انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 822
عنوان انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 216616
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں - کی دوسری شاخیں-

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ے کم پر بیچتے ہیں، اور جن کی ماقبل ہی نشاندہی ہو چکی ہے؛ جو لندن کے نان بایوں کا تین چوتھائی ہیں )ملازم رکھا ہوتا ہے ان کو نہ صرف اوسطاً زیادہ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کا کام بھی بیکری کے اندر ہی محدود رہتا ہے۔ کم نرخ پر فروخت کرنے والے مالکان عموماً اپنی روٹیاں ....دکان پر بیچتے ہیں۔اگر وہ ان کو باہر بھیچ دیں جو عام رجحان نہیں ہے سوائے موم بتیاں بنانے والے کی دکان پر ؛ تووہ [مالکان] عموماً اس مقصد کے لیے دوسروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ اُن کا کام روٹیوں کو گھر گھر لیے پھرنا نہیں ہے۔ ہفتے کے اختتام پر مزدور کام کا آغاز رات کے 10بجے کرتے ہیں اور ما سوائے تھوڑے سے توقف کے ہفتہ کو رات گئے تک کام کرتے رہتے ہیں۔47؂

بورژوا سوچ رکھنے والا شخص بھی کم نرخوںوالے مالکان کی پوزیشن کو سمجھ سکتا ہے۔ لوگوں کے جس محن کی ادائیگی نہیں کی جاتی اس کو ہر اس جگہ پر ذریعہ بنایا جاتا ہے جس جگہ مقابلہ ہو۔48؂ اور پورے نرخ والے نانبائی اپنے مدِ مقابل کارخانہ دار پرغیر ملکی محن چور اور ملاوٹ کے الزام لگاتے ہیں۔ اب وہ پہلے توعوام کو دھوکا د ے کر، پھراپنے مزدوروں سے 12گھنٹے کی اجرت میں 18گھنٹے کام لے کر اپنا وجود بنائے ہوئے ہیں۔49؂

ڈبل روٹی میں ملاوٹ اور ڈبل روٹی کو اس کی اصل قیمت سے کم پر بیچنے والے بھٹیاروں کے طبقے کا وجود اٹھارویں صدی کے آغاز میں ظاہر ہوا؛ یعنی اس وقت سے جب اجتماعی تجارت کے رجحان کا خاتمہ ہو چکا تھا، اور سرمایہ دار آٹے کی مِل یا آٹے کی فیکٹری چلانے والے کی شکل میں برائے نام نان بائیوں کی پشت پر ظاہر ہوا۔50؂ شعبۂ ھٰذا میں سرمایہ دارانہ پیداواری نظام کا آغاز اسی طرح ہوااور دیہاڑی کی لا محدود طوالت اور رات کے محن کا بھی،اگرچہ آخرالذکر خود لندن میں 1824سے مضبوط بنیادوں پر استوار ہوا۔51؂

مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کمیشن کی رپورٹ دوسروں کے لئے کام کرنے والے نان بائیوں کو ان مزدوروں میں شامل کرتی ہے جو خوش قسمتی سے مزدور پیشہ بچوں کی طرح نہیں جن میں سے ہر دسواں جلد ہی مر کھپ جاتاہے اورجو شازونادر 42سال کی عمر تک پہنچ پاتا ہے۔تاہم نان بائیوں کے پیشے میں ہمیشہ نئے ملازمین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ محن کی ان قوتوں کی لندن تک کی رسائی کے وسیلوں میں سکاٹ لینڈ، انگلستان کے جنوبی زراعتی علاقے اور جرمنی شامل ہیں۔

1858-60کے سنین میں دوسروں کے لئے کام کرنے والے نان بائیوں نے اپنے خرچے خود برداشت کرتے ہوئے آئر لینڈ میں راتوں اور اتوار کے دن ہونے والے کام کے خلاف احتجاجی جلسوں کا اہتمام کیا۔آئر لینڈ کے عوام نے مئی 1860 میں ڈبلن میں ہونے والے احتجاج میں عوامی جوش وخروش سے حصہ لیا۔ اس تحریک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ویکس فورڈ، کیل کینی، کلومل اور واٹر فورڈ وغیرہ میں صرف دن کی شفٹ چلا دی گئی۔ لائم رِک میں جہاں پر پھیری والے اپنی شکایات کی بنا پر انتہا پسند ثابت ہو ئے وہاں پر مالک نان بائیوں کی سخت مخالفت کی وجہ سے تحریک ناکام ہو گئی، ان میں سب سے طاقت ور حریف مِل والا نان بائی ثابت ہوا۔ لائم رِک کی مثال سے اینس اور ٹپی ریری میں جاری تحریکوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کورک جہاں پر محسوسات کا شدید ترین اظہا ردیکھنے کو ملاوہاں پر مِل کے مالکان نے ملازمین کو نوکریوں سے برخواست کرنے کا حق استعمال کرتے ہوئے تحریک کو شکست دے دی۔ ڈبلن میں سر کردہ نان بائیوں نے اس تحریک کے آگے ہر ممکن مخالفت کھڑی کی اور تحریک کے حلیف پھیری والوں کی مرضی کے بر خلاف ،اتوار کے دن کو اور راتوں کو کام کرنے پر رضامند کرانے میں کامیاب ہو گئے۔52؂

انگریز حکومت کی کمیٹی نے، اور یہ ایک ایسی حکومت ہے جو آئر لینڈ میں پوری طرح اسلحے کے زور پر حکمران ہے اور عام حالات میں اپنی طاقت دکھانا جانتی ہے ،اس نے ڈبلن، لائم رِک اور کورک وغیرہ کے ڈھیٹ مالک نان بائیوں کی سرزنش کرتے ہوئے بڑے نرم اور رونے انداز میں کہا ہے: کمیٹی کا یقین ہے کہ محن کے اوقات قوانینِ فطرت کے تحت ہی محدود ہیں،جن کی خلاف ورزی سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ کہ مالک نان بائی کا اپنے ماتحت کو ملازمت سے برطرفی کی دھمکی دے کراس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اپنے مذہبی عقائد اور بہتر محسوسات کو ٹھکرا دے( یہ سب باتیں اتوار کے محن سے متعلق ہیں )مالکان اور ملازمین کی باہمی چپقلش اور کدورت کا باعث بنے گااور ایک ایسی مثال رقم ہو گی جو مذہب، اخلاقیات، اور سماجی ڈھانچے کے لیے خطرناک ہو گی۔.... کمیٹی کا اس بات پر بھی یقین ہے کہ ایک دن میں مسلسل 12گھنٹے سے زیادہ کسی قسم کا کام بھی مزدور کی گھریلو اور نجی زندگی پر زَد لگاتا ہے جس سے تباہ کن اخلاقی نتائج کا اندیشہ رہتا ہے اور فرد کے اُن فرائض پر بھی زَد آتی ہے جو بیٹے،بھائی ، شوہر، اور باپ کی حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔12گھنٹے سے تجاوز کرتا ہوا کام اُس کی صحت پر بھی مضر اثرات چھوڑتا ہے جس سے قبل از وقت بڑھاپا اور جواں سال موت کا احتمال بھی رہتا ہے۔ اس سے مزدو ر کے عیال داروں کو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،پس اہلِ کنبہ اس وقت اس مزدور کی کفالت سے محروم ہو جاتے ہیں جب ان کو اس کی سرپرستی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔53؂

اب تک ہمارا موضوع آئر لینڈ رہا ہے۔ اس آبنائے کے اُس پار یعنی سکاٹ لینڈ میں ہل چلانے والا زراعتی مزدور نا سازگار موسم میں13سے 14گھنٹے کے کام اور علاوہ اتوار کو 4گھنٹے کے اضافی کام کے خلاف احتجاج کرتا ہے؛(ایسے فرقے کے علاقے میں جو اتوار کے دن کام کو حرام سمجھتا ہے )54؂جبکہ اس کے ساتھ ساتھ لندن کے کرونرcoronerکی جیوری کے سامنے ریلوے سے متعلق تین آدمی پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک گارڈ ہے ، دوسرا انجن چلانے والا اور تیسرا سگنل دینے والا۔ ریل کے ایک شدید حادثے کی وجہ سے سینکڑوں افراد واصلِ عدم ہو چکے ہیں۔ملازمین کی سُستی اس حادثے کی وجہ قرار دی گئی ہے۔ جیوری کے روبروان سب کا ایک ہی کہنا ہے کہ دس بار ہ سال قبل ان کا کام روزانہ آٹھ گھنٹے میں ختم ہو جاتا تھا ۔لیکن حالیہ پانچ چھ سال میں یہ اس سے تجاوز کر کے 14،18اور 20گھنٹے تک پہنچ چکا ہے؛ ملازمین کے چھٹیاں گزارنے کے زمانے میں ہجوم کی وجہ سے اور تفریحات کے زمانے میں تویہی ڈیوٹی کسی وقفے کے بغیر 40اور45گھنٹے تک جاری رہتی ہے۔ آخر کار وہ عام انسان ہیں نہ کہ جنات۔ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ان کی کام کرنے کی سکت جاتی رہتی ہے، ان پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے،دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے اور آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں۔انتہائی قابلِ احترام برطانوی ارکانِ جیوری نے یہ حکم نامہ صادر کیا کہ ان کو قتلِ انسانی کے جرم میں سپردِ عدالت کیا جائے اور اپنے حکم نامے میں ذرا نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں ان داشلائوں میں استعمال ھے
انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے