ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176887
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

جازت نہیں دی گئی ، لیکن اس میں دو پہر کے بعد والے کام کی کسی بھی نوعیت پر کوئی قدغن نہیں لگائی گی۔چنانچہ اس نے نہ صرف 8سال کی عمر کے بچوں کو 2بجے سے 8:30تک مسلسل کام کرانے سے خود کو محظوظ کیا بلکہ اُن کو اس دوران بھوکوں رکھ کر بھی لطف اندوز ہوا۔

ارے ، اُس کا دِل ،

معاہدے میں تو یہی لکھا ہے۔118؂

شائلاک shylockکے انداز میں 1844کے قانون کے الفاظ کے ساتھ چمٹ کر رہ جانے کا مقصد، جہاں تک کہ اس قانون نے بچوں کے محن کو منظم کیا،یہ تھا کہ اس قانون کے خلاف کھلی بغاوت کا آغاز کیا جائے، جہاں تک یہ قانون جوان لوگوں اور عورتوں کے کام کو اصول ضابطے کے تحت لاتا تھا۔ یہ بات یاد رکھی جائے گی کہ اس قانون کا خاص مقصدو منشا ریلے کے غلط نظام کی تنسیخ تھا۔ مالکان نے اس بیان کے ساتھ اپنی بغاوت کا آغاز کر دیا کہ1844کے قانون کی دفعات جن کی رو سے مالک پر روک لگا دی گئی کہ وہ اپنی مرضی سے بچوں اور عورتوں کا استعمال چھوٹے چھوٹے وقفوں میں 15گھنٹوں کی دیہاڑی کے دوران نہیں کر سکتا نسبتاً بے خطرہیں جب تک کہ دیہاڑی کی قانونی حد 12گھنٹے کر دی گئی ہے۔ لیکن 10گھنٹے کے قانون کے تحت وہ [قوانین] سخت مشکل تھے۔119؂ اُنہوں نے انسپکٹروں کو بڑے ٹھنڈے طریقے سے آگاہ کیا کہ اُنہیں چاہیے کہ خود کو قانون کی حد سے بالا رکھیں ، اور پرانے نظام کواپنی ذمہ داری پر ہی بحال کر دیں۔120؂ وہ تو خود گمراہ شدہ مزدوروں کے حق میں کام کر رہے تھے، تاکہ ان کو زیادہ اُجرتیں دینے کے قابل ہو سکیں۔ یہی وہ واحد ممکن منصوبہ تھا جس کے ذریعے دس گھنٹے کے بِل کے تحت برطانیۂ عظمیٰ کی صنعتی برتری کو برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ ممکن ہے کہ ریلے کے نظام کے تحت بے قاعدگیوں کا سراغ لگانا کچھ مشکل ہو؛ لیکن اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟ آیا کہ اس ملک کے عظیم صنعتی مفاد کو محض اس وجہ سے ثانوی حیثیت دی جائے کہ فیکٹری انسپکٹروں اور ان کے معاونین کو کچھ اُلجھنوں سے بچایا جا سکے؟ 121؂

لیکن یہ ساری کی ساری چال بازیاں بے نتیجہ ہی رہیں۔ فیکٹری انسپکٹران نے قانونی عدالتوں کی طرف رجوع کیا۔ لیکن جلد ہی مالکان کی طرف سے ہوم سیکرٹری جارج گرے George Greyکو پیش کی جانے والی تمام درخواستوں پر گرد کے ایسے بادل حائل ہو گئے کہ 5اگست 1848کے ایک اعلامیے میں اُس نے انسپکٹران کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے مِل مالکان کے خلاف معلومات مہیا نہ کریں جو قانون کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر چھوٹے بچوں کو ریلے سسٹم کے تحت کام پر لگاتے ہیں اور ایسی صورت میں کہ جب اُن کے پاس کوئی ایسا ثبوت بھی نہ ہو جس سے یہ پتاچلتا کہ ایسے نوجوانوں کو اُس عرصے سے زیادہ وقت تک کام پر لگائے رکھا جاتا ہے جو اُن کے لئے قانونی طور پر جائز ہے۔ اس موقع پر فیکٹری انسپکٹر جے سٹیورٹ نے پورے سکاٹ لینڈ میں اس بات کی اجازت دے دی کہ نام نہاد ہاڑی کے پورے 15گھنٹے ریلے سسٹم کے تحت کام چلانے کی اجازت دے دی، چنانچہ اس جگہ یہ جلد ہی ترقی کر گیا۔دوسری طرف انگریز فیکٹری انسپکٹران نے اعلان کیا کہ ہوم سیکرٹری کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں کہ قانون معطل کر سکے؛ چنانچہ اُنہوں نے اس غلامی پسند بغاوت کے خلاف اپنی قانونی کارروائیاں جاری رکھیں۔

لیکن اُس وقت سرمایہ داروں کو عدالتوں میں اکٹھا کرنے سے کیا حاصل جب عدالتیں _اس معاملے میں دیہی مجسٹریٹ یعنی کوبٹCobbett کے عظیم بے تنخواہ_ہی انہیں رہا کر دیں؟ ان عدالتوں میں تومالکان خود ہی اپنے فیصلے صادر کرنے کو آن موجود ہوتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ فرمائیں: Kershaw, Leese, & Co., نامی روئی کاتنے والی ایک مِل چلانے والے آدمی Eskriggeنے اپنے ضلع کے فیکٹری انسپکٹر کے سامنے اپنی مِل میں رائج کرنے کے ارادے سے ایک ریلے کے نظام کی پوری تفصیل رکھی۔ انکار سُن کر وہ پہلے تو خاموش رہا۔ چند ماہ بعد رابنسن نامی ایک شخص جو روئی کاتنے والے کارخانے کے مالک تھا گو کہ Eskriggeکا مقلد تو نہ تھا اسٹاک پورٹ کے مجسٹریٹوں کے سامنے اس الزام میں پیش ہوا کہ اِن صاحب نے بھی اُسی قسم کا ریلے کا نظام تیار کیا ہے جیسا Eskriggeنے ایجاد کیا تھا۔ چار منصفین اُس مقدمے کے سماعت کے لئے براجمان ہوئے۔ اُن میں سے تین روئی کاتنے والے کارخانوں کے مالک تھے اور اُن کا افسر یہEskriggeنامی شخص ہی تھا۔ Eskriggeنے رابنسن کو آزاد کر دیا چنانچہ وہ اب اس نظرئے کا قائل تھا کہ جو بات رابنسن کے لیے درست ہے ایسکریگی کے لیے بھی موزوں ہے۔ خود اپنے دئے ہوئے فیصلے سے متاثر ہو کر اُس نے ریلے کا یہی نظام اپنے کارخانے میں بھی رائج کر دیا۔ 122؂یقینا اس عدالت کا قیا م بذاتِ خود قانون شکنی ہے123؂۔ انسپکٹر ہووِل کہتا ہے کہ ان قانونی اداروں کو خود اصلاح کی اشد ضرورت ہے_ یا تو ایسا ممکن ہو کہ قانون اس انداز میں بدلا جائے کہ وہ ان فیصلوں کے مطابق ڈھل جائے ؛ یا یہ کہ قانون کو کم غلطی کرنے والی عدالتیں نافذ کریں جن کے فیصلے قانون کے مطابق ہوں..... جب ایسے مقدمات عدالتوں میں لائے جائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ [ان معاملات میں] وظیفہ خور مجسٹریٹ مقرر کئے جائیں۔124؂

شاہی وکلاء نے مِل مالکان کے 1848کے قانون کی بابت تاویلات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ لیکن سماج کے ناخدا ؤں نے خود کو اپنے مقصد سے ہٹنے کی اجازت نہ دی۔ لیونارڈ ہارنر رقم طراز ہے: یہ کوشش کرنے کے لئے کہ یہ قانون نافذ ہو، سات مجسٹریٹی عدالتوں میں دس مقدمات درج کرانے اور صرف ایک مجسٹریٹ سے حمایت حاصل کرنے کے بعد ..... میں اس نتیجے پر پہنچا کہ قانون کی اس خلاف ورزی کے خلاف مزید مقدمات دائر کرانا بے نتیجہ ہے۔1848کے قانون کا وہ حصہ جو محن کے دورانیے میں یکسانگی پیدا کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا،..... میرے علاقے( لنکا شائر )میں اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ جب ہم کسی مِل کا معائنہ کرتے ہیں جس میں شفٹیں چلا کر کثرتِ کار کی جا رہی ہے ، تو میرے اور میرے ماتحتوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ بھی موجود نہیں ہے جس سے ہماری تسلی ہو سکے کہ نو عمر لڑکے اور عورتیں 10گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کر رہے .... 30اپریل کی ایک رپورٹ کے مطابق _جو ایسے مِل مالکان کے بارے میں ہے جن کا کام شفٹوں میں چلتا ہے_ [زائد کام کرنے والوں کی] یہ تعداد 114تک پہنچ چکی ہے اور کچھ ہی عرصے کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ عام حالات میں مِل میں کام چلانے کا دورانیہ بڑھ کر -03 گھنٹے ہو گیا ہے ، یعنی صبح 6بجے سے شام 7-30 بجے تک ۔...... بعض حالات میں تو یہ دورانیہ 15گھنے تک بھی متجاوز ہو گیا ہے؛ یعنی صبح 5 -30 سے شام 8-30 تک۔125؂ قبل ازیں دسمبر 1848میں لیونارڈ ہارنر نے 65کارخ




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے