ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176875
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

فصلِ ششم:

دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی&x=0'>ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی

1833سے1864تک کے انگریزی قوانین برائے کارخانہ داری

جب سرمایہ دیہاڑی کو صدیوں میں اس کی نارمل زیادہ سے زیادہ حد تک ؛ پھر اس سے بڑھ کر 12گھنٹے 98؂کی طوالت کے فطری دن تک لے گیا تو اس کے بعد اٹھارویں صدی کی آخری تہائی میں،یعنی مشینری اور جدید صنعت کے آغاز کے دور میں تمام حدود کو توڑنے کی وہ مثالیں سامنے آئیں جو اپنی شدت کے لحاظ سے کسی برف کے طوفان سے کم نہ تھیں۔اس [طوفان ]سے اخلاقیات، فطرت، عمر، جنس اور رات دن کے تمام کے تمام بندھن ٹوٹتے چلے گئے۔حتیٰ کہ قدیم دیہی سادگی میں پایا جانے والا دن اور رات کا تصور بھی اس قدر گڈ مڈ ہوا کہ ایک انگریز جج کو 1860میں بھی دن اور رات کا قانونی فرق بتانے کے لئے تلمود(Talmud )کی ذکاوت کی ضرورت پیش آئی۔ 99؂[جبکہ] سرمائے نے اپنی بدمستیوں کا جشن منایا۔

جونہی مزدور طبقہ __جو پہلے پہل نئے پیداواری نظا م کے شور و غل کی وجہ سے دب سا گیا تھا __ اعصابی طور پر ذرا سنبھلا تو اس کی مزاحمت کا آغاز ہو گیا؛ اور یہ مزاحمت سب سے پہلے مشینیت کی جنم بھومی یعنی انگلستان ہی سے شروع ہوئی ۔ تاہم جو رعایتیں مزدوروں نے تیس سال میں حاصل کی تھیں وہ بڑی معمولی نوعیت کی تھیں۔ پارلیمنٹ نے 1802سے لے کر 1833تک مزدوروں کے 5قوانین کی منظوری دی لیکن پارلیمنٹ اتنی گھاگھ تھی کہ اُنہوں نے ان قوانین پر عمل درآمد کرانے کے لئے ایک پائی بھی خرچنی گوارا نہ کی ، جس کو متعلقہ اہل کاروں پر استعمال ہونا تھا۔100؂

وہ [قوانین ] محض مردہ دستاویزات ہی رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ1833کے ایکٹ سے قبل نوجوان لڑکے اور بچے سارا سارا دن یا ساری ساری رات، یا دن رات کام کیا کرتے تھے۔101؂

جدید صنعت میں نارمل دیہاڑی کا آغاز 1833کے فیکٹری ایکٹس سے ہوتا ہے جس میں روئی، اُون، سِن اور ریشم کی فیکٹریاں شامل ہیں۔ سرمائے کے خاصے کے لحاظ سے اِتنی اہمیت کسی اور چیز کی نہیں جتنی 1833سے 1864تک کے انگلش فیکٹری ایکٹسکی ہے۔

1833کے قانون کی رو سے دیہاڑی کا دورانیہ صبح ساڑھے پانچ سے رات ساڑھے آٹھ بجے تک ہے؛ اور 15گھنٹے کے اس دورانئے میں چھوٹے لڑکوں( یعنی ایسے لڑکے جن کی عمریں 13اور 18سال کے درمیان ہیں )کودن میں کسی بھی وقت، ملازم رکھنا جائز ہے، اور اس کے لئے شرط یہ ہے کہ کوئی ایک چھوٹا فرد ایک دن میں 12گھنٹے سے زیادہ کام نہ کرے۔ البتہ ایسی خاص صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جن میں اس کی ضرورت پڑ جائے۔اس ایکٹ کی چھٹی فصل میں درج ہے: یہ کہ روزانہ کام کے دوران ہر اُس شخص کو کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ کھانے کے لئے میسر ہونا چاہیے جسے اب سے پہلے مہیا نہیں تھا۔9سال سے کم عمر کے بچوں کی ملازمت کو کچھ مستثنیات کے علاوہ _جس کا ذکر بعد میں آئے گا_ روک دیا گیا۔9سال سے 13سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے کام کی حد 8گھنٹے مقرر کی گئی؛ دوسرے لفظوں میں اس قانون میں 9سے 18سال تک کی عمر کے تمام لڑکوں کو رات8:30سے صبح 5:30تک کام کرنے سے روک دیا گیا۔

قانون ساز اشخاص کی قطعاً خواہش نہ تھی کہ وہ سرمائے کی آزادی جس سے وہ جوانوں کی قوتِ محن یا جیسا کہ وہ خود اسے محن کی آزادی کا نام دیتے تھے،کا استحصال کرنے پر روک لگاتے، اس لئے انہوں نے فیکٹری ایکٹس کو سنگین نتائج سے بچانے کے لئے ایک خصوصی نظام تشکیل دیا۔

کمیشن کے مرکزی بورڈ کی پہلی رپورٹ بتاریخ 28جون، 1833میں کہا گیا کہ، فیکٹری سسٹم کی ایک بڑی برائی جو ہمارے علم میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں بچوں کے محن [کے دورانیے ]کو بڑھا تے ہوئے بڑوں کی دیہاڑی کے برابر لایا جانا لازم ہے۔ہمارے خیال میں اس برائی کا واحد علاج ، جو جوانوں کی دیہاڑی کی حدود کوکم کرنے سے چھوٹا ہے اور جو ہمارے خیال میں اُس سے زیادہ بڑی خامی کا باعث بنتا ہے جس کا تدارک مطلوب ہے، بچوں کو دو جتھوں میں کام کرانے کا منصوبہ ہی لگتا ہے ۔ ریلے سسٹم کے نام سے اسی منصوبے پر عمل درآمد ہونے کو تھا؛ اور وہ اس مقصد کے لئے کہ فرض کریں کہ صبح 5:30 سے سہ پہر 1:30بجے تک 9سے 13سال کی عمر کے بچوں کا ایک گروہ ؛ اور اُس کے بعد 1:30سے 8:30بجے رات تک دوسرا گروہ کام کرے، وغیرہ وغیرہ۔

جو کار خانہ دار گزشتہ بائیس سال کے دوران بچوں کے محن کے بارے میں منظور ہونے والے تمام قوانین کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں اُنہیں نوازنے کے لئے اس گولی کو اور میٹھا بنایا گیا۔پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ دے دیا کہ یکم مارچ1834کے بعد سے 11سال سے کم ، یکم مارچ 1835کے بعد سے 12سال، اور یکم مارچ 1836کے بعد سے 13سال سے کم کسی فیکٹری میں 8گھنٹے سے زیادہ وقت تک کام کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔ سرمائےکے بارے میں غور و فکر سے بھر پور یہ آزاد خیالی اِس وجہ سے قابلِ توجہ بن جاتی ہے جیساکہ ڈاکٹر فے ری، سر اے. کارلائسل ، سر بی. براڈی،سر سی. بَیل ، اور مسٹر جیوتھری وغیرہ _جن کو ایک فقرے میں لندن کے اعلیٰ ترین فزیشن اور سرجن قرار دیا جا سکتا ہے_ نے ہاؤس آف کامنز کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ تاخیر خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر فے ری نے تو بڑے تلخ انداز میں کہا تھا کہ: موت کے تدارک کے لئے قانون سازی بہت ضروری ہے ، اور ہر اُس صورت میں جس میں یہ قبل از وقت پیش آ سکتی ہو؛ اور اِسے( فیکٹری کے طریقۂ کار کو) بہر صورت اس کے سب سے ظالمانہ سبب کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔

یہی اصلاح یافتہ پارلیمنٹ جو کارخانہ داروں کے لئے نرم گوشہ رکھتی تھی 13سال سے کم عمر کے بچوں کو سالہا سال تک فیکٹری کی دوزخ میں ہفتے کے 72گھنٹے کام کرنے کے لئے سرزنش کرتی رہی۔ جبکہ دوسری طرف Emancipation Actمیں، جس نے تھوڑا تھوڑاکر کے آزادی کو بھی لاگو کیا ، زمینداروں کو منع کر دیا کہ وہ نیگرو غلاموں سے ایک ہفتے میں 45گھنٹے سے زیادہ کام نہ کرائیں۔

لیکن کسی طرح بھی تسلی نہ ہونے پر سرمائے نے اب کی بار بڑا پُر شور احتجاج شروع کر دیا جو کئی سال تک جاری رہا۔ یہ احتجاج بنیادی طور پر اُن کی عمر کے نقطے پر مرکوز تھاجنہیں بچوں کا نام دے کر 8گھنٹے کام تک محدود کر دیا گیا تھا، اور جن کے لئے ایک خاص وق




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے