اشتراکِ عمل : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 832
عنوان اشتراکِ عمل
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228494
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

اشتراکِ عمل کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

اشتراکِ عمل - کی دوسری شاخیں-
حوالاجات و حواشي

اشتراکِ عمل


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

.php?Dflt=اشتراکِ عمل&x=0'>اشتراکِ عمل میں آنے والے مزدوروں کی تعداد یا اشتراکِ عمل کے پیمانے کا دارومدار پہلی مثال میں سرمائے کی اُس مقدار پر ہے جو ایک سرمایہ دار قوتِ محن کی خریداری کے لئے وقف کرسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک سرمایہ دار مخصوص تعداد کے مزدوروں کے لئے جس حد تک ذرائع بقا مہیا کر سکتا ہے۔

تغیر پذیر سرمائے کی طرح، بقاپذیر سرمائے کی بابت بھی یہ بات سچ ہے۔ مثال کے طور پر، جو سرمایہ دار 300آدمی کام پرلگاتا ہے اُس کاخام مال پر استعمال ہونے والا خرچ اُن سرمایہ داروں کی بہ نسبت 300گُنا زیادہ ہو گا جو دس دس آدمیوں کو کام پر لگاتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ عام استعمال میں آنے والے آلاتِ محن کی قدر اور مقدار میں اضافہ اسی شرح سے نہیں ہوتا جس شرح سے کام کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہے، البتہ اس میں معقول حد تک اضافہ ضرور ہوتا ہے۔ پس ذرائع پیداوار کی زیادہ بڑی مقداروں کا خود مختار سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مجتمع ہونا مزدوروں کے اشتراک عمل کی مادی شرط ہے اور اس کی حد یا پیداوار کاپیمانہ بھی [ان کے]ارتکاز پر منحصر ہے۔

ہم کسی گزشتہ باب میں دیکھ چکے ہیں کہ سرمائے کی کوئیکم از کم مقدار اس مقصد کے لئے ضروری تھی کہ بیک وقت کام پر لگائے جانے والے مزدوروں کی خاص تعداد اور نتیجتاً پیدا ہونے والی قدرِ زائد کی مقدار مالک کو جسمانی محن سے چھٹکارا دلوا دے اور اس طرح وہ ایک چھوٹے مالک سے سرمایہ دار بن جائے اور سرمایہ دارانہ پیداوار کا باقاعدہ آغاز کر سکے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ [سرمائے کی] کم از کم مقدار بہت سارے الگ الگ اور خود مختار عملوں کو ایک مشترکہ سماجی عمل میں بدلنے کے لئے ایک لازمی شرط ہے۔

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پہلے پہل محن سرمائے کا مطیع ہوتا ہے تو یہ محض اس حقیقت کا لازمی نتیجہ تھا کہ مزدور بجائے اپنے ، سرمایہ دار کے لئے اور اسی کی سرکردگی میں کام کرتا ہے۔ بہت سارے دیہاڑی دار مزدوروں کے اشتراک ِ عمل سے سرمائے کا غلبہ بڑھ کر پیداوار کی بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔ جیسا کہ ضروری ہے کہ ایک جرنیل میدانِ جنگ میں کمان کرے، اسی طرح اب سرمایہ دار کے لئے بھی ضروری ہے کہ پیداوار کے میدان میں سربراہی کرے۔

تمام کے تمام مشترک محن کو ایک بڑے پیمانے پر کسی حد تک ایک منتظم کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ انفرادی سرگرمیوں کی ہم آہنگی کا حصول ہواور ایسے عمومی افعال سر انجام دئے جا سکیں جن کا ماخذ مجموعی جسم کے افعال میں ہے اور جنہیں اس جسم کے اعضا کے علیحدہ علیحدہ افعال سے ممیز کیا جا سکتاہے۔وائلن بجانے والا تنہا فرد خود ہی اپنا مہتمم ہوتا ہے، اور سازینے( آرکسٹرا )کے لئے الگ مہتمم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہدایت کاری، منتظمی اور ارتباط میں لانے ایسے امور اُس وقت سے سرمائے کی جملہ امور کی اکائی بن جاتے ہیں جب سرمائے کے تحت آتے ہوئے محن اشتراکِ عمل میں آ جاتا ہے۔ ایک بار سرمائے کا منصب بن کر یہ خصوصی خواص کوحاصل کر لیتا ہے۔

قدرِ زائد کی ممکنہ زیادہ سے زیادہ مقدار کا حصول اور اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک قوتِ محن کا استحصال ہی سرمایہ دارانہ پیداوار کا بنیادی محرک اور مقصد و منتہا ہے۔ جونہی اشتراک ِ عمل میں مزدوروں کی تعداد بڑھتی ہے، اُسی طرح سرمائے کے غلبے کے خلاف اُن کی مزاحمت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جوابی دباؤ کے تحت اُن کی مزاحمت پر قابو پانا سرمائے کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ جس انتظام و انصرام کو سرمایہ اختیار کرتا ہے وہ نہ صرف سماجی عملِ محن کی وجہ سے پیدا ہونے والا اور اُسی کے ساتھ وابستہ کوئی خصوصی امر ہی ہے بلکہ یہ ساتھ ساتھ سماجی عملِ محن کے استحصال کا منصب بھی ہے۔ چنانچہ اِس کی بنیاد اُس ناگزیر مخاصمت پر ہوتی ہے جو استحصال کنندہ اور اس کے استحصال شدہ زندہ اور متحرک خام مال میں پائی جاتی ہے۔

پھر ذرائع پیداوار کے بڑھتے ہوئے حجم کے تناسب سے_جو اب مزدور کی ملکیت نہیں رہے بلکہ سرمایہ دار کی ملکیت ہیں_ یہ ضرورت ابھرتی ہے کہ ان ذرائع کے مناسب استعمال پر موثر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ مزید یہ کہ اجرتی مزدور کا اشتراکِ عمل حقیقتاً وہی سرمایہ دار موثر بناتاہے جو اُنہیں کام پر لگاتا ہے۔ مزدوروں کا ایک تنہا پیدا واری اکائی میں اکٹھ اور ان کے انفرادی کاموں میں ربط کا پیدار کرنا ان کے لئے خارجی اور غیر متعلقہ معاملات ہیں ، جو ان کے انفرادی امور نہیں بلکہ یہ تو سرمایہ دار کا کام ہے جو اُنہیں ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔ پس اُن کے مخصوص نوعیتوں کے محنوں کے مابین پایا جانے والا ربط اُنہیں خیالی طور پر سرمایہ دار کا پہلے سے سوچا گیا منصوبہ دکھائی دیتا ہے اور عملی طور پر اسی سرمایہ دار کے اختیار کی شکل میں ، پھرسرمایہ دار کی مضبوط قوتِ فیصلہ کی شکل میں جو اُن کی سرگرمی کو اپنے مقاصد کے لئے مطیع کر لیتا ہے۔ پھر اگر سرمایہ دار کا نظم و انضباط خود پیداواری عمل کے دو رُخے خاصے__ جو ایک طرف تو اقدارِ صرف پیدا کرنے والا سماجی عمل ہے اور دوسری طرف اقدارِ زائد پیدا کرنے والاعمل__ کے سبب اپنی نوعیت میں بڑا آمرانہ ہے۔جب اشتراکِ عمل اپنے دائرے میں وسعت لاتا ہے ، یہ ایسی شکل اختیار کر جاتا ہے جو خود اسی سے مخصوص ہے۔ جیسے پہلے پہل سرمایہ دار کو خود محنت کرنے سے چھٹکارا مل جاتا ہے جب اُس کا سرمایہ ایسی کم از کم مقدار رتک پہنچ جائے جس کے ساتھ سرمایہ دارانہ پیداوار شروع ہو سکتی ہے، اسی طرح اب وہ انفرادی مزدوروں یا مزدوروں کے جتھوں کی مسلسل اور براہِ راست نگرانی کا کام ایک خاص قسم کے اجرتی مزدور کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ ایک سرمایہ دار کی کمان میں مزد




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

اشتراکِ عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
دستکاری اور محن کی تقسیمِ کار پر مبنی اشتراکِ عمل کا اخراج
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے