اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 780
عنوان اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ
شاخ اشیاء
پڑھا گیا 222776
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ کے بنیاد
اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ - کی دوسری شاخیں-

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ


شاخ اشیاء
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

یہ&x=0'>سرمایہ دارانہ نظام والے معاشرے میں موجود محنِ انسانی کی نوعیت اپنے نظام کے تقاضوں کے تحت بدلتی رہتی ہے۔اگر اب یہ سلائی کا کام کر رہا ہے تو تب یہ بُنائی کا کام کرے گا۔محن کی یہ تبدیلی ظہور پذیر ضرور ہوتی ہے چاہے کسی بیرونی قوت کے تحت آئے۔

اگر ہم تخلیقی سرگرمی کی خاص شکل یعنی کار آمد محن کو نظر انداز کر دیں تویہ محض محنِ انسانی کا ضیاع رہ جائے گی۔سلائی اور بنائی اگرچہ اپنے خواص کی رو سے دو مختلف سرگرمیاں ہیں لیکن چونکہ یہ دونوں انسان کی ذہنی اور اعصابی صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں اس وجہ سے محنِ انسانی کا درجہ رکھتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ انسانی قوتِ محن کی دو مختلف وضعیں ہیں۔وہ قوتِ محن جو اپنی تمام متفرق صورتوں میں بھی اپنے خواص برقرار رکھتی ہے ،یقینا مادے کی مختلف وضعیں اختیار کرنے سے قبل تبدیلی کے مراحل سے ضرور گزرتی ہو گی۔لیکن ایک شے کی قدر محنِ انسانی کے مجرد روپ کا اظہار کرتی ہے،یعنی محن ِ انسانی کا عام اظہار۔جیسے ایک معاشرے میں جرنیل یا بینک آفیسر کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے جبکہ ایک عام آدمی بڑے معمولی کردار کا حامل ہوتا ہے 14؂ ، محنِ انسانی کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ وہی سادہ سی قوتِ محن ہے جو، کسی خاص نشوونما سے قطع نظر ،معاشرے کے ہر عام آدمی کی ذات میں موجود ہے۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس اوسط محن کی نوعیت مختلف ممالک اور مختلف اوقات میں ادلتی بدلتی رہتی ہے۔لیکن ایک مخصوص معاشرے میں یہ مستقل رہتی ہے۔ہنر یافتہ محن کی مثال محنِ عام کی شدید تر حالت کی ہے،یعنی محنِ عام کی بہتات۔دوسرے لفظوں میں ہنر یافتہ محن کی دی گئی مقدار محنِ عام کی نسبتاً زیادہ بڑی مقدار کے برابر سمجھی جائے گی۔تجربات سے معلوم ہوتاہے کی یہ تبدیلی مسلسل عمل کی صورت میں چلی آ رہی ہے۔ایک شے زیادہ ہنر یافتہ محن کی پیداوار ہو سکتی ہے ۔لیکن اس کی قدر کی تعیین محنِ عام ہی کو مدِ نظر رکھ کرکی جائے گی15؂ ۔وہ مختلف نسبتیں جو مختلف نوعیت کے محن کو غیر ہنر یافتہ محن کی صورت میں جانچنے کا پیمانہ بنتی ہیں ، اس خاص سماجی عمل کے نتیجے کے طور پر روایتی انداز میں وضع ہو جاتی ہیں جس کے ساتھ کارخانے دار کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔اپنی سہولت کی غرض سے ہم ہر قسم کے محن کو غیر ہنر یافتہ یا محنِ عام ہی تصور کرتے ہیں،تاکہ اپنے آپ کو تبدیلی کے عمل سے بچایا جا سکے۔

بالکل اسی طرح ،جب ہم کوٹ اور ململ کو محض اقدار کی صورت میں دیکھتے ہیں تو ان کی مختلف اقدارِ صرف کو ساقط کر دیتے ہیں ،یہی عمل ان کے محن کے ساتھ ہوتا ہے،مطلب یہ کہ ہم ان کی مفید حالتوں ،سلائی اور بنائی ،کو بھی محوِ نظر کر دیتے ہیں ۔ اقدارِ صر ف ہونے کے ناتے کوٹ اور ململ کپڑے اور دھاگے کے ساتھ دو مختلف سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں ،جبکہ محض اقدار ہونے کی حیثیت سے کوٹ اور ململ صرف ایک نا قابلِ تفریق محنِ متجانس ہی ہیں ۔چنانچہ موخرالذکر اقدار میں موجود محن کا اپنی نوعیت کی رو سے کپڑے یا دھاگے سے کچھ تعلق نہیں بنتا،بلکہ یہ ایک سادہ سا انسانی قوتِ محن بن کر رہ جاتا ہے۔کوٹ اور ململ کو سلائی اور بنائی اقدارِ صرف بنانے میں اہم کردار ضرور ادا کرتے ہیں ،وہ صرف اس لئے کہ یہ دونوں محن مختلف خواص کے حامل ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان کے انہی خواص کو ساقط کر دیں تو ان میں صرف محنِ انسانی کی وا حد صفت باقی رہ جائے گی،تو کیا سلائی اور بنائی ایک ہی قسم کے عناصر کی اقدار کی ماہیت کا تعین کرتے ہیں ؟

کوٹ اور ململ محض اقدار ہی نہیں ہیں،بلکہ مخصوص خواص کی حامل اقدار ہیں ؛اور ہمارے فرضیے کے مطابق کوٹ کی قدر دس گز ململ کی قدر سے دو چند ہے۔ان کی اقدار میں یہ فرق کیسے ہے؟بات سیدھی سی ہے،کہ ململ پر کوٹ کی نسبت آدھا محن صرف ہوا ہے۔نتیجہ یہ نکلاکہ آخرالذکر کی تیاری پر اوّل الذکر سے دو گونا وقت کا قوتِ محن صرف ہوا ہے۔

اب اگر قدرِ صرف کو مدِ نظر رکھا جائے تو ایک شے میں موجود محن کو محض معیار کے حوالے سے دیکھا جائے گا،جبکہ اگر صرف قدر کو مدِ نظر رکھا جائے تو اسے مقدار کی رو سے دیکھا جائے گا، چنانچہ پہلے اسے خالص سادہ محن میں بدلا جائے گا۔پہلا مسئلہ،‘ کیونکر ’اور‘ کیا’کا سوال اٹھاتا ہے ،جبکہ دوسرے مسئلے میں ‘کتنا’یا‘‘کتناوقت ’کا سوال جنم لیتا ہے۔چونکہ کسی شے کی قدر کا اجماع صرف اس میں موجود مقدارِ محن کا تعین کرتاہے اس لئے اس اصول کے تحت تمام اشیاء کی مخصوص مقداریں قدر کی رو سے برابر ہونی چاہئیں۔

اگر ایک کوٹ کی تیاری کے لئے مطلوب مختلف اقسام کے تمام محن کی تخلیقی قوت یکساں رہے تو جوں جوں ان کی تعداد میں اضافہ ہو گا توں توں ان کی اقدار بھی بڑھیں گی۔اگر ایک کو ٹ پر صرف محن لا وقت ہو تو دو2 کوٹوں پر صرف محن 2لاوقت کے برابر ہو گا۔فرض کریں کہ ایک کوٹ کی تخلیق کے لئے درکاروقت محن اگر دو چند یا نصف ہو جائے تو پہلی صورت میں ایک کوٹ کی قدر پہلے کی نسبت دو گونا ہو جائے گی اور بصورتِ دیگر دو کوٹ پہلے کی نسبت ایک کوٹ کی قدر کے رہ جائیں گے۔اور دونوں صورتوں میں ان میں مجسم محنِ مفید ایک ہی معیار کا رہ جائے گا۔جبکہ اس کی تیاری کے لئے درکار مقدارِ محن میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔

قدرِ صرف کی مقدار میں اضافہ درا صل مادی دولت میں اضافہ ہی ہے۔دو کوٹوں دو آدمیوں کا بدن ڈھانکیں گے جبکہ ایک کوٹ صرف ایک آدمی کے استعمال میں آئے گا۔تاہم مادی دولت کی بڑھتی ہوئی مقدار کے ساتھ ساتھ اس کی قدر کے حجم میں کمی بھی آ سکتی ہے۔ [اقدارکی] یہ مخاصمانہ تبدیلی محن کی دو رخی خاصیت کی بنا پر ظہور پذیر ہوتی ہے۔تخلیقی قوت کا تعلق یقیناً محنِ مفید کے اصراف کی کسی مقرونی شکل کے ساتھ ہوتا ہے،اور ایک وقت میں کسی بھی تخلیقی سرگرمی کی اثر پذیری اپنی تخلیقی صلاحیت پر منحصر ہو تی ہے۔جس تناسب میں محنِ مفید کی تخلیقی صلاحیت میں کمی یا اضاہوتا ہے اسی تناسب میں مصنوعات میں اس کی مقدار بھی گھٹتی بڑھتی ہے۔دوسری طرف اس تخلیقی صلاحیت کی کمی بیشی کا اس محن پر کوئی اثر نہیں پڑتا جو محض قدر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔چونکہ تخلیقی قوت محن کی مفید مقرونی صورتوں کا وصف بنتی ہے اس لئے جب تک ہم اس کی ان مقرونی حالتوں کو علیحدہ کر کے نہیں دیکھیں گے اس وقت تک محن میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئے گی۔تاہم تخلیقی قوت میں تبدیلی کے باوجود وقت کے مساوی وقفوں کے دوران استعمال ہونے والا محن، قدر کی ایک جیسی مقداریں ہی دے گا۔مگر یہ[محن]وقت کے مساوی وقفوں کے دوران تخلیقی قوت کو بڑھانے سے استعمال کی زیادہ قدریں دے گا، اور کم کرنے سے کم۔تخلیقی قوت کی یہی تبدیلی اقدارِ صرف کی اس بڑھی ہوئی مقدار کی مجموعی قدر میں کمی کا باعث بن جائے گی،جو محن کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہے،اور جس کے نتیجے کے طور پر اس محن سے پیدا شدہ قدرِ صرف کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ تاہم اگر [تخلیقی قو




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

اشیاء میں مجتمع محن کا دو رخا خاصہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
اشیاء - موضوع کے دوسرے داخلے