ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 825
عنوان ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 176884
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی - کی دوسری شاخیں-

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ6
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7-گذشتہ صفحہ

ہی نافذالعمل رہا۔

اس بار بھی حسبِ سابق مالکان کے ایک گروہ نے پرولتاریہ بچوں پر خاص مالکانہ حقوق حاصل کر لئے۔ اور یہ ریشم کے تیار کنندگان تھے۔ 1833میں وہ دھمکی آمیز انداز میں اس بات کا شور مچا چُکے تھے کہ اگر کسی عمر کے مزدور بچوں کی ہر روز 10گھنٹے کام کرنے کی آزادی چھین لی جاتی ہے تو اس سے اُن کاکام رک جائے گا۔ان کے لئے یہ ناممکن ہو گا کہ وہ 13سال سے زیادہ عمر کے بچوں کی معقول تعداد کو خرید سکیں۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنی ضرورت کی رعایتیں حاصل کر لیں۔ بعد ازاں تحقیقات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اُنہوں نے جو عذر تراشا تھا وہ جھوٹ پر مبنی تھا۔136؂تا ہم اس بات نے اُنہیں دس سال تک مسلسل دس گھنٹے غریب بچوں کے خون سے لگاتار 10گھنٹے روزانہ ریشم کاتنے سے نہ روکا ۔ان بچوں کو کام کرنے کے لئے بنچوں پر کھڑا رکھا جانا پڑتا تھا137؂۔ 1844کے قانون نے اُن سے یقینا 11سال سے کم عمر کے بچوں کو -03گھنٹے سے زیادہ تک استعمال کرنے کی آزادیکو بھی سلب کر لیا۔لیکن دوسری طرف اُنہیں یہ مراعت بھی مل گئی کہ 11اور 13سال کی عمر کے بچوں کے روزانہ دس گھنٹے کام لیں اور اس طرح دوسرے کارخانوں کے تمام بچوں کولازمی تعلیم دلوانے کی پابندی سے مذکورہ بچوں کے معاملے میں بھی بَری رہیں۔اس مرتبہ بہانہ یہ بنایا گیاکہ کپڑے کی نازک بُنت جس میں وہ کام کرتے ہیں، یہ تقاضہ کرتی ہے کہ ان کپڑوں کو بڑی احتیاط سے ہاتھ لگایا جائے اور اس معاملے میں وہ تب ہی ماہر ہو سکتے ہیں کہ فیکٹری میں بہت چھوٹی عمر میں آئیں۔ 138؂بچوں کو اُن کی نازک اُنگلیوں کی وجہ سے بالکل اسی انداز میں بار بار ذبح کیا جاتا رہا جیسے جنوبی روس میں سینگ والے جانور اپنی کھال اور چربی کی وجہ سے ذبح کئے جاتے ہیں۔تا آں کہ وہ رعایت 1844میں دی گئی تھی،اسے 1850میں صرف ریشم کاتنے اور دھاگہ بنانے کے شعبوں تک محدود کر دیا گیا ۔ مگر اب جبکہ سرمایہ اپنی آزادی کھو چکا تھا اس کو خوش کرنے کے لئے 11سے13سال کی عمر کے وہ بچے جو پہلے 10گھنٹے روزانہ کام کرتے تھے اس کو بڑھاتے ہوئے -03گھنٹے کر دیا گیا ۔اس کے لئے عذر یہ تھا کہ ریشم کے کارخانوں کی محنت دوسرے کاموں کی نسبت ہلکی پھلکی ہے ، اور دوسرے لحاظ سے بھی صحت کے لئے کم نقصان دہ ہے۔ 139؂بعد ازاں سرکاری طبّی تفتیشوں نے اس بات کو اُلٹ ثابت کر دیا کہ، لنکا شائر کے روئی کے اضلاع کی نسبت ریشم کے اضلاع میں شرح اموات زیادہ ہے ؛ اور عورتوں کے معاملے میں یہ لنکا شائر کے کپاس کے اضلاع سے بھی زیادہ ہے۔ 140؂کارخانوں کے معائنہ کنندگان کے احتجاج کے باجود جو ہر 6ماہ میں دوہرایا جاتا ہے ؛ یہ برائی ابھی تک جاری ہے۔141؂

1850کے قانون نے عورتوں اور بچوں کے لئے 15گھنٹے کے وقتِ کار کو صبح 6بجے سے شام 8:30بجے تک سے بدل کر صبح 6بجے سے شام 6بجے کر دیا، یعنی پورے 12گھنٹے۔ تاہم اس قانون سے ایسے بچوں کا کوئی فائدہ نہ ہوا جن کو اس دورانئے سے تقریباً ایک آدھ گھنٹہ قبل اور -03 گھنٹے بعد کام پر لگایا جاتا بشرطیکہ ان کا سارا کام -03گھنٹے سے تجاوز نہ کر جائے۔ جس دوران بِل پر بحث ہو رہی تھی اس وقت فیکٹری کے معائنہ کاروں نے اس بے تُکے پن کی وجہ سے پیدا ہونے والی لعنتوں کے تمام اعدادوشمار پیش کئے تھے، مگر بے فائدہ ۔حقیقت میں درپردہ وہ اس بات کا ارادہ رکھتے تھے کہ خوش حالی کے دنوں میں چھوٹے بچوں کی مدد سے جوانوں کے محن کا دورانیہ 15گھنٹے کر دیا جائے۔ اگلے تین سال کے تجربے سے یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ اس قسم کی کوشش بڑی عمر کے مزدوروں کی مزاحمت کی وجہ سے قطعی طور پر شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ 1850کا ایکٹ آخر کار اس حکم کے ساتھ منظور ہو گیا کہ جوانوں اور عورتوں کے کام کے آغاز سے پہلے اور کام ختم کرنے کے بعد بچوں کو کام پر لگانا منع ہے۔اس کے بعد چند مستثنیات کے علاوہ 1850کے قانون نے صنعت کی اُن تمام شاخوں کی دیہاڑی کو منظم کر دیا جو اس کے حلقۂ اثر میں آتی تھیں۔142؂اب فیکٹری کی بابت پہلے قانون کو منظور ہوئے آدھی صدی گزر چکی تھی۔143؂

1845کے print work actکے تحت قانونِ کارخانہ پہلی مرتبہ اپنی حدود سے باہر نکلا۔ جس ناخوشی کے ساتھ سرمائے نے اس نئی زیادتی کو قبول کیا وہ اس قانون کی ہر ہر سطر سے ظاہر ہوتی ہے۔یہ قانون بچوں کے لئے 8سے 13گھنٹے کی دیہاڑی متعین کرتا ہے ؛ اور عورتوں کے لئے 16گھنٹے کی یعنی صبح 6بجے سے شام10بجے تک کھانے کے لئے کسی وقفے کے بغیر۔144؂اس کو پارلیمانی اسقاط کہا جا سکتا ہے۔145؂

تاہم اصول کو صنعت کی اُن شاخوں میں اپنی جیت کی خوشی تھی جس نے خالصتاً خواصی اعتبار سے جدید طبعِ پیداوار کو جنم دیا تھا۔1853سے لے کر 1860تک ان شاخوں کی حیرت انگیز ترقی جس کے ساتھ ساتھ فیکٹری کے مزدوروں میں جونئی زندگی پیدا ہوئی وہ کوئی اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ وہ مِل مالکان جن سے نصف صدی کی خانہ جنگی کے بعد قانونی حد بندیاں اور ضوابط درجہ بدرجہ منوائے گئے ؛ بذاتِ خود صنعت کی ان شاخوں کا کنائتاًپتا دیتے ہیں جن میں استحصال کی آزادی ابھی تک موجود ہے۔ 146؂ سیاسی معاشیات کے نمائشی ملاؤں نے اب یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ قانونی طور پر متعین دیہاڑی کی ضرورت اُن کی سائنس کی مخصوص دریافت ہے۔147؂یہ بات باآسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ جب کارخانہ دار وں نے خود کو بے بس پایا اور ناگزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئے تو سرمائے کی مزاحمت کی قوت رفتہ رفتہ کمزور پڑ گئی؛ جبکہ اسی دوران مزدور طبقے کی جارحیت کی قوت اس انداز میں بڑھتی چلی گئی کہ اُنہیں معاشرے کے ایسے حلیف طبقات کی حمایت حاصل ہو تی چلی گئی جو فی الوقت اس مسئلے میں براہِ راست دلچسپی نہ رکھتے تھے۔لہٰذا 1860سے ارتقاکی رفتار نسبتاً تیز ہو چکی تھی۔

1860میں رنگ سازی اور رنگ کاٹنے وغیرہ کی سب صنعتیں 1850کے قوانینِ کارخانہ کے تحت آگئیں148؂، اور 1861میں لیس اور جرابیں بنانے والی تمام صنعتیں بھی اس قانون کے تحت ہی آگئیں۔

بچوں کو ملازم رکھنے کی بابت کمیشن کی اولین رپورٹ( 1863)کے نتیجے میں ، تمام سامانِ ظروف( اس میں صرف کمہار ہی شامل نہ تھا)،بارودی ماچسیں ، بارود کے گولے، بندوق کی گولیاں، قالین، موٹے کپڑے کی کٹائی، اور اس کے علاوہ بھی کئی ایک چیزیں بنانے والے کارخانوں کے مالکان بھی اسی قانون کی زد میں آئے۔ سال 1863میں کھلی ہوا میں رنگ کاٹنے149؂ ، اور بیکری سے متعلقہ کاموں کے لئے بھی خصوصی قانون متعین کئے گئے جن کے ذریعے اول الذکر کام میں ، راتوں کو(یعنی شام 8بجے سے صبح 6بجے تک )کم عمر لڑکوں اور عورتوں کے کام پر اور آخرالذکر شعبے میں رات 9بجے سے صبح5بجے تک 18سال سے کم




ٹوٹل صفحے8
موجودہ صفحہ6
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7-گذريل صفحو

ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی ان داشلائوں میں استعمال ھے
ایک نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ وقتِ محن کی قانونی حد بندی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے