ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176886
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ5
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

نہ داروں اور 29 نگرانوں کی ایسی فہرست مہیا کی ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ریلے کے اس نظام کے تحت نگرانی کا ہر نظام کثرتِ کار کی بہتات کو روک نہیں سکتا۔126اب اِنہی بچوں اور نو عمر لڑکوں کو کاتنے والے کمرے سے بُننے والے کمرے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔127؂ اور اب 15_گھنٹے کے دوران_ایک فیکٹری سے دوسری فیکٹری میں۔ پھر ایک ایسے نظام کو قابو میں لانا کیسے ممکن تھا جو ادلی بدلی کے لبادے میں ایسے بہت سے طریقے رکھتا ہے جن میں سے کسی کو بھی استعمال کرتے ہوئے مزدوروں کے کام اور آرام کے اوقات میں ان کی اس طرح سے ادلی بدلی کرتا رہے کہ آپ کو ایک ہی وقت میں اور ایک ہی کمرے میں وہ تمام کے تمام مزدور بیک وقت کام کرتے ہوئے نظر نہ آئیں۔128؂

لیکن حقیقی کثرتِ کار سے الگ رہ کر بھی ادلی بدلی کا یہ نظام مکمل طور پر سرمایہ دارانہ خیال آفرینی کی پیداوار ہے۔جیسے فوریئر اپنے مزاحیہ خاکوں Courtes Seances میں اس بات سے آگے کبھی نہ بڑھ سکا کہ محن کی کشش سرمائے کی کشش میں بدل چکی ہے۔اس سلسلے میں مالکانِ کارخانہ کی اُن اسکیموں کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جنہیں قابلِ احتراماخبارات نے ایسے نمونوں کے بطور سراہا ہے جوکہ معقول طریقۂ کار اور احتیاط سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ مزدوروں کے جتھے کو بعض وقت 12سے 14گروہوں میں تقسیم کر دیا جاتا جن کی ترتیب خود بھی بار بار بدلتی رہتی۔کارخانے کے 15گھنٹے کے دوران سرمایہ مزدوروں کو کبھی 30منٹ کے لئے کام پر لگاتا، پھر ایک گھنٹے کے لئے ، پھر کبھی اُسے دوبارہ باہر بھیج دیتاتاکہ اس کو تازہ دم ہونے پر ایک بار پھر فیکٹری میں کام کرنے کے لئے لایا جا سکے۔ اسے وقت کے بکھرے ہوئے وقفوں میں کام کے لئے کبھی اِدھر گھسیٹا جاتا اور کبھی اُدھر، اور دس گھنٹے کا کام مکمل ہوئے بغیر اُس پر ایک لمحہ بھی گرفت نہ ڈھیلی کی جاتی۔ جیسے ایکٹ اور منظر( scene)کے بدل جانے پر بھی ایک ہی آدمی کو بار بار سٹیج پر نمودار ہونا پڑتاہے۔ لیکن جس طرح ایک اداکارکھیل کے پورے دورانیے کے لیے سٹیج ہی کی ملکیت ہوتا ہے؛ اسی طرح مزدور بھی 15گھنٹوں کے دوران فیکٹری کی ملکیت ہوتے ہیں اور اس میں آنے اور جانے کا وقت بھی شمار نہیں کیا جاتا۔اس طرح آرام کے اوقات بھی جبریہ بے کاری میں بدل جاتے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکے شراب خانوں میں اور لڑکیاں چکلوں میں جانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ہر وہ نیا شعبدہ جو سرمایہ دار ایجاد کرتا ہے تاکہ اپنی مشینوں کو مزدوروں کی تعداد دمیں اضافہ کئے بغیر 12یا 15گھنٹے تک چلائے رکھے ، مزدوروں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی خوراک تھوڑے تھوڑے وقفوں میں نگلیں۔ دس گھنٹے کے احتجاج کے وقت فیکٹری مالکان نے یہ شور مچایا کہ مزدور طبقے نے اس وجہ سے پٹیشن دائرکی ہے کہ 12گھنٹے کی اُجرت صرف 10گھنٹے کام کر کے حاصل کی جا سکے۔اب اُنہوں نے صورتِ حال کو اُلٹ دیا ہے۔وہ اب قوتِ محن پر طاقت رکھنے کی وجہ سے اُنہیں 12یا 15گھنٹے کے محن کی اُجرت دس گھنٹے کے برابر دیتے تھے۔129؂یہی اس معاملے کا خلاصہ تھا، یعنی دس گھنٹے کے قانون کی بابت مالکان کا تشریحی نقطۂ نظر! یہ تھیں آزاد تجارت کے حامیوں کی محبتِ انساں سے شرابور چکنی چپڑی باتیں؛ جنہوں نے قانونِ غلہ کی تنسیخ کی دس سالہ تحریک کے دوران پونڈ شلنگ اور پینس وغیرہ کی جمع تفریق کر کے مزدوروں کو یہ تبلیغ کی کہ غلہ کی کھلی درآمد کے ساتھ اور انگلستانی صنعت کے پاس دیگر ذرائع کے ساتھ دس گھنٹے کا کام بھی اِتنا کافی ہو گا کہ سرمایہ دار کو امیر کر سکے۔130؂ آخر کار دو سال بعد سرمائے کی یہ بغاوت اس طرح سے فتح یاب ہوئی کہ انگلستان کی چار بڑی عدالتوں میں سے ایک عدالت نے_یعنی Cort of Exchequerجس نے 8فروری 1850کو اپنے سامنے پیش کئے جانے والے ایک مقدمے میں _یہ فیصلہ دیا کہ کارخانہ دار یقینا 1844کے قانون کی رو کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ؛ لیکن یہ ہے کہ خود اس قانون ہی میں ایسے الفاظ موجود ہیں جو اسے بے معنی بنا دیتے ہیں۔ اس فیصلے کے ذریعے دس گھنٹے کا قانون قلم زد کر دیا گیا۔131؂ فیکٹری مالکان کا ایک بہت بڑا ہجوم جو اس وقت تک ادلی بدلی کا نظام کم عمر لڑکوں اور عورتوں پر رائج کرنے سے گریزاں تھا اب اُس نے اس نظام کو بڑی خوش دِلی سے نافذ کر دیا۔132؂

لیکن سرمائے کی اس ظاہری فیصلہ کن جیت کے بعد ایک فوری ہیجان اُٹھ کھڑا ہوا۔ اب تک تو مزدور طبقے نے انفعالی اگرچہ بے لچک مدافعت کی تھی ۔ اب اُنہوں نے لنکا شائر اور یاک شائر میں دہشت ناک احتجاج بپاکئے۔ چنانچہ دس گھنٹے کا یہ نمائشی قانون محض ایک فریب اور پارلیمانی دھوکا بازی تھا، جس کا وجود کبھی بھی عمل میں نہ آیا تھا! فیکٹری کے معائنہ کاروں نے حکومت کوہنگامی طور پر اس بات سے آگاہ کیا کہ طبقوں کا تضاد اب ایک غیر معمولی مخاصمت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔کچھ فیکٹری مالکان نے خود بھی دبی زبان میں کہا: مجسٹریٹوں کے متضاد فیصلوں کی وجہ سے اب ایسی غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے جو انارکی سے پُر ہے۔ ایک قانون یاک شائر میں نافذ ہے دوسرا لنکا شائر کے ارد گرد اور تیسرا اس کے بالکل ہمسائے میں۔ کارخانہ دار بڑے قصبوں میں قانون کو نظر انداز کر سکتا ہے ، لیکن مفصلاتی علاقوں کا کارخانہ دار ادلی بدلی کا نظام چلانے کے لئے درکار افراد حاصل نہیں کر سکتا؛ اور ایک کارخانے سے دوسرے کارخانے میں مزدوروں کی منتقلی کا کام اس سے بھی دشوار ہے۔،اور سرمائے کا اولین پیدائشی حق یہ ہے کہ سب سرمایہ دار قوتِ محن کا یکساں استحصال کریں۔

ایسے حالات میں مالکان اور کارکنان کے مابین مفاہمت کرائی گئی، جس پر پارلیمنٹ نے 5اگست 1950میں ایک اور قانونِ کارخانہ کی صورت میں اپنی مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔نوعمر لڑکوں اور عورتوں کے لئے دیہاڑی کی طوالت میں اضافہ کرتے ہوئے اسے ہفتے کے اولین پانچ دنوں میں 10سے -03گھنٹے اور ہفتہ کو کم کرتے ہوئے -03گھنٹے کر دیا گیا۔ کام کو صبح 6بجے سے شام 6بجے تک چلایا جاتا تھا133؂ جس میں کھانے کے لئے کم از کم -03 گھنٹے کا وقفہ لازم تھا۔ کھانے کے لئے یہ وقفے صرف اور صرف ایک بار ہی دیے جاتے تھے، اور یہ1844کے قانون کے مطابق ہی تھا۔یہ طریقہ استعمال کرتے ہوئے ادلی بدلی کے نظام سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان چھڑا لی گئی۔134؂ بچوں کے محن کی بابت 1844کا قانون




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ5
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے