ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176889
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

ہیں کر سکتے۔)یہ کہ اگر وہ لمبی شفٹوں میں کام کرنے سے انکار کر دیں توان کی جگہ فوراً دوسرے مزدور آ جائیں گے۔ اس لئے اُن کے سامنے سوال یہ ہے کہ یا تو وہ طویل شفٹوں میں کام کریں یا پھر بے روز گار ہو کر رہ جائیں۔112؂

اس طرح سرمائے کی ابتدائی مہم ناکام ہو گئی اور یکم مئی 1848کو 10گھنٹے کا بِل نافذالعمل ہو گیا۔لیکن اس دوران میں چارٹسٹ پارٹی کی تحریک کے بکھرنے نے _ جس کے لیڈروں کو جیل بھیج دیا گیا اور تنظیم کو توڑ دیا گیا_ انگریز مزدور طبقے کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس [واقعے ] کے فوراً بعد پیرس میں اُٹھنے والی بغاوت اور اس بغاوت کے خونی سدِ باب نے مل کر نہ صرف انگلستان میں بلکہ پورے برِ اعظم میں تمام قسم کے حکمران طبقوں، زمینداروں اور سرمایہ داروں، سٹاک ایکسچینج کو بھیڑیوں اور دکان داروں، تجارت کے ٹھیکے داروں اور آزاد تاجروں، حزبِ اختلاف اورحکومتی حامیوں، آزاد خیال لوگوں اور پادریوں، نوجوان طوائفوں اور بوڑھی راہبوں ، وغیرہ سب کو ذاتی ملکیت، مذہب، خاندان اور معاشرے وغیرہ کو بچانے کے نعرے پر متحد کر دیا۔مزدور طبقے کو ہر جگہ تقریباًمشکوک قرار دیتے ہوئے اُن پر پابندی لگا دی گئی۔اب سرمایہ دار کو ایسی کوئی مجبوری نہ تھی کہ اپنے آپ کو حد میں رکھتے۔ انہوں نے نہ صرف 10گھنٹے کے بِل کے خلاف سرِ عام بغاوت کی بلکہ 1833کے بعد سے بننے والے اُن تمام قوانین کے خلاف بھی باغیانہ روش اختیار کر لی جن میں قوتِ محن کے کھلم کھلا استحصال پر کسی حد تک پابندی لگائی گئی تھی۔ غلامی کے حق میں یہ ایک چھوٹی سطح کی بغاوت تھی جو انسان دشمن بے رحمی کے ساتھ تقریباً دو سال تک جاری رہی ؛ یعنی ایک ایسی تخریبانہ توانائی کے ساتھ جس میں اس کا کچھ نہیں جاتا تھا کیونکہ باغی سرمایہ دار نے اپنے [ مزدوروں] کی کھال کے علاوہ کوئی اور چیز داؤ پر نہ لگائی تھی۔

اس کے بعد جو واقعات رو نما ہوئے اُنہیں سمجھنے کے لئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ فیکٹری سے متعلقہ 1833،1844،اور 1847کے تینوں قوانین اس انداز میں نافذالعمل تھے کہ ان تینوں میں سے ہر ایک دوسرے کی تنسیخ نہ کرے؛ وہ اس طرح کہ ان قوانین میں سے کسی نے بھی 18سال سے زیادہ عمر کے مزدور کی دیہاڑی کا تعین نہیں کیا؛ چنانچہ 1833کے بعد سے یہی 15گھنٹے _یعنی صبح5:30سے شام 8:30 _کے دورانیے ہی کو قانوناً دیہاڑی تصور کیا گیا۔ انہی 15گھنٹوں کے اندر رہتے ہوئے کم سِنوں اورعورتوں کو پہلے 12گھنٹے اور بعد ازاں 10گھنٹے کا محن سرانجام دینا ہوتا تھا۔

کارخانہ دار نے جزوی طور پر اور بعض مقامات پر تو نصف کے برابر ملازمین کو ملازمتوں سے برخواست کرتے ہوئے اور جوانوں کی رات کی پوری شفٹ بحال کرتے ہوئے ،جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔اور یہ شور بھی مچایا کہ دس گھنٹے کے قانون نے ہمارے لیے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔113؂

اُن کے دوسرے اقدام کا تعلق کھانے کے لیے قانونی طور پر مقرر کردہ وقفوں سے تھا۔ اس سلسلے میں ہم فیکٹری انسپکٹران کی طرف متوجہ ہوتے ہیں: جب سے محن کے دورانیے کو دس گھنٹے کیا گیا ہے فیکٹریوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک اُنہوں [فیکٹری مالکان]نے انتہائی اقدام نہیں اٹھایا ؛ فرض کریں کہ کام کا دورانیہ صبح 9بجے سے شام 7بجے تک ہو تو اس صورت میں وہ قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لیے صبح 9بجے سے ایک گھنٹہ قبل اور شام7بجے سے آدھا گھنٹہ بعد [کھانے کے لیے] وقفہ کرنے کی اجازت دیں گے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ اُنہوں نے شام کے کھانے کے لئے ایک یا آدھے گھنٹے کا وقفہ کرنے کی اجازت دے دی ہو ؛ اور ساتھ اس بات پر زور دیا کہ دیہاڑی کے اوقاتِ کار کے دوران وہ ایک آدھ گھنٹے کا وقفہ دینے کے پابند نہیں ہیں۔114؂چنانچہ کارخانہ داروں نے اصول بنا رکھا تھا کہ 1844کے قانون کی سخت پابندی مزدوروں کو صرف اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کھانے کے اوقات کی بابت کام پر آنے سے قبل اور کام ختم ہونے کے بعد [یعنی گھر جا کر]ہی وقفہ کر سکتے ہیں۔اور کام کرنے والے صبح 9بجے سے پہلے ہی شام کا کھانا کیوں نہیں کھا لیتے؟ تاہم سرکاری وکلا ء کا فیصلہ یہ تھا کہ کھانے کے لیے وضع کے گئے وقفے دیہاڑی کے اوقات کے دوران ہی ہونے چاہئیں ، مزید یہ کہ صبح 7بجے سے شام9بجے تک مسلسل 10گھنٹے کام کا جاری رہنا قانوناً جائز نہ ہو گا۔115؂

ان خوش گوار اقدامات کے بعد ،سرمائے نے اپنی بغاوت کا آغاز ایک ایسے قدم سے کیا جو 1844کی قانونی شقوں کے عین مطابق تھا چنانچہ قانون کے تحت ہی شمار کیا گیا۔

1844کے قانون نے 8سے 13سال تک کی عمر کے ایسے بچوں کو 1بجے کے بعد کام پر لگانی پر پابندی عائد کر دی جو دو پہر سے پہلے کام کر رہے ہوں۔ لیکن اس قانون میں دوپہر 12بجے یا اس کے بعد کام کا آغاز کرنے والے بچوں کے لئے -03گھنٹے کے کام کو کسی طرح سے بھی منظم نہ کیا۔ اگر 8سال کی عمر کے بچے دوپہر کے وقت اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں تو اُن سے 12بجے سے لے کر1بجے تک یعنی ایک گھنٹہ، اور 2بجے سے لے کر 4بجے تک دو گھنٹے ؛ پھر 5سے شام 8:30یعنی ساڑھے تین گھنٹے یوں مجموعی طور پر کُل -03گھنٹے قانوناً کام لینا چاہیے۔یا ایک صورت اس سے بھی بہتر ہے۔ اگر کارخانہ دار یہ چاہے کہ اُن کا کام جوان مزدوروں کے کام سے ہم آہنگ ہو جائے تو اُنہیں سہ پہر 2بجے تک کوئی کام نہ دیا جائے؛ اس صورت میں وہ اُن سے بغیر کسی وقفے کے مسلسل شام 8:30بجے تک کام لے سکیں گے۔ اور اب یہ واضح طورپر تسلیم کیا جا چکا ہے کہ یہ طریقۂ کار انگلستان میں مِلوں کے مالکان کی اِس خواہش کے تحت رائج ہوا کہ وہ اپنی مشینوں کے 10گھنٹے سے زیادہ عرصہ تک چلائے رکھنا چاہتے تھے، اور اگر فیکٹری مالکان چاہیں تو بچوں اور عورتوں کو بھی جوانوں کے ساتھ شام 8:30تک کام پر لگائے رکھیں۔ 116؂مزدوروں اور فیکٹری انسپکٹروں نے اس صورتِ حال میں صحت اور اخلاقیات کو بنیاد بنا کر احتجاج کیا؛ لیکن سرمائے کا جواب تھا:

میرے اعمال کا تعلق میرے ساتھ ہی ہے ! میں قانون کا متمنی ہوں

اور میرے حصے کی سزا یا جزا اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔

در حقیقت 26جولائی 1850کو ہاؤس آف کامنز کے سامنے پیش کئے جانے والے تمام اعدادوشمار کے مطابق ، تمام احتجاجات کے باوجود 15جولائی 1850کو 3,742بچے اسی طرح 257کارخانوں میں تختۂ مشق بن رہے تھے۔117؂ لیکن یہی کافی نہ تھا۔سرمائے کی تیزآنکھ نے یہ معلوم کیا کہ 1844کے قانون میں دوپہر سے پہلے تو کوئی وقفہ کئے بغیر مسلسل 5گھنٹے کام کرانے کی ا




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے