاتے ہیں جب کبھی مزدوروں کی کسی کم از کم تعداد کو اکٹھے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔مشہورِ زمانہ سوفسطائی اور مصلح Edmund Burkeیہاں تک گیا کہ اُس نے درج ذیل مفروضہ قائم کر لیا جو کسان ہونے کے ناتے اس کے حقیقی مشاہدے پر مبنی ہے: یہ کہ‘‘ اتنے چھوٹے گروہ میںجتنا کہ پانچ زراعتی مزدوروں کا ہوتا ہے، محن کے تمام انفرادی فرق مٹ جاتے ہیں، اور یہ کہ نتیجتاً اگر کوئی سے پانچ جوان مزدور اکٹھے کر لئے جائیں تو وہ اُتنے وقت میں اُتنا ہی کام کریں گے جتنا کوئی سے دوسرے پانچ۔ لیکن وہ جتنے بھی ہوں ، یہ بات واضح ہے کہ بیک وقت کام پر لگائے جانے والے کثیر تعداد کے مزدوروں کی اجتماعی دیہاڑی کو اُن مزدوروں کی کُل تعداد سے اگر تقسیم کیا جائے تو اوسط سماجی محن کا ایک دن حاصل ہو گا۔ مثال کے طور پر فرض کرتے ہیں کہ ہر فرد کی دیہاڑی 12گھنٹے ہے۔ اس صورت میں بیک وقت کام پر لگائے جانے والے 12مزدوروں کی مشترکہ دیہاڑی 144گھنٹے ہو گی ؛ اور اگرچہ ان بارہ آدمیوں میں سے ہر ایک کا محن اوسط سماجی محن سے تھوڑا کم یا تھوڑا زیادہ ہے ، تاہم چونکہ ہر ایک کی دیہاڑی 144گھنٹے کی مشترکہ دیہاڑی کا بارہواں حصہ ہے ، چنانچہ اس میں اوسط سماجی محن کے خصائص موجود تصور کئے جائیں گے۔ تاہم جو سرمایہ دار ان 12افراد کو کام پر لگاتا ہے اس کے نزدیک دیہاڑی بارہ افراد ہی کی ہو گی۔ ہر ایک فرد کی دیہاڑی مشترکہ دیہاڑی کاتشکیلی حصہ ہی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ،چاہے یہ 12افراد اپنے کام میں ایک دوسرے کی معاونت کریں ، یا چاہے ان کے امور کے درمیان ربط محض اس حقیقت پر مبنی ہو کہ تمام کے تمام افراد ایک ہی سرمایہ دار کے زیرِ نگیں کام کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ان 12افراد کو چھ جوڑوں کی شکل میں اُتنے ہی چھوٹے نگرانوں کے زیرِ نگیں کام پر لگایا جائے ، تو یہ محض اتفاق ہی ہو گا کہ ان نگرانوں میں سے ہر کوئی ایک جتنی قدر ہی پیدا کرے ، یا اُسے قدرِ زائد کی عمومی شرح حاصل ہو سکے۔ مختلف معاملات میں تفریقات ضرور رونما ہوں گے۔ اگر ایک مزدور کو ایک شے کی پیداوار کے لئے اوسط سماجی وقت سے تھوڑا بہت زیادہ وقت درکار ہو ، تو پھر اس معاملے میں ضروری وقتِ محن کا دورانیہ سماجی طور پر ضروری اوسط وقتِ محن سے کچھ انحراف کر جائے گا چنانچہ اس کے محن کو اوسط محن بھی تصور نہیں کیا جائے گا،اور نہ ہی اُس کی قوتِ محن اوسط قوتِ محن ہی رہے گی۔یا تو یہ بالکل قابلِ فروخت نہ رہے گی ، یا پھر قوتِ محن کی اوسط سطح سے کچھ کم پر فروخت ہو گی۔ ہر قسم کے محن میں مقررہ کم از کم مہارت فرض کر لی جاتی ہے ، اور ہم کچھ دیر بعد دیکھیں گے کہ سرمایہ دارانہ پیداوار اس کم از کم [حد] کو مقرر کرنے کے لئے ذرائع مہیا کرتی ہے۔ تاہم یہ کم سے کم اوسط سے انحراف کر جاتی ہے، اگرچہ دوسری طرف سرمایہ دار کو قوتِ محن کی اوسط قدر ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔ 6چھوٹے نگرانوں میں سے ایک قدرِ زائد کی زیادہ شرح نچوڑے گا جبکہ دوسرا کم۔ یہ تفریقات سماج کے لئے تواجتماعاً ختم ہو جائیں گی مگر ایک واحد پیداکار کے لئے نہیں۔ پس قدر پیدا کرنے کے قوانین صرف اُس وقت ایک انفرادی پیداکار کے لئے مکمل طور پر حاصل ہوں گے جب وہ اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو


اشتراکِ عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
دستکاری اور محن کی تقسیمِ کار پر مبنی اشتراکِ عمل کا اخراج
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے