ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176882
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

وغیرہ۔

اس بات کا پتا چل چکا ہے کہ یہ جزئیات جو فوجی یکسانگی کے ساتھ گھنٹے کی ضرب کے ذریعے کام کے اوقات، کا م کی حد بندیوں اور کام کے وقفوں کو بیان کرتے ہیں، پارلیمنٹ کے اپنے تخیل کی پیداوار ہر گز نہیں تھیں۔ جدید طبعِ پیداوار کے فطری اصولوں کی حیثیت سے انہوں نے [معاشرتی ]حالات سے بتدریج نشوونما پائی تھی۔حکومت کی طرف سے ان قوانین کی تشکیل، سرکاری تصدیق، اور ان کا اعلان طبقات کی طویل جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ان کے بہت سے نتیجوں میں سے ایک یہ تھا کہ عملی طورپر فیکٹریوں میں کام کرنے والے بالغ عمر کے مزدوروں کی دیہاڑی کا مسئلہ انہی حد بندیوں کے تحت آگیاکیونکہ ابھی تک بہت سارے پیداواری نظاموں میں بچوں، جوانوں، اور عورتوں کی مددناگزیر ہے۔چنانچہ مجموعی طور پر 1844سے لے کر 1848تک 12گھنٹے کی دیہاڑی صنعت کی تمام شاخوں میں فیکٹری ایکٹ کے ذریعے رائج اور مقبول ہو گئی۔

تاہم کارخانہ دار وں نے اس ترقی کی تلافی کے لئےرجعت پسندانہ پہلو کے بغیر اسے برداشت نہ کیا۔کارخانہ داروں کے اکسانے پر ہاؤس آف کامنز نے قابلِ استحصال بچوں کی عمر کی حد 9سے کم کر کے 8سال کر دی تا کہ فیکٹری کو اضافی بچوں کی رسد مہیاہوتی رہے جو الوہی اور انسانی قانون کی رو سے سرمایہ دار کا حق ہے۔107؂

1846-47کے سال انگلستان کی تاریخ میں عہد ساز سال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غلہ کے قوانین اور روئی اور دیگر خام مالوں پرمحصولات کی تنسیخ کو آزاد تجارت نے قانون سازی کارہنما اصول_دوسرے لفظوں میں_ایک نئے عہدِ سعادت کا آغاز خیال کیا۔ دوسری طرف سالِ مذکورہ ہی میں چارٹسٹ تحریک اور دس گھنٹے کے بارے میں ہونے والے احتجاج بھی عروج کو پہنچ گئے۔انہیں ٹوریوں میں اپنے اتحادی مل گئے جنہیں اپنا حساب چکانا تھا۔ آزاد تجارت کے جھوٹے دعویداروں کی فوج، جس کے کرتا دھرتا برائٹ اور کوبڈن تھے ،کی شدید مخالفت کے باوجود، اور جس کے لئے اتنی لمبی جدو جہد کی گئی تھی، دس گھنٹے کے بل نے پارلیمنٹ سے منظوری پا لی۔

8جون 1847کے نئے فیکٹری ایکٹ نے حکم نامہ صادر کیا کہ یکم جولائی کو(13سے 18سال تک کے)نوعمربچوں کے لئے دیہاڑی میں ابتدائی تخفیف ہونی چاہیے؛ اور تمام عورتوں کے لیے دیہاڑی 11گھنٹے کی ہو۔ لیکن یکم مئی 1948سے دیہاڑی کی حد 10گھنٹے کا واضح دورانیہ ہو۔ دوسرے حوالوں سے اس قانون نے 1833اور 1834کے قوانین کی ترمیم اورتوسیع و تکمیل کی۔

سرمائے نے اب یکم مئی 1848سے نافذ العمل قانون کے خلاف ابتدائی مہم کا آغاز کر دیا۔ اور خود مزدور کو بھی _اس عذر کے تحت کہ تجربے نے اُنہیں سبق دیا ہے _ اُن کے اپنے کام کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ موقع بھی بڑی عیاری سے چُنا گیا تھا۔ یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ کارخانے کے مزدوروں کا( 1846-1847 کے خوفناک بحران کے نتیجے میں )دو سال سے زیادہ عرصہ مصیبتیں جھیلتے گزرا ہے کیونکہ بعض مِلوں میں مزدوری کے اوقات محدود کر دیے گئے اور اکثر بند ہو گئیں۔اس وجہ سے مزدوروں کی اچھی خاصی تعداد بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہی تھی؛ اور بہت سے مقروض تھے چنانچہ یہ آسانی سے فرض کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت میں وہ لوگ دیہاڑی کا زیادہ عرصہ کام کرنا چاہیں گے تاکہ ماضی کے خسارے پورے کئے جا سکیں ؛ یا غالباً قرضوں کی ادائیگی کی جا سکے یا رہن رکھی گئی چیزوں کو چھڑایا جا سکے یا پھر فروخت شدہ مال کی جگہ نیا خریدا جا سکے، یا اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے نئے کپڑے سلوائے جا سکیں۔108؂

ان حالات کی فطری شدت میں اضافہ کرنے کے لئے کارخانہ دار نے اُجرت میں 10%کی عمومی کمی کر دی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ سارے اقدام آزاد تجارت کے ایک نئے دور کے آغاز کی خوشی منانے کے لئے گئے گئے تھے۔اس کے بعد دیہاڑی کی طوالت کو کم کرتے ہوئے جونہی 11گھنٹے کیا گیا تو اُجرت میں -03فیصدکی مزید کمی کر دی گئی۔پھر آخر کار جب دیہاڑی کو 10گھنٹے کیا گیا تو اُجرتوں میں کمی کو دگُنا کر دیا گیا۔ اور جس جگہ بھی حالات نے اجازت دی اُجرتوں کو 25%تک کم کر دیا گیا۔109؂اس قسم کے ساز گار اور تیار شدہ حالات میں فیکٹری کے مزدوروں کے درمیان 1847کے ایکٹ کی بابت تحریک کا آغاز ہوا۔ اس کوشش میں غلط بیانیوں میں کمی کی گئی ، نہ رشوت ستانیوں میں اور نہ ہی دھمکیوں میں۔ لیکن یہ سارے حربے دھرے کے دھرے رہ گئے۔جہاں تک ان چھ پیٹیشنوں کا تعلق ہے جنہیں مزدوروں کو مجبور کر کے داخل کروایاگیا کہ وہ اپنے اوپر ایکٹ کے ڈھائے جانے والے مظالمکو بیان کریں، اُنہوں نے خود زبانی گواہیوں میں کہا کہ اُن کے دستخط زبر دستی وصول کئے گئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مظلوم تو ضرور تصور کرتے؛ مگر اس کی وجہ کارخانے کا قانون نہیں ہے۔110؂لیکن اگر چہ کارخانہ دار مزدوروں کو اپنی مرضی کے مطابق بلوانے میں نا کام رہے ، مگر اخبارات اور پارلیمنٹ میں وہی مزدوروں کے نام پر شوروغل مچاتے تھے۔ اُنہوں نے فیکٹری کے انسپکٹران کی مذمت کرتے ہوئے اُنہیں ایسے انقلابی کمشنروں کی مثل قرار دیا جو فرانس کے نیشنل کمشنر کی مانند کارخانوں کے آفت زدہ ملازمین کو اپنی بشریت پسندانہ ترنگوں پر بڑی بے دردی سے قُربان کر دیتے ہیں۔ یہ حربہ بھی ناکام رہا۔ فیکٹری انسپکٹر لیونارڈ ہارنرنے خود اپنی اور اپنے ماتحت کی ذمہ داری پر لنکا شائر کے کارخانوں سے بہت سارے لوگوں کی گواہیاں جمع کیں۔ جن مزدوروں نے گواہی دی اُن میں 70% نے 10گھنٹے کے بِل کی حمایت میں بیان دیا، بہت تھوڑی تعداد نے 11گھنٹے کی حمایت کی ، اور تقریباً ایک انتہائی معمولی حصے نے پرانے والے 12گھنٹے کے بِل کی حمایت کی۔111؂

ایک اور دوستانہچال یہ چلی گئی کہ جوان مزدوروں سے 12سے 15گھنٹے تک کام کرایا جائے۔اور پھر اِسے اس بات کا ثبوت بنایا گیا کہ پرولتاریہ کی یہی مرضی ہے۔ لیکن بے رحم فیکٹری انسپکٹر لیونارڈ ہارنر ایک بار پھر میدان میں کود پڑا۔اوور ٹائم میں کام کرنے والوں کی اکثریت نے بیان دیا کہ وہ کم اجرتوں پر بھی دس گھنٹے کام کر کے خوش ہیں ؛ لیکن یہ ہے کہ اُن کی مرضی نہیں چلتی بہت سارے مزدور بے روز گار ہیں( بہت سارے جولاہے ٹوٹے ہوئے دھاگوں کو جوڑ کر بڑی تھوڑی اُجرت وصول کر رہی ہے، اس لئے کہ وہ اور کچھ ن




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے