ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176883
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

تک تعلیم حاصل کرنا ضروری تھا۔ سرمایہ دارانہ علمِ نسلیات کی رو سے بچپن 10یا زیادہ سے زیادہ11سا ل کی عمر میں ختم ہو جاتا ہے ۔ فیکٹری ایکٹ کو شدید ترین انداز میں مسلط کرنے کا وقت، یعنی 1836کا تباہ کُن سال، جتنا قریب آتا گیا کارخانہ داروں کاگروہ اُتنا ہی خوفناک شور و غوغا کرنے لگ پڑا۔اصل میں اُنہوں نے حکومت کو اس قدر خوف زدہ کر دیا تھا کہ 1835میں اس نے یہ تجویز دی گئی کہ بچپن کی عمر کو 13سال سے کم کر کے 12سال کر دیا جائے۔ اسی دوران باہری دباؤ اور شدید ہو گیا۔ ہاؤس آف کامنز کے حوصلے جواب دے گئے۔ اُنہوں نے 13سال کے بچوں کو مسلسل 8گھنٹے تک سرمائے کی Juggernaut Carبھاری بھرکم گاڑی کے پہیوں تلے دینے سے انکار کر دیا؛ چنانچہ 1833کا ایکٹ پوری سختی سے لاگو کر دیا گیا۔ اس قانون میں 1844تک کوئی تبدیلی نہ آئی ۔

دس سال کے جس عرصے کے دوران اس قانون کو امورِ کارخانہ داری کے سلسلے میں پہلے جزوی اور پھر کُلی طور پر فعال بنا یا گیا، اُسی دوران فیکٹری انسپکٹروں کی رپورٹیں ایسی شکایات سے بھری ہوئی ملتیں کہ اس قانون پر عمل درآمد ناممکن ہے۔ سرمائے کے آقاؤں کو 1833کے قانون کے ذریعے جب یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ جس صبح 5:30سے رات8:30تک یعنی 15گھنٹے کے وقت کے دوران جوانوں یا بچوں کے کام کا جس وقت چاہے آغاز کریں اور جس وقت چاہے اُسے ختم کریں؛ اور یہ اختیار بھی اُنہیں تفویض کر دیا گیا کہ وہ جب چاہیں مختلف لوگوں کو کھانے پینے کے لئے وقفہ کرنے کی اجازت دیں ؛تو ان شُرفاء نے جلد ہی ادلی بدلی کا ایک نیا نظام دریافت کر لیا۔ اس نظام کے تحت محنت کرنے والے گھوڑوں کو ان کے مقررہ اسٹیشنوں پر بدلا نہیں جا سکتا تھا؛ بلکہ بدلی والے اسٹیشنوں پر انہیں دوبارہ جوت لیا جاتا۔ ہم اس نظام کے حسن پر زیادہ عرصہ نہیں رُکیں گے کیونکہ تھوڑی دیر میں ہم اس کی طرف ایک بار پھر رجوع کرنے والے ہیں۔ لیکن پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس نظام نے پورے کے پورے فیکٹری ایکٹ کو نہ صرف اس کی روح بلکہ اس کے مفہوم میں بھی بے معنی کر کے رکھ دیا۔سوال یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے بارے میں اس قدر پیچیدہ حساب کتاب رکھتے ہوئے فیکٹری کے معائنہ کاروں کے لئے کس طرح ممکن تھا کہ وہ کام اور کھانے کے قانونی طور پر مقرر کردہ اوقات کار کو نافذالعمل کرواتے؟بہت ساری فیکٹریوں میں پہلے والے مظالم ایک بار پھر لوٹ آئے اور ان کا محاسبہ بھی نہ کیا گیا۔ہوم سیکٹری کے ساتھ ایک انٹرویو( 1844 )میں فیکٹری کے معائنہ کاروں نے اس بات کا اظہار کیا کہ نیا بننے والا ریلے سسٹم ہر قسم کے نظم وانضباط سے عاری ہے۔102؂تاہم اس عرصے میں حالات ایک زبر دست تبدیلی سے دوچار ہوئے۔ فیکٹری کے مزدوروں نے( بالخصوص1838سے )دس گھنٹوں کے بِل کو اپنا معاشی انتخابی نعرہ بنا لیا جیسا کہ اس سے قبل انہوں نے چارٹر کو اپنا سیاسی - انتخابی نعری بنایا تھا۔ بعض کارخانہ دار__ جن میں وہ بھی شامل تھے جو اپنی فیکٹریوں کو 1833کے قانون کے مطابق چلا رہے تھے__ پے در پے ایسی یاد داشتیں پیش کر کے پارلیمنٹ کو عاجز لے آئے جن میں اُنہوں نے اپنے اُن دغا باز بھائیوں کے غیر اخلاقی رویے کا ذکر کیا تھا جن کو اُن کی حد سے متجاوز بے احتیاطی اور زیادہ ساز گار مقامی حالات نے قانون توڑنے پر آمادہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں کارخانہ دار کو اپنی ہوس کی تسکین کا جتنا بھی زیادہ موقع کیوں نہ مل جاتا ہومگر کارخانہ دار طبقے کے نمائندوں اور سیاسی راہنماؤں نے مزدور طبقے کے بارے میں اپنا اندازِ گفتار بدل دیا۔ وہ قانون برائے غلہ کے خلاف میدان میں اُتر چکے تھے اور اُنہیں جیت کے لئے کارندوں کی حمایت درکار تھی۔ چنانچہ اُنہوں نے مزدوروں کو نہ صرف پہلے سے دُگنی بڑی روٹی دینے کا وعدہ کیا بلکہ 10گھنٹے کے بِل کو پُر سکون آزاد تجارت میں قانون کا درجہ دینے کی بھی حامی بھر لی۔ 103؂پس ایک ایسے اقدام کے خلاف اُنہیں مزاحمت کرنے کی جرأت بہت کم تھی جس کے تحت 1833کے قانون کو عملی شکل دینا تھی۔اپنے مقدس ترین مفاد __زمین کے لگان__کو خطرے میں دیکھ کر ٹوریز [پارٹی] انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہوئے اپنے مخالفین کی مکارانہ سرگرمیوں104؂کے خلاف خوب گرجے برسے۔

7جون 1844کے ایڈشنل فیکٹری ایکٹ کی ابتدا اس طرح ہوئی۔یہ قانون 10ستمبر 1844کو نافذالعمل ہوا۔ اس کے ذریعے مزدوروں کے ایک اور طبقے یعنی 18 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو تحفظ حاصل ہوا۔ اُن کو ہر لحاظ سے نوجوانوں سے مساوی حقوق دیے گئے۔ اُن کے محن کا دورانیہ کم کر کے 12گھنٹے کر دیا گیا، رات کا کام ختم کر دیا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ پہلی مرتبہ قانون اس بات پر مجبور ہواکہ سرکاری طور پر جوانوں کے محن کو اصول ضابطے کے تحت لایا جائے۔ 1844-45کی فیکٹری رپورٹ میں اس بات کا بڑی طنزیہ اندازسے ذکر کیا گیا ہے کہ : ایسی کوئی مثال میرے سننے میں نہیں آئی جس میں نوجوان عورت نے اپنے حقوق میں مداخلت کے بارے میں کوئی شکایت کی ہو105؂۔ 13سال سے کم عمر کے بچے کے لیے کام کا دورانیہ کم کر کے -03گھنٹے اور بعض صورتوں میں 7گھنٹے روزانہ کر دیا گیا۔106؂

جعلی قسم کے ریلے سسٹم کی بُرائیوں سے نجات پانے کے لیے جو قانون وضع کیا گیا اُس میں دیگر ضوابط کے ساتھ ساتھ حسبِ ذیل بھی کافی اہم ہیں: یہ کہ بچوں اور بڑوں کے کام کے گھنٹوں کو صبح اس وقت سے شمار کیا جانا چاہیے جب یہ اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔مطلب یہ کہ اگر Aاپنے کام کا آغاز صبح 8بجے کرتا ہے ،اور B دس بجے تو اس صورت میں دیہاڑی کا اختتام اُسی وقت ہو گا جب Aکا وقت ختم ہوتا ہے۔ وقت کو کسی بھی مقامی گھڑی سے متعین کیا جائے گا، مثال کے طورپر قریبی ریلوے کے کلاک سے جس سے کارخانے کی گھڑی ملا دی جائے۔ منتظم کی ڈیوٹی یہ ہو گی کہ وہ کام کے آغاز و اواخر اور کھانے کے اوقاتِ کار اور وقفوں کو ایک واضح نوٹس کی شکل میں لٹکا دے۔دو پہر 12بجے سے پہلے سے کام کرنے والے بچوں کو 1بجے کے بعد کام پر لگانے کی اجازت نہ ہو گی۔ چنانچہ دوپہر والی شفٹ میں دوسرے بچے کام کریں گے۔ کھانے کے لئے وقف ڈیڑھ گھنٹے میں سے کم از کم ایک گھنٹہ سہ پہر 3بجے سے قبل دیا جائے گا.... اور دن کے اسی دورانئے میں۔ اس بات کی اجازت بھی نہ ہو گی کہ کسی بچے یا نوعمر کو کھانے کے لیے کم از کم آدھے گھنٹے کا وقفہ دیے بغیر 5گھنٹے سے زیادہ کام پر لگائے رکھا جائے۔کوئی بھی بچہ یا جوان[یا عورت] کھانے کے وقت میں کسی ایسے کمرے میں نہیں جائے گا جس میں اس وقت مصنوعات سازی کا کام جاری ہووغیرہ




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے