انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 822
عنوان انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 216615
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں - کی دوسری شاخیں-

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

کے معاون مواد کے بطور بھاپ کے انجن کو پانی اور کوئلہ مہیا کیا جاتا ہے ؛یا صابن اون کو ؛ یا پہیوں کو تیل دیا جاتا ہے ۔41؂

جیسا سلطنتِ روما کے شعرا کے مطالعے سے پتا چلتا ہے انگلستانی صنعت کی(ہم اُن کارخانوں کو زیرِ بحث نہیں لائے جن میں روٹی بنانے کا مشینی طریقہ حال ہی میں متعارف ہوا ہے )کسی بھی شاخ میں پیداوار کا اتنا فرسودہ اور اتنا قبل از مسیح کے زمانے کا نظام اِس وقت مروج نہیں جتنا نانبائی کے کام میں ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ سرمایہ ابتدا میں عملِ محن کے تکنیکی خاصے کے بارے اتنا غرض مند نہیں ہوتاتھا ، اِس [سرمائے] نے تکنیکی عنصر کو جیسا پایا ویسا ہی اختیار کر لیا۔

روٹی میں کی جانے والی نا قابلِ یقین ملاوٹ جس میں لندن خاص [طور پر قابلِ ذکر ] ہے اُس کا انکشاف سب سے پہلے ہاؤس آف کامنز کمیٹی کی خوراک کی جملۂ مصنوعات میں ملاوٹ رپورٹ( 1855-56)؛اور ڈاکٹر ہیزل کی کتاب ملاوٹ کی نشان دہی42؂ میں کیا گیا۔ ان انکشافات کا نتیجہ 6اگست 1860کے قانون اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کی روک تھام کی صورت میں برآمد ہوا۔لیکن یہ ایک بے اثر قانون ہے ، ظاہر ہے اس لئے کہ یہ ہر اُس آزاد تاجر کے ساتھ لچک کی گنجائش رکھتا ہے جو ملاوٹ شدہ چیزوں کی خرید وفروخت سے ہر پیسہ ایمان داری سے کماتاہے۔43؂کمیٹی نے قریب قریب بچگانہ انداز میں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ آزاد تجارت سے مراد درحقیقت ملاوٹ کی تجارت ہے یا جس طرح انگریز بڑے با ذہانت انداز میں انہیں نفیس اشیاکہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی لفظی شعبدہ بازی Protagorasسے بھی زیادہ یہ علم رکھتی ہے کہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کیسے کیا جا سکتا ہے ؛ اور Eleatics الیائی [فلسفیوں] سے بھی زیادہ جانتی ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز محض ہماری آنکھوں کے سامنے ظواہر ہی ہے۔44؂

ہر موقعے پر کمیٹی نے عوام کی توجہ اُن کی روزانہ کی روٹی کی جانب مبذول کروائی ہے چنانچہ بیکریوں کی مکمل تجارت کی جانب بھی۔ ساتھ ہی ساتھ عوامی جلسوں اور پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی درخواستوں میں بھی لندن کے جرنیمین نانبایوں کے کثرتِ کار وغیرہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی ہے۔یہ نعرے اتنے بلند تھے کہ مسٹر ایچ. ایس. ٹریمن ہیری( جو اُس1863والی کمیشن کا رُکن بھی تھا جس کا بار ہا ذکر آچکا ہے )کوتفتیش کا رائل کمشنر مقرر کر دیا گیا۔ اس کی رپورٹ 45؂نے شہادتوں کے ساتھ مل کر عوام کے دل کو تو حرکت نہ دی البتہ اُن کے پیٹ ضرورمتحرک کر دیے۔انگریز جو بائبل کی جان کاری میں ہمیشہ آگے رہے ہیں اس بات کو بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ انسان کو_ یہ الگ بات ہے کہ وہ خوش قسمتی سے کوئی سرمایہ دار ، یا زمیندار یا پھر بے کام کے عہدے کا تنخواہ دار ہو_اس کے لئے حکم ربی ہے کہ اپنی روٹی محنت سے کمائے،لیکن وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ اُس کو روزانہ اپنے کھانے کے ساتھ تھوڑا سا انسانی پسینہ جس میں پیپ، مکڑی کے جالے ، مردہ بھنورے اور عفونت خیز جرمن خمیر بھی کھانا پڑتا ہے۔رہی پھٹکڑی، ریتا، اوردوسری قابلِ برداشت دھاتیں،تو ان کی آمیزش باقی چیزوں کے علاوہ ہے۔ چنانچہ آزاد تجارت کے تقدس کا پاس رکھے بغیر نان بایوں کی آزاد تجارت کو سرکاری انسپکٹروں کی نگرانی میں لے لیا گیا( 1863کے پارلیمانی سیشن کے اختتام پر )اور پارلیمنٹ کے اسی قانون کے تحت رات 9بجے سے لے کر صبح 5بجے تک 18سال سے کم عمر کے جرنیمین نان بایوں کے لیے کام کرنے کی ممانعت کر دی گئی ۔[رپورٹ کی] آخری دفعہ پرانے طرز کی اس گھریلو اندازِ تجارت میں کثرتِ کار کی موجودگی کے بارے بہت کچھ بتاتی ہے۔

لندن کے ایک دوسروں کے لئے کام کرنے والے [جرنیمین] نان بائی کا کام عموماً رات کے تقریباً11بجے شروع ہوتا ہے۔رات کے ان اوقات میں وہ خمیر تیار کرتا ہے_خمیر تیار کرنا ایک ایسا مشقت طلب کام ہے کہ جس پر آدھے سے پون گھنٹہ تک خرچ آتا ہے جس کا دارومدار پتیرے (batch)کی مقدار اور اس پر لگنے والے محن پر ہے۔ پھر وہ آٹا گھوندھنے والے تختے پر لیٹ جاتا ہے یہ تختہ خمیر گوندھنے والے ناندکے ڈھکنے کا کام بھی دیتا ہے اس کے نیچے ایک چاندنی بھی ہوتی ہے جس سے وہ بچھونے کا کام لیتا ہے؛ ایک دوسری چاندنی سے وہ تکیے کا کام لیتا ہے، وہ تقریباً دو گھنٹے کی نیند لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ پانچ گھنٹے کے لیے تھکا دینے والے اور تیز کام میں جُٹ جاتا ہے_کبھی خمیر کو باہر کھینچتا ہے، کبھی اس کو آٹے سے توڑ کر الگ کرتا ہے، کبھی اس کو گوندھتا ہے، کبھی بھٹی میں رکھتا ہے پھر ان کے رول بناتا ہے اور عمدہ ڈبل روٹیاں تیار کرتا ہے؛ پھر تیار شدہ ڈبل روٹیوں کو بھٹی سے باہر نکال کر ان کو دکان کی زینت بناتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ایک بیکری کا درجہ حرارت 75ڈگری سے لے کر 90ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ قدرے چھوٹی بیکریوں میں تو اس سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ جب ڈبل روٹی اور رول وغیرہ بنانے کا کام ختم ہو جاتا ہے تو اس کی ترسیل شروع ہوتی ہے۔ اور اس پیشے سے متعلقہ پھیری والوں کی ایک معقول تعداد رات کی سخت محنت کے بعد (جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے)دن کے اوقات میں بھی روٹی والی ٹوکریاں اٹھائے ہوئے ، یا پہیوں والی ریڑھیاں گھسیٹتے ہوئے گھنٹوں پیدل چلتے ہیں۔ اور بعض وقت واپس بیکری میں آ جاتے ہیں؛ کام کو سال کے موسم کے حساب سے، یا پھر اپنے مالک کی طرف سے ذمے لگائے گئے کام کی نوعیت اور مقدار کے حساب سے دوپہر 1بجے سے شام6بجے کے درمیان کسی بھی وقت چھوڑتے ہیں۔ جب کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بیکری میں آکرشام تک مزید روٹیاں تیار کرتے ہیں۔46؂....جب لندن کا سیزن شروع ہوتا ہے تو ا س دوران میں وہ کار کنان جو شہر کے مغربی حصے سے تعلق رکھنے والے کُل قیمتی نان بایوں میں شمار ہوتے ہیں ؛ عام طور پر کام کا آغاز رات 11بجے کرتے ہیں اور ایک یا دو چھوٹے چھوٹے آرام کے وقفوں کے علاوہ(جو بہت ہی قلیل ہوتے ہیں )اگلے دن آٹھ بجے تک اپنے کام میں جُٹے رہتے ہیں۔ پھر وہ اگلا سارا دن چار، پانچ، چھ، بعض وقت سات بجے تک بھی روٹیاں باہر لاتے رہتے ہیں؛ اور کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بسکٹوں کی تیاری میں مدد کے لیے شام کے وقت بیکری میں واپس بھی آ جاتے ہیں۔ اور جب وہ اپنا کام ختم کر چکتے ہیں تو ممکن ہے کہ اُن کے پاس سونے کے لیے پانچ چھ گھنٹے بچ جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ صرف چار گھنٹے ہی بچیں۔اکثر جمعوں کو وہ کام کا آغاز جلد ہی کر دیتے ہیں، غالباً 10بجے کے قریب اور بعض وقت کام اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ان کو ہفتے کی رات آٹھ بجے تک کام کرنا پڑتا ہے لیکن اکثر اوقات اتوار کی شام 4یا 5بجے تک کام ہوتا رہتا ہے۔ اتواروں کو تمام ملازمین کے لیے کہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ دن میں دو تین چکر لگا لیں تاکہ اگلے دن کے لیے روٹی کی تیاری کے لیے پیش بندی کی جا سکے۔.... جن لوگوں کو کم قیمت روٹیاں بیچنے والے مالکان نے (جو اپنی روٹی کو کُل قیمت




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں ان داشلائوں میں استعمال ھے
انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے