اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 780
عنوان اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ
شاخ اشیاء
پڑھا گیا 222771
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ کے بنیاد
اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ - کی دوسری شاخیں-

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ


شاخ اشیاء
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ


بادی النظر میں شے نے اپنے آپ کو دو عناصر ،قدرِ صرف اور قدرِ مبادلہ ،کے مجموعے کے طور پر پیش کیا۔پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ خود محن کی حقیقت بھی دو رخی ہے،یعنی جب یہ قدر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو اس میں وہ خاصیت باقی نہیں رہتی جو شے میں قدرِ صرف پیدا کرتی ہے۔ میں نے ہی سب سے پہلے اشیاء میں موجود محن کی دو رخی حقیقت کی شناخت کی اور پھر اسی نقطۂ نظر سے اس کا مطالعہ کیا۔اب چونکہ یہی وہ نکتہ ہے جس سے پوری سیاسی معیشت کا ادراک ممکن ہے۔چنانچہ ہم اس پر مزید تفصیل سے بحث کرتے ہیں ۔

اس سلسلے میں ہم دو چیزوں -ایک کوٹ اور دس گز ململ، کی مثال لیتے ہیں،اور پہلے مرحلے میں کوٹ کی قدر ململ سے دو چند کر دیتے ہیں ۔اب اگر

دس گز ململ= W

ہو تو

ایک کوٹ = 2 W

ہو گا۔

کوٹ ایک ایسی قدرِ صرف ہے جو کسی خاص حاجت کی تسکین کرتی ہے،اور اس کا وجود ایک خاص پیداواری سرگرمی کا نتیجہ ہے، جس کی اصلیت کو مقصد ،طریقۂ کار،اس کی نوعیت،ذرائع اوراس کے نتیجے سے جانا جا سکتا ہے۔ وہ محن جس کی افا دیت اس کی مصنوعہ چیز کے استعمال میں ملتی ہے،یا جو اپنا اظہار اس چیز کی قدرِ صرف کی صورت میں کرتی ہے،اسے ہم محنِ مفید کا نام دے سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم محض اس کا مفید پہلو مدّ ِ نظر رکھیں گے۔

چونکہ کوٹ اور ململ خواصی اعتبار سے بھی دو مختلف قدریں ہیں ،چنانچہ ان پر صرف ہونے والا محن ،یعنی سلائی اور بنائی ،بھی مختلف نوعیت کا ہے ۔اگر یہ دونوں چیزیں اپنی افادیت کے لحاظ سے مختلف نہ ہوتیں یعنی ان پر مختلف قسم کا محن صرف نہ ہوتا تو یہ اشیاء کی حیثیت سے آمنے سامنے نہ آتیں ۔کوٹ کا تبادلہ کوٹ سے نہیں کیا جا سکتا،ایک قدرِ صرف کا اسی نوع کی دوسری قدرِ صرف سے تبا دلہ ممکن نہیں ۔

اقدار کی وہ تمام اقسام جو استعمال میں لائی جاتی ہیں ان پر انہی سے ہم آہنگ اتنی ہی اقسام کا محنِ مفید صرف ہوتا ہے۔ان کی درجہ بندی جنس ،نوع،ترتیب،اور ان کی سماجی تقسیم کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔محن کی یہ تقسیم اشیاء کی پیداوار کے لئے بڑی ضروری ہوتی ہے،لیکن حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں بلکہ اس کے برعکس ،اشیاء کی پیداوار ہی تقسیمِ محن کی لازمی شرط بن جاتی ہے۔قدیم ہندوستانی معاشرے میں محن کی سماجی درجہ بندی کا اشیاء کی پیداوار سے کوئی سروکار نہیں ۔اس سلسلے میں اپنے ملک کی مثال بھی لی جا سکتی ہے۔ہر کارخانے میں ایک خاص ضابطے کے تحت محن کی تقسیم کی جاتی ہے لیکن یہ تقسیم اپنی انفرادی پیداوار کے باہمی تبادلے کا باعث نہیں بنتی۔صرف وہی مصنوعات ایک دوسرے کے لحاظ سے اشیاء میں بدلتی ہیں جن پر انفرادی طور پر مختلف قسم کا محن استعمال ہوا ہو۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ،کہ ہر شے کی قدرِ صرف میں محنِ مفید موجود ہوتا ہے یعنی ایک خاص نوعیت کی پیداواری سرگرمی جسے خاص مقصد کے تحت اختیار کیا گیا ہو۔اقدارِ صرف اس وقت تک اشیاء کی حیثیت سے ایک دوسرے سے متبادل نہیں ہو سکتیں جب تک ان میں مجسم محنِ مفید کی نوعیت مختلف نہ ہو۔جس کمیونٹی کی پیداوار اشیاء میں بدل جائے دوسرے لفظوں میں اشیاء پیدا کرنے والوں کی کمیونٹی میں جہاں ہر کارخانے دار کے پاس انفرادی طور پر محن کی مختلف مفید حالتیں موجود ہوتی ہیں وہاں یہ[محن کی مفید حالتیں] محن کی سماجی تقسیم کی صورت میں ایک پیچیدہ نظام کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔

تاہم کو ٹ چاہے درزی استعمال کرے یا اس کا کوئی گاہک ،ہر دو صورتوں میں یہ قدرِ صرف ہی کا کام دیتا ہے۔اور نہ کوٹ اور اس کے محن کے باہمی تعلق پر وہ حالات اثر انداز ہوتے ہیں جن کے تحت سلائی کے فن نے پیشے ،یعنی محن کی سماجی تقسیم کی آزاد شاخ ،کی شکل اختیار کی۔جہاں تک کپڑے کا تعلق ہے ،بنی نوع انسان نے ہزاروں سال تک اپنی ضرورت کے تحت لباس تیار کئے،مگر سلائی کو درزی کے پیشے کے طور پر کسی شخص نے بھی نہ اپنایا۔ کوٹ اور ململ، دولت کی دیگر مادی اشکال کی مانند ،فطرت کی پیداوار نہیں ہیں،بلکہ ان کا وجود ایک خاص قسم کی تخلیقی سرگرمی کی بدولت عمل میں آیا ہے جسے ایک خاص مقصد کے تحت اختیار کیا گیا، یعنی ایسی سرگرمی جو کسی چیز کے فطری خواص کو انسان کی مخصوص حاجات کے موافق بناتی ہے۔اب چونکہ محن یعنی محنِ مفیدہی قدرِ صرف پیدا کرتا ہے ،چنانچہ یہ سماج کی ہر قسم کی بنتر سے مبرّا ایک ایسی لازمی شرط ہے، جوبنی نوع انسان کے وجود کی وجہ سے ایک غیبی قوت کی لاگو کردہ ضرورت ہے،جس کے بغیر انسان اور فطرت کے مابین کوئی تعلق ممکن نہیں،لہٰذا زندگی بھی ممکن نہیں۔

اقدارِ صرف کوٹ اور ململ وغیرہ مادی اشیاء ہونے کی وجہ سے دو عناصر، محن اور مادہ، کا امتزاج ہیں۔اگر ہم اس پر صرف شدہ محنِ مفید کو ساقط کر دیں تو باقی صرف بنیادی مادہ(substratum)بچے گا، جسے فطرت نے انسانی مداخلت کے بغیر تخلیق کیا۔آخرالذکر [انسان]فطرت ہی کی مانند اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔یعنی یہ محض مادے کی بنتر بدل سکتا ہے13؂ ۔ اتنا ضرور ہے کہ مادے کی بنتر کو بدلنے کے اس عمل کے دوران قدرتی طاقتیں مسلسل اس کے ساتھ رہتی ہیں،اور کچھ نہیں۔ہم نے دیکھا کہ صرف محن ہی مادی دولت کا واحد ذریعہ نہیں،بلکہ اس کی تخلیق کردہ قدرِصرف ہی اس کی مرہونِ منت ہے۔جیسا کہ ولیم پیٹی( William petty )کہتا ہے:

محن کی اس [مادی دولت] کے باپ کی حیثیت حاصل ہے اور زمین کو ماں کی۔

اب ہم اشیاء کا جائزہ قدرِ صرف کے بجائے محض قدر کی حیثیت سے لیتے ہیں۔

ہمارا وہ فرضیہ جس کے تحت ہم نے کوٹ کو ململ سے دو چند تصور کیا تھا۔ یہ فرق صرف مقداروں کا فرق ہے جس سے ہمیں فی الوقت کوئی سروکار نہیں۔ہمیں یاد ہے کہ اگر کوٹ کی قدر کو 10گز ململ سے دو چند کر دیا جائے تو 20 گز ململ ایک کوٹ کے مساوی سمجھا جائے گا۔اب چونکہ یہ قدریں ہیں ،اور کوٹ اور ململ ایک ہی ماہیت رکھنے والی دو مختلف چیزیں ہیں ،یعنی معروضی طور پر متجانس محن کی ظاہری صورتیں۔لیکن سلائی اور بنائی اپنے خواص کی رو سے محن کی دو الگ اقسام ہیں۔تاہم سماج کے جن طبقات میں ایک ہی فرد کو سلائی اور بنائی کے ہر دو کام کرنے پڑتے ہیں،وہاں محن کی یہ دونوں اقسام انفرادی محن کی دو متفرق وضعیں بن جاتی ہیں۔یعنی ان پر دو افراد کی انفرادی صلاحیتیں صرف نہیں ہوتیں۔ اس کی مثال ایسے دی جا سکتی ہے کہ ایک درزی ایک دن کوٹ بنائے اور دوسرے دن شلوار قمیص۔مزید برآ ں ہم نے اس قاعدے پر بھی طائرانہ نگاہ دوڑائی جس کے تحت اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو


اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
اشیاء - موضوع کے دوسرے داخلے