اشتراکِ عمل : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 832
عنوان اشتراکِ عمل
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228493
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

اشتراکِ عمل کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

اشتراکِ عمل - کی دوسری شاخیں-
حوالاجات و حواشي

اشتراکِ عمل


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

روں کی صنعتی فوج کو ایک حقیقی فوج کی مانند ایسے افسران( منیجروں )سارجنٹوں( فورمین، نگرانوں )کی ضرورت ہوتی ہے جو کام کے دوران سرمایہ دار کی طرف سے دیکھ بھال کرتے ہیں۔ دیکھ بھال اور نگہبانی کا کام اُن کا واحد منصب بن جاتا ہے۔ تنہا کسانوں اور اہلِ ہنر افراد کے طبعِ پیداوار کا موازنہ جب غلام محن کی پیداوار سے کیا جائے تو سیاسی معیشت دان نگرانی کے اس محن کو پیداوار کے اتفاقی خرچے میں شمار کرتا ہے۔ اس کے برخلاف ،سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار پر بات کرتے ہوئے وہ نظم و انضباط کے کام کو جس کو عملِ محن میں اشتراک ِ عمل نے اور سرمایہ دار اور مزدور کے مفادات کی مخاصمت نے لازمی بنایا ہے، اس نظم و انضباط سے ہم آہنگ گردانتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ایک فرد صنعت کا سربراہ ہے اس لئے وہ سرمایہ دار ہے، بلکہ اس کے برخلاف وہ صنعت کا سربراہ اس وجہ سے ہے کہ وہ سرمایہ دار ہے۔ صنعت کی سربراہی سرمائے کا وصف ہے جیسے جاگیردارانہ ادوار میں جرنیل اور منصف کے فرائض زمینی ملکیت کے وصف تھے۔

مزدور اپنی قوتِ محن کا مالک اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ سرمایہ دارکے ساتھ اُسے بیچنے کے سلسلے میں سودے بازی نہیں کر لیتا۔ اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کے علاوہ کچھ اور بیچ بھی نہیں سکتا، مطلب یہ کہ خود اس کی انفرادی ، ذاتی قوتِ محن۔ چیزوں کی یہ صورتِ حال اس حقیقت پر کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہوتی کہ سرمایہ دار ایک کے بجائے 100آدمیوں کی قوتِ محن خرید لے اور ایک آدمی کے بجائے الگ الگ 100آدمیوں کے ساتھ الگ الگ معاہدے کر لے۔ وہ ان 100آدمیوں کو اشتراک ِ عمل میں لائے بغیر بھی کام لے سکتا ہے۔ وہ اُنہیں محن کی 100آزاد قوتوں کی ادائیگی کرتا ہے، مگر وہ محن کی ان 100مشترکہ قوتوں کو اُجرت نہیں دیتا۔ایک دوسرے سے آزاد رہتے ہوئے مزدور اکیلے اکیلے افراد ہی ہیں جن کا تعلق سرمایہ دار کے ساتھ تو بنتا ہے مگر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں۔ یہ اشتراکِ عمل صرف عملِ محن کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن اُس وقت وہ اپنے آپ کی ملکیت نہیں ہوتے ۔اس عمل میں داخل ہو کر وہ سرمائے میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں۔اشتراک ِعمل میں حصے دار کے بطور یا ایک کام کرتی ہوئی نظامت کے اراکین کے بطور وہ صرف سرمائے کے وجود کی خاص بُنتریں ہی ہیں۔ پس اشتراکِ عمل میں کام کرنے والے مزدور کی افزودہ قوت فی الحقیقت سرمائے کی افزودہ قوت ہی ہے۔ یہ قوت اس وقت خود ہی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے جب مزدور کو مخصوص حالات میں رکھا جاتا ہے اور سرمایہ ہی اُنہیں ایسے حالات میں رکھتا ہے۔ اب چونکہ اس قوت پر سرمائے کا کوئی خرچہ نہیں اٹھتااور چونکہ دوسری طرف مزدور اسے سرمائے کی ملکیت میں جانے سے قبل ترقی نہیں دیتا اس لئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کوئی ایسی طاقت ہے جو سرمائے کو فطرت نے ودیعت کی ہے، یعنی ایک ایسی افزودہ قوت جو خود سرمائے کے اندر موجود ہے۔

سادہ اشتراکِ عمل کے قوی اثرات قدیم ایشیائی، مصری اور Etruciansوغیرہ کے دیو ہیکل ڈھانچوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔‘‘ ازمنۂ قدیم میں یوں ہوتا کہ یہ مشرقی ریاستیں اپنے ملکی اور فوجی اداروں کے اخراجات مہیا کرنے کے بعد ایسی اضافی [رقوم] کے حامل ہو جاتے جن کو وہ عظیم الشان [عمارتیں] یا دیگر استعمال کی چیزیں بنانے میں استعمال کرسکتے تھے ۔ ان کی تعمیر کے سلسلے میں تقریباً تمام غیر زرعی آبادی کے قوت و بازو پر اُن کی بالا دستی سے ایسی شاندار یادگاریں تعمیر ہوئیں جو اب بھی ان کی شان و شوکت کی گواہی دیتی ہیں۔ دریائے نیل کی زرخیز وادی ...غیر زرعی آبادی کے جمِ عفیر کے لئے خوراک پیدا کرتی اور یہ خوراک چونکہ سلطان یا ملائت کی ملکیت ہوتی چنانچہ یہ ایسے عظیم الشان یاد گار کی تعمیر کے لئے ذرائع فراہم کرتی ....۔ان دیو ہیکل مجسموں اور دیگر بڑے بڑے اجسام جن کو حرکت دینے میں نقل و حرکت نے ایک معجزہ کر دکھایا،قریب قریب نِرا انسانی محن ہی بے دریغ استعمال ہوتا تھا....۔ مزدوروں کی تعداد اور ان کی کوششوں کی مرکزیت ثمر آور ثابت ہوئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مونگے کے عظیم الشان بادبان سمندر کی گہرائیوں سے اُٹھ رہے ہیں اور جزیروں اور سنگلاخ زمینوں کی طرف جا رہے ہیں، مگر اس کا ہر حصہ منحنی، لاغر اور حقیر ہے۔ ایک ایشیائی تاج کے غیر زرعی مزدوروں کے پاس ایسے کاموں کی تکمیل کے لئے سوائے جسمانی قوت کے اور کچھ نہیں تھا، مگر ان کی اصل قوت تو ان کی تعداد تھی اور ان اجسام[مرادمزدوروں] کی مہتمم قوت نے ایسے محلات، اور معبدوں کی ایسی افواج کی طرح ڈالی کہ جن کی باقیات آج ہمیں متحیر و مسحور کر دیتی ہیں۔ یہ اُس مالگزاری کا ایک یا چند ہاتھوں میں چلے جانا ہے جس سے ایسے کارنامے ممکن ہوئے۔ایشیائی اور مصری بادشاہوں، Etruciansملاؤں وغیرہ کی یہ طاقت جدید معاشرے میں سرمایہ دار کو منتقل ہو چکی ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ تنہا سرمایہ دار ہو یا جائینٹ سٹاک کمیٹی میں ہو یا مشترکہ سرمایہ دار ہو۔

ایسا اشتراکِ عمل جو ہمیں انسانی ارتقا کے آغاز میں خانہ بدوش نسلو ں races who live by the chaseمیں ملتا ہے؛ یا جیسا ہندوستانی معاشرتی ڈھانچوں کی زراعت میں ملتا ہے۔ اُس کی بنیاد ایک طرف تو ذرائع پیداوار کی عمومی ملکیت پر ہے اور دوسری طرف اس حقیقت پر کہ ایسے معاملات میں ہر فرد نے اپنے آپ کو ابھی اپنے قبیلے یا معاشرے کی نال سے اتنا آزاد نہیں کیا تھا جیسے شہد کی ہر مکھی اپنے آپ کو چھتے سے آزاد کر لیتی ہے۔ ایسا اشتراکِ عمل اوپر بیان ہونے والے دونوں خصائص کی رو سے سرمایہ دارانہ اشتراکِ عمل سے ممیز ہے۔ ازمنۂ قدیم ، قرونِ وسطیٰ اور جدید کالونیوں میں کہیں کہیں نظر آنے والا وسیع پیمانے پر اشتراک ِ عمل کا انحصار غلبے اور اطاعت، اصولی طور پر غلامی کے تعلقات کی بنا پر ہے۔ اس کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام یا بُنتر میں ، شروع سے آخر تک ،آزاد اجرتی مزدور کے وجود کو باور کر لیا جاتا ہے جو اپنی قوتِ محن سرمائے کے ہاتھ بیچ دیتا ہے۔ تاہم تاریخی طور پر یہ بُنتر مزار




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

اشتراکِ عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
دستکاری اور محن کی تقسیمِ کار پر مبنی اشتراکِ عمل کا اخراج
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے