انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 822
عنوان انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 216606
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں - کی دوسری شاخیں-

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

فصلِ سوم:

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں

اب تک ہم نے دیہاڑی کو طویل کھینچنے کے رجحان کے بارے میں غور و فکر کیا ہے؛ یعنی ایک انگریز بورژوا معیشت دان کے بقول انسان نما بھیڑیوں کی ایک ایسے شعبے میں محنِ زائد کے لیے ہوس جن کے غیر انسانی تقاضے اُن مظالم سے کسی طرح بھی کم نہیں جو اہلِ اسپین سُرخ چمڑی والے امریکیوں 31؂سے کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخر کار سرمائے پر قانونی حد بندیاں لاگو کر دیں گئیں۔ اب ہم پیداوار کی اُن شاخوں پر نگاہ دوڑاتے ہیں جن میں مزدور کا استحصال تمام تر پابندیوں سے آزاد ہے یا اب سے کچھ عرصہ قبل یہ صورت احوال تھی ۔

14جنوری 1860کو ناٹنگھم میں اسمبلی رومز کے مقام پر منعقد ہو نے والے ایک اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ مسٹر براؤٹن نے بطور چیئر مین کہا : آبادی کا جو حصہ لیس کا مال بنانے سے متعلق ہے اُن کی زندگی اتنی زیادہ محرومیوں اور دکھوں سے بھری پڑی ہے کہ اس کی مثال انگلستان، بلکہ مہذب دنیا میں کہیں نہیں ملتی...۔نو دس سال کے بچوں کو ان کی ٹوٹی پھوٹی چارپایوں سے سحر کے تین یا چار بجے کھینچ لیا جاتا ہے اور ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ رات دس گیارہ بجے تک محض قوتِ لا یموت حاصل کرنے کے لیے کام کریں وہ بھی ایسی حالت میں کہ جب اُن کے پنجرمررہے ہیں ، ان کے جسم تحلیل ہو رہے ہیں، اُن کے ہاتھ پاؤں بے جان ہورہے ہیں، اُن کے چہرے پیلے پڑرہے ہیں، اور ان کی روح پتھر جیسے سکوت میں ڈوبتی چلی جاتی ہے ایک ایسی حالت جس کا بیان انتہائی دہشت ناک ہے...۔کوئی عجب نہیں کہ مسٹر میلٹ یا کوئی دوسرا کارخانہ دار اس گفتگو پر آوازِ احتجاج بلند کرے...۔ جیسا کہ Rev. Montagu Valpyنے بھی کہا ہے کہ یہ نظام سماجی ، جسمانی ، اخلاقی، اور روحانی طور پر سخت غلامی کی حیثیت رکھتا ہے...۔ ایک ایسے قصبے کے بارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے جو ایک اجلاس میں یہ مطالبہ کریں کہ مردوں کے لیے مُدتِ محن کو کم کر کے دن کے اٹھارہ گھنٹے کر دینا چاہیے؟.... ہم ورجینا اور کیرولینا کے روئی کے کاشتکاروں کے خلاف تقریریں کر لیتے ہیں۔....تو کیا ان کی چور بازاری ، ان کے تازیانے ، اور ان کی انسانی گوشت کی تجارت انسانیت کی اُس مسلسل اور خاموش قربانی سے زیادہ قابلِ نفرین ہے جس کا مقصد سرمایہ داوروں کے فائدے کے لیے کالر اور نقابیں بنانا ہے؟32؂

گزشتہ 22سال کے دوران Staffordshireکے ظروف سازی کے کارخانوں کے بارے تین بار پارلیمانی تحقیقات کی گئی ہیں۔ ان [تحقیقات] کے نتائج Mr. Scrivens Report of 1841میں موجود ہیں جوChildrens Employment Commissionerکے رو برو پیش کی گئی؛ دوسرے Dr. Greenhowکی 1860 کی رپورٹ میں ، یہ رپورٹ Privy Councilکے میڈیکل آفیسر کے حکم سے شائع کی گئی( Public Heath, 3rd Report 112, 113)اور آخری مسٹر کونگے کی 1862کی رپورٹ میں یہ First Report of the Childrens Employment Commission, of the 13th June 1863. ۔ میرے مدعا کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ1860اور 1863کی رپورٹوں میں سے استحصال کے مارے خود ان بچوں کے حال کا کچھ بیان کروں۔ اُن بچوں کی صورتِ حال سے ہم جوانوں کی حالت کا اندازہ بھی کر سکیں گے، بالخصوص لڑکیوں اور عورتوں کا وہ بھی صنعت کی اُس شاخ میں جس کے آگے روئی کی کتائی کا کام بڑا دل کشا اور صحت مندانہ معلوم ہوتا ہے۔ 33؂

9سال کے ولیم وُوڈ نے جب کام کا آ غاز کیا تھا تو اُس کی عمر 7سال اور 10ماہ تھی۔وہ مٹی کے برتنوں کے سانچے لانے اور لے جانے کا کام کرتا تھا(سانچے میں تیار شدہ چیزوں کو بھٹی میں لے جانا اور اس کے بعد خالی سانچوں کو واپس لے کر آنا) ۔ وہ روزانہ صبح 6بجے اپنے کام پر آتا اور رات 9بجے کام سے فارغ ہوتا۔ میں ہفتے کے 6کے6 دن رات 9بجے تک کام کرتا ہوں۔ اور تقریباً سات آٹھ ہفتے میرا یہی معمول رہا۔ سات سالہ بچے کے لیے 15گھنٹے کاکام !12سال کا جے مَرے کہتا ہے: میں پیالے بناتا ہوں اور سانچے لاتا لے جاتا ہوں۔ میں 6بجے آتا ہوں اور بعض وقت 4بجے۔ پچھلے دن میں ساری رات صبح6بجے تک کام کرتا رہا۔ اور گزشتہ سے پیوستہ رات سے اب تک سو نہیں سکا۔ پچھلی رات آٹھ نو اور لڑکے بھی کام کر رہے تھے۔آج اُن میں سے ایک کے علاوہ سب آئے ہیں۔ میں 3شلنگ اور 6پینس لیتا ہوں۔رات کے کام کا مجھے کچھ نہیں ملتا۔ پچھلے ہفتے میں نے 2راتیں لگائیں۔ Fernyhoughنامی ایک دس سال کا بچہ کہتا ہے: مجھے کبھی بھی( کھانے کے لیے )پورا گھنٹہ نہیں ملا۔ کبھی کبھار مجھے آدھا گھنٹہ مل جاتا ہے؛ مثلاً جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو۔ 34؂

ڈاکٹر گرین ہاؤ کہتا ہے کہ Stoke-on-TrentاورWalstantonکے ظروف سازی کے اضلاع میں لوگوں کی اوسط عمر حیرت انگیز طور پر تھوڑی ہے۔ اگرچہ Stokeکے ضلعے میں 36.6%اور Wolstantonمیں صرف 30.4% بیس سال سے زیادہ عمر کے مردحضرات کو ظروف سازی کے کارخانوں میں ملازمت دی جاتی ہے۔ اول الذکر ضلع کے اس عمر کے ظروف سازلوگوں میں سے آدھے سے زیادہ نوجوان ، اور دوسرے ضلعے میں کُل اموات کا تقریباً -03 پھیپھڑوں کے امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر باتھرائڈ جو Hanleyکے مقام پر طبی فرائض سر انجام دے رہا ہے کہتا ہے: ظروف سازوں کی ہر آنے والی نسل پہلی کی نسبت پستہ قامت اور لاغر ہے۔اسی طرح ایم بین نامی ایک اور ڈاکٹر کہتا ہے: جب 25سال قبل اُس نے مٹی کے برتن بنانے والوں کا علاج معالجہ شروع کیا تب سے لے کر اب تک اُس نے مشاہدہ کیا ہے کہ جسامت اور تنومندی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔یہ بیانات ڈاکٹر گرین ہاؤ کی 1860کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔35؂

1863کی کمشنرز کی رپورٹ میں North Staffordshire Infirmaryکا ایک سینئر فزیشن ڈاکٹر جے .ٹی . آرلیگ کہتا ہے: مٹی کے برتن بنانے والے مردوز ایک معاشرتی طبقے کی رو سے جسمانی اور اخلاقی ہر دو اعتبار سے رو بہ زوال آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک عام اصول یہ ہے کہ ان کی نشوونما رُک جاتی ہے ، جسامتیں بے ڈول ہو جاتی ہیں، سینہ بے ڈھب ہو جاتا ہے ،وہ وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں اور یقینا ان کی اموات بھی قبل از وقت ہو جاتی ہیں۔ وہ بلغم تھوکتے ہیں اور بھس کے مریض ہوتے ہیں۔ ضعفِ معدہ کے شدید حملے، جگر کی خرابی، گُردے اور گنٹھیا کے امراض سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی صحت بڑی خراب ہے۔جن بیماریوں کا وہ سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں اُن میں امراضِ سینہ ، نمونیہ، سِل، نرخرے کا ورم اور دمہ شامل ہیں۔ ایک بیماری اُن سب میں مخصوص طور پر پائی جاتی ہے جس کو مٹی کے برتن بنانے والوں کا دمہ، یا برتن بنانے والوں کا دق کہتے ہیں۔Scrofulaخنازیر کی بیماری جو غدودوں ، یا ہڈیوں یا جسم کے دیگر حصوں پر حملہ آور ہوتی ہے، ایک ایسی بیماری ہے جس میں دو تہائی سے بھی زیادہ ظروف ساز مبتلاہوتے ہیں....۔اس ضلع کی آبادی کی یہ ابتر صورتحال شدید تر ہو سکتی تھی مگر قریب و جوار کے علاقوں سے لوگوں کی برابر بھرتی ا




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں ان داشلائوں میں استعمال ھے
انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے