انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 822
عنوان انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 216610
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں - کی دوسری شاخیں-

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

نے یہ نیک امید بھی ظاہر کی کہ ریلوے کے سرمایہ دار سرکردگان مستقبل میں کافی مزدور رکھنے کا بندوبست کریں گے اور تنخواہ دار مزدوروں کو خرچ کرنے میں پہلے کی نسبت زیادہ کنجوس، زیادہ محتاط اور زیادہ کفایت شعار ثابت ہوں گے۔55؂

مزدوروں کی بھانت بھانت کی اقسام میں جن میں ہر پیشے، ہر عمر اور ہر جنس کے مزدور شامل ہیں اور جو ہمیں Ulyssesکے مقام پر ذبح ہونے والے لوگوں سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ان کی بغلوں میں دبی ہوئی نیلی کتابوں سے قطع نظر کر کے جن کے چہروں پر ہم ایک اچٹتی سی نظر ہی میں کثرتِ کار کی نشانیاں دیکھ سکتے ہیں؛ اُن میں سے ہم دو مزید مثالیں لیتے ہیں جن کے باہمی تجزیے سے یہ ثابت ہو گا کہ سرمائے کے سامنے سب انسان برابر ہیں چاہے وہ لباس بنانے والا ہو یا لوہارہو۔

جون1863کے آخری ہفتے میں لندن کے تمام روزناموں میں ایک اقتباس درج ذیل سنسنی خیز شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوا کثرتِ کار کی وجہ سے موت۔ اس میں کپڑے بنانے والی کی موت کا ذکر تھاMary Anne Walkleyجو 20سال پہلے ایک انتہائی ممتاز ملبوسات ساز ادارے میں ملازم ہوئی ۔ اس ادارے کی استحصالی مالکن کا پیارا نامEliseتھا۔ یہ کئی بار کہی گئی کہانی ہے 56؂جس کو ایک بار پھر دوہرایا جا رہا ہے۔یہ لڑکی اوسطاً -03 گھنٹے روزانہ کام کرتی تھی اور تیزی کے اوقات میں بنا رُکے اکثر 30گھنٹے۔جب وہ تھک جاتی تو تھکن کو دور کرنے کے لیے اس کوکبھی کبھار شراب،وہسکی، اور کافی میسر آتے۔ اب کام کی تیزی کا زمانہ شروع ہو چکا تھا۔ اب یہ ضروری تھا کہ امراء کی خواتین کے لیے پلک جھپکتے میں نفیس و زیبا لباس تیار کئے جائیں۔ ان عورتوں کو نئی درآمد شدہ شاہ زادی ویلز Princess of Walesکے ساتھ اعزاز کے طور پر شریکِ رقص ہونا تھا۔Mary Anne Walkleyساٹھ دوسری لڑکیوں کے ساتھ مل کر -03گھنٹے تک کام کرتی رہی، ان میں سے 30لڑکیاں ایک کمرے میں تھیں جس میں ان کے لیے -03 مکعب فٹ تازہ ہواداخل ہوتی۔ رات کے وقت دو دو لڑکیاں ایک ایسے تنگ و تاریک کمرے میں سوتیں جس کو تختوں کی مدد سے ایک دوسرے سے جدا کیا گیا تھا۔57؂اور یہ لندن کا ایک بہترین ملبوسات ساز ادارہ تھا۔Mary Anne Walkleyجمعہ کے روز بیمار پڑی اور اتوار کو چل بسی اور میڈم ایلس کے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر ہی مر گئی۔ڈاکٹر مسٹر کیز کو بسترِ مرگ پر دیر سے بلایا گیا۔ اس نے علاقائی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا Mary Anne Walkleyکے مرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ دیر تک ایک پُر ہجوم کمرے میں کام کرتی رہی اور جس کمرے میں سوتی تھی اس میں ہوا کی آمدو رفت کا کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔ ڈاکٹر کو اعلیٰ اخلاقیات کا درس دینے کے لیے کارونر کی جیوری coroners juryنے یہ حکم نامہ صادر کیا کہ: مریضہ کی موت کی وجہ اصل میں مرگی کا دورہ ہے؛ لیکن یہ خدشہ بھی بہر حال موجود ہے کہ اس کی بیماری کی وجہ ایک پُر ہجوم کمرے میں کام کی زیادتی وغیرہ بھی ہو سکتی ہے۔آزاد تُجارCobdenاور Brightکا ترجمان روزنامہMorning Starمیں یہ غل بپا ہوا: ہمارے سفید غلام ؛ ہمارے وہ سفید غلام جو کام کرتے کرتے قبر میں اُتر جاتے ہیں عموماً سوکھتے سوکھتے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔58؂

کثرتِ کار سے موت کے گھاٹ اُترنا محض لباس ساز اداروں کے کمروں تک ہی محدود نہیں بلکہ ایسے مواقع ہزار ہا دیگر مقامات پر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں؛ میں یہ بات بار ہا کہہ چکا ہوں کہ ایسی جگہوں پر کاروبار کی تیزی عروج پر ہوتی ہے۔.....اس سلسلے میں ہم لوہار کی مثال پیش کریں گے۔ اگر شعراء سچے ہوتے تو لوہار جیسا خوش دل اور خوش باش آدمی اورکوئی نہ ہوتا۔ وہ صبح سویرے اٹھتا ہے اورسورج نکلنے سے قبل ہی اپنی بھٹی تپا لیتا ہے، وہ اس قدر کھاتا پیتا اور سوتا ہے کہ کوئی شخص بھی اس کام میں اُس کے مقابل نہیں آتا۔ اگر جسمانی حوالے سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ وہ کام کے اعتدال کی رو سے معاشرے کے عمدہ ترین طبقے میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم اُس کا مشاہدہ کرنے کے لئے کسی شہر یا قصبے میں نکلتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس جفا کش آدمی پر کام کا کتنا بوجھ ہے؛ پھر یہ کہ ملک کی شرح اموات میں اس کا کیا مقام ہے۔ میرل بون Maryleboneمیں سالانہ ہزار میں سے اوسطاً 31لوہار لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مطلب یہ کہ مجموعی طور پر ملک کے غریب نوجوان جس اوسط سے مرتے ہیں اُن سے بقدر11زیادہ۔ اُس کا پیشہ اس قدر جبلی ہے کہ انسانی فن کا حصہ معلوم ہوتا ہے؛ اور صنعتِ انسانی کی شاخ کی حیثیت سے نا قابلِ اعتراض ہے؛ اور یہ محض کثرتِ کار کی وجہ سے انسانی زندگی کا ضیاع کار بن جاتا ہے۔ وہ ایک دن میں اتنی تعداد میں ضربیں لگا سکتا ہے، اتنے قدم چل سکتا ہے، اِتنے سانس لے سکتا ہے، کام کی اتنی مقدار پیدا کر سکتا ہے، اور یوں کہہ لیں کہ وہ اوسطاً 50سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر اس کو معمول سے اس قدر اضافی ضربیں لگانی پڑتی ہیں ، اوراتنے زیادہ قدم چلنا پڑتا ہے ، اور روزانہ اتنی زیادہ سانسیں لینا پڑتی ہیں کہ وہ روزانہ اپنی زندگی کے ایک چوتھائی حصے کو بڑھا لیتا [استعمال کر لیتا] ہے۔ اس کا سامنا جہدِ مسلسل سے ہوتا ہے اور اس کے نتیجے کے طورپر وہ محدود عرصے میں رأس المحن سے ایک چوتھائی حصہ زیادہ کر گزرتا ہے ، چنانچہ 50کے بجائے 37ہی سال میں مر جاتا ہے۔59؂




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں ان داشلائوں میں استعمال ھے
انگلستانی صنعت کی وہ شاخیں جن کے لیے استحصال کی کوئی قانونی حدیں نہیں
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے