انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 822
عنوان انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 216599
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں - کی دوسری شاخیں-

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ور زیادہ صحت مند لوگوں سے ازدواج کی وجہ سے یہ سلسلہ کم ہو گیا ہے۔36؂

اسی ادارے کا ایک معروف سرجن مسٹر چارلس پارسن اپنے ایک خط بنام کمشنر لانگی میں دیگر جزیات کے علاوہ یہ بھی لکھتا ہے : میں دفتری اعدادوشمار کے مطابق نہیں بلکہ اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر بات کر سکتا ہوں؛ لیکن میں یہ بات کہتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا کہ اُن غریب بچوں کی حالت دیکھ کر مجھے بہت غصہ آتا ہے جن کی صحت یا تو ان کے والدین یا پھر مالکان کی ہوس پر قربان ہو جاتی ہے۔ وہ مٹی کے برتن بنانے والوں کی امراض کے اسباب کو ایک ایک کر کے بیان کرتا ہے اور ان کا خلاصہ طویل اوقات کار کے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ اس بات پر پورا یقین رکھتی ہے کہ: ایسی مصنوعہ جس نے پوری دنیا میں اتنا بلند مقام حاصل کر لیا ہو بہت عرصہ نہیں لگے گا کہ اس پر یہ مہر ثبت ہو جائے کہ [دنیا میں] اس کی عظیم کامیابی اس پر کام کرنے والوں کی جسمانی خستہ حالی ، طویل ترین جسمانی مشقتوں، اور قبل از وقت اموات کے سبب ہی ممکن ہوئی ہے .... جن کے محن اورہنر مندی کی وجہ سے اتنے عظیم نتائج حاصل ہو سکے ہیں۔37؂پھر جو باتیں انگلستان کے مٹی کے برتن بنانے والے کارخانوں کے بارے میں درست ہیں سکاٹ لینڈ پر بھی اُسی قدر صادق آتی ہیں۔38؂

ماچس سازی کا آغاز 1833میں فاسفورس کو خود ماچس [کی تیلی] کے ساتھ لگانے کی دریافت کے ساتھ ہوا۔1845سے اس صنعت نے انگلستان میں بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔یہ کاروبار نہ صرف لندن بلکہ مانچسٹر، برمنگھم، لیورپول، برسٹل ،ناروِچ، نیوکیسل اور گلاسگو جیسے گنجان آباد علاقوں میں پھیل گیا۔ اس[کاروبار] کے ساتھ ساتھ کزاز (lockjaw)کی بیماری بھی پھیل گئی ۔ اس بیماری کے بارے میں ویانا کے ایک طبی ماہر نے 1845میں دریافت کیا کہ یہ بیماری ماچس بنانے والوں سے مخصوص ہوتی ہے۔ کام کرنے والوں میں سے آدھے تیرہ سال سے کم عمربچے اور اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوان ہیں۔ یہ صنعت اپنی غیر صحت مندانہ ،نا سازگار اور نا خوشگوار بد بو کی وجہ سے اتنی زیادہ نا پسند کی جاتی ہے کہ اس میں مزدور طبقے کا انتہائی نچلادرجہ ہی کام کرتاہے؛ جیسے نیم فاقہ کش بیوائیں وغیرہ اس کام پر اپنے ،چیتھڑوں میں ملبوس، نیم فاقہ کش اور ان پڑھ بچوں کوبھیجتی ہیں۔کمشنر وہائٹ نے( 1863)جن لوگوں کی شہادتیں اکٹھی کیں اُن میں 270اٹھارہ سال سے کم عمر کے تھے، 50دس سال سے کم، 10کی عمر صرف آٹھ سال تھی، اور پانچ بچے صرف چھ چھ سال کے تھے۔رہی دیہاڑیوں کی بات تو یہ 12سے14یا15گھنٹے ؛ اور رات کی ڈیوٹی کھانے کے بے قاعدہ اوقات، اُن کمروں میں کھانا جن میں فاسفورس بھرا رہتا ہے۔ اس کارخانے کی حالت کے سامنے دانتے کی جہنم کی دہشت ناکیاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں۔39؂

کاغذ کی آویزاں کرنے والی مصنوعات میں کھردرے قسم کے کاغذ کی چھپائی مشین سے کی جاتی ہے اور نفیس قسم کے کاغذ کی چھپائی ہاتھ سے ہوتی ہے(بلاک پرنٹنگ)۔ اکتوبر کے آغاز سے اپریل کے اختتام تک کام کے تیزی کے مہینے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کام اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ صبح 6بجے سے رات10بجے تک یا پھر اس سے بھی دیر تک بغیر رُکے جاری رہتا ہے۔

جے لیچ کہتا ہے: گزشتہ سردیوں میں انیس میں سے چھ لڑکیاں کام پر اس وجہ سے نہ آسکیں کہ کثرتِ کار کی وجہ سے بیمار پڑ گئیں تھیں۔ اُن کو جاگتا رکھنے کے لیے مجھے ان پرچیختا پڑتا تھا۔ ڈبلیو ڈَفی W. Duffyکہتا ہے: میں نے دیکھا کہ ایسا وقت آتا ہے کہ کوئی بھی بچہ کام کے لیے اپنی آنکھیں کھلی نہیں رکھ سکتا؛ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ جے لائٹ بورن کہتا ہے:میری عمر 13سال ہے.....پچھلی سردیوں میں ہم شام 9بجے تک کام کرتے تھے، اور گزشتہ سے پیوستہ سردیوں میں دس بجے تک۔ میں پچھلی سردیوں میں روزانہ رات کے وقت پاؤں پھول جانے کی وجہ سے چلا اٹھتا تھا۔ جی ایپسڈن کہتا ہے: میرا وہ بچہ ...جب سات سال کا تھا تو میں اس کو اپنے کندھوں پر اٹھائے برف پر سے چلا پھرا کرتا تھاوہ دیہاڑی کے16گھنٹے کام کرنے کا عادی تھا....۔ جب وہ مشین پر کام کر رہا ہوتا ہے اس وقت میں نے اکثر اس کو جھک کر کھانا کھلایا ہے، کیونکہ نہ وہ اس کو چھوڑ سکتا ہے اور نہ بند کر سکتا ہے۔ مانچسٹر کی ایک فیکٹری کے انتظامی شریک سمتھ سے کہا: ہم( اس ہم سے اُس کی مراد اُس کے وہ مزدور ہیں جو ہمارے لیے کام کرتے ہیں )کھانے کا وقفہ کئے بغیر اس لیے کام کئے جاتے ہیں کہ -03گھنٹے کا کام شام 4:30پر ہی ختم کر لیا جائے، اور اس کے بعد کا سارا کام مقررہ اوقات سے زیادہ ہے۔40؂(کیا مسٹر سمتھ صاحب خود ان -03گھنٹوں کے دوران کوئی کھانا نہیں کھاتے؟ )ہم( سمتھ صاحب پھر سے گویا ہوتے ہیں )شام چھ بجے سے قبل شاز ہی کام چھوڑتے ہیں( وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ ہماری وقتِ محن خرچ کرنے والی مشین )تا کہ ہم( یعنی وہی مزدور )سارا سال مقررہ وقت سے زیادہ کام کرتے رہیں....۔ ان تمام بچوں اور جوانوں کے لیے( 152بچے اور نوجوان اور 140بالغ )گزشتہ 18مہینے کا کام اوسطاً 7دن اور 5گھنٹے یا -03گھنٹے فی ہفتہ بنتا ہے۔اس سال 2مئی 1862کو ختم ہونے والے باقی چھ ہفتے کی اوسط اس سے بھی زیادہ، یعنی آٹھ دن یا پھر 84گھنٹے فی ہفتہ بنتی ہے۔ اب بھی یہی مسٹر سمتھ صاحب جو اس قدر شریفانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہیں مسکراتے ہوئے کہتے ہیں: مشین کا کام کوئی بڑا کام نہیں ہے ۔ اسی طرح بلاک پرنٹنگ کے مالکان کہتے ہیں: مشینی محن کی نسبت دستی محن زیادہ صحت مندانہ ہے۔ مجموعی طور پر مالکان اس تجویز کی نفرت سے مخالفت کرتے رہے ہیں کہ مشین کو کم از کم کھانے کے اوقات میں [ضرور]بند رکھا جائے۔ بارو کے مقام پر ایک وال پیپر بنانے والی فیکٹری کا منیجر مسٹر اوٹلے کہتا ہے: وہ [قانونی ]دفعہ ہمارے لیے نہایت موزوں ہو گی جو ہمیں صبح6بجے سے شام9بجے تک کام کرنے کی اجازت مرحمت کر دے(! )بالکل ٹھیک لیکن فیکٹری کے اوقات کار صبح6بجے سے شام6بجے تک ہمارے لیے موزوں نہیں ٹھہرتے۔ ہماری مشین کھانے کے اوقات میں ہمیشہ بند رہتی ہے۔(کتنی بڑی عنایت ہے! )کہنے کو تو نہ کوئی کاغذ ضائع ہوتا ہے اور نہ رنگ استعمال میں آتا ہے۔وہ ہمدردانہ انداز میں کہے چلا جاتا ہے: لیکن میں یہ بات تو سمجھ سکتاہوں کہ وقت کا ضیاع قابلِ برداشت نہیں ہوتا۔ کمیشن بڑی سادگی سے رائے زنی کرتی ہے کہ کچھ بڑے کارخانوں کو درپیش وقت کے ضیاع کا خطرہ، یعنی اُس وقت کے ضیاع کا جس کے دوران دوسروں کا محن حاصل کیا جاتا ہے اور اس بناپر اپنا نفع کھو دینا کوئی ایسی معقول وجہ نہیں کہ 13سال سے چھوٹے بچوں اور 18سال سے چھوٹے نوجوانوں کو 12سے16گھنٹے تک کے لیے کام کرنے کی اجازت دی جائے کہ وہ اپنا کھانا بھی نہ کھا سکیں، نہ ہی اس کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ انہیں یہ اس طرح دیا جائے جیسے پیداوار ی عمل میں آلات محن




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں ان داشلائوں میں استعمال ھے
انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے