بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 811
عنوان بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 231224
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی8

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ


CHAPTER VIII

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ

CONSTANT CAPITAL AND

VARIABLE CAPITAL



مصنوعہ کی قدر کی تشکیل میں عملِ محن کے مختلف عوامل مختلف کام سر انجام دیتے ہیں۔

مزدور اپنے محن کے معمول پراضافی محن کی ایک خاص مقدار خرچ کرتے ہوئے اس میں نئی قدر کا اضافہ کرتا ہے ، چاہے اُس محن کا مخصوص خاصہ اور افادیت کچھ بھی ہو۔دوسری طرف اس عمل میں استعمال کئے گئے ذرائع پیداوار کی اقدار محفوظ ہوتی ہیں اور مصنوعہ کی قدر کے اجزائے ترکیبی میں اپنے آپ کو از سر نو پیش کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر روئی اور تکلے کی قدر سوت کی قدر میں پھر سے نمودار ہو جاتی ہیں۔ اس طرح سے ذرائع پیداوار کی قدر ایک مصنوعہ میں منتقل ہونے کی وجہ سے محفوظ رہتی ہے۔ یہ منتقلی ذرائع [پیداوار] کے مصنوعہ میں بدلنے کے دوران رونما ہوتی ہے؛ دوسرے لفظوں میں عملِ محن کے دوران۔ یہ منتقلی محن ہی لاتا ہے؛ لیکن کیسے؟

مزدور ایک وقت میں دوعملوں کو جاری نہیں رکھتا: ایک کو روئی میں قدر بڑھانے کی غرض سے اور دوسرے کو ذرائع پیداوار کی قدر کو محفوظ کرنے کی غرض سے، یا پھر یوں کہہ لیں کہ ، سوت یعنی مصنوعہ میں اُس روئی کی قدر منتقل کرنے میں جس پر وہ کام کرتا ہے، اور تکلے کی قدر کا وہ حـصہ جس کے ساتھ وہ کام کرتا ہے، بلکہ نئی قدر کا اضافہ کرنے والے کام ہی سے وہ ان کی سابقہ قدر کو محفوظ کرتا ہے۔ تاہم چونکہ اپنے محن کے معمول میں نئی قدر جمع کرنا اور اس کی سابقہ قدر کو محفوظ کرنا ، قطعی طور پر دو علیحدہ نتائج ہیں جنہیں مزدور بیک وقت ایک ہی عمل کے دوران پیدا کرتا ہے ، تو یہ صاف بات ہے کہ اس نتیجے کی دو رخی نوعیت کی وضاحت محض اس کے محن کے دو رخے خاصے کی بدولت ہی کی جا سکتی ہے۔ ایک ہی وقت میں، ایک خاصے کی رو سے اسے قدر پیدا کرنی چاہیے ، اور دوسرے خاصے کی رو سے قدر کو محفوظ یا منتقل کرنا چاہیے۔

اب ایک مزدور کس طریق سے نئے محن کا اضافہ اور نتیجتاً نئی قدر کیسے پیدا کرتاہے؟ صاف بات ہے کہ ایک خاص افزودہ انداز میں محنت کرتے ہوئے؛ یعنی کتائی کرنے والا کاتتے ہوئے ، جولاہا بُنتے ہوئے ، اور لوہا ر لوہا کوٹتے ہوئے۔ لیکن اس طرح سے محن ،یعنی قدر کو عمومی انداز میں [مصنوعہ میں ] متجسم کرنے کے دوران،مخصوص بنتر کے محن: کاتنے، بُننے اور لوہا کوٹنے کی سرگرمی سے ذرائع پیداوار جیسے روئی اور تکلا ، سوت اور کھڈیloom ، لوہا اور بدان ،مصنوعہ یعنی ایک نئی قدرِ صرف کے اجزائے ترکیبی بن جاتے ہیں1؂۔ہر ایک قدرِ صرف محض اس کے لئے غائب ہو جاتی ہے کہ ایک نئی قدرِ صرف کی نئی بنتر میں ظاہر ہو سکے۔ قدر پیدا کرنے والے عمل کے مشاہدے کے دوران ہم نے دیکھا، کہ اگر ایک قدرِصرف کسی نئی قدرِ صرف کی پیداوار کے دوران موثر انداز میں خرچ ہو توخرچ ہونے والی چیز پر استعمال ہونے والے محن کی مقدار اس مقدارِ محن کا ایک حصہ تشکیل دیتی ہے جو ایک نئی قدرِ صرف کی پیداوار کے لئے لازمی ہو۔ یہی حصہ وہ محن ہے جو پیداواری ذرائع نئی مصنوعہ میں منتقل کرتے ہیں۔ پس مزدور خرچ شدہ ذرائع پیداوار کی اقدار کو محفوظ کرتا ہے تو وہ ایسا اپنے اضافی محن کی بدولت نہیں کرتا جسے تجریدی انداز میں لیا جائے گا، بلکہ اس محن کے مخصوص مفید خاصے کی بدولت یعنی اس کی خاص تخلیقی شکل کی بدولت کرتا ہے۔پھر جہاں تک کہ محن ایک ایسی مخصوص تخلیقی سرگرمی ہے ، جیسا کہ یہ کاتنا ، بُننا یا لوہا کوٹنا ہے ، تو یہ محض ایک رابطے کی بدولت ذرائع پیداوار کو مردہ حالت سے زندگی عطا کرتی ہے اور ان کو عملِ محن کے زندہ عوامل بنا دیتی ہے، اور نئی مصنوعات بنانے کے لئے ان کے ساتھ مل جاتی ہے۔

اگر مزدور کا مخصوص تخلیقی محن کاتنا نہ ہوتا تو وہ روئی کو سوت میں نہ بدل سکتا،لہٰذا وہ روئی اور تکلے کی قدر کو سوت میں شامل نہ کر سکتا۔ فرض کریں کہ اُسی مزدور کو اپنا پیشہ بدل کر بڑھئی کا پیشہ اختیار کرنا پڑتا تو اس صورت میں بھی وہ ایک دن کے محن سے اُس مواد میں قدر کا اضافہ کرے گا جس پر وہ محنت کرتا۔ چنانچہ پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نئی قدر کا اضافہ اس کے محن کی مخصوص شکل کاتنے، یا، چھیلنے کی بدولت نہیں ہوتا، بلکہ اس وجہ سے کہ یہ تجریدی شکل کا محن ہے، یعنی سماج کے کُل محن کا ایک جزو۔ اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بڑھائی جانے والی قدر ایک مخصوص مقدار ہے، اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ اُس کے محن کی مخصوص افادیت ہے ، بلکہ اس وجہ سے کہ یہ ایک خاص وقت کے لئے لگایا گیا ہے۔ پھر ایک طرف یہ اس کے انسانی قوتِ محن کے عمومی خاصے یعنی اس کی تجریدی شکل کی بدولت ہی ہے کہ کاتنے کا عمل روئی اور تکلے کی اقدار میں نئی قدر کا اضافہ کرتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ اُس کے مخصوص خاصے،یعنی مفید مقرونی عمل کی بدولت ہے کہ کاتنے کا یہی محن مصنوعہ میں ذرائع پیداوار کی قدر کو بھی منتقل کرتا ہے اور ان کو مصنوعہ میں محفوظ بھی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے بیک وقت دو رخا خاصہ پیدا ہوتا ہے۔

محن کی مخصوص مقدار کے سادہ سے اضافے سے، نئی قدر کا اضافہ ہوتا ہے اور اس اضافہ شدہ محن کی خصوصیت کی بدولت مصنوعہ میں ذرائع پیداوار کی پہلی والی اقدار محفوظ ہو جاتی ہیں۔ یہ دو رُخا اثر جو محن کے دو رُخے خاصے کا نتیجہ ہے مختلف مظاہیر میں جانا جا سکتا ہے۔

فرض کرتے ہیں کہ کاتنے والا کسی ایجاد سے اس قابل ہو جاتا ہے کہ جتنی روئی کو وہ 36گھنٹوں میں کاتتا تھا اب 6گھنٹے میں کاتے۔ اُس کا محن اب مفید پیداواری عمل کے لئے پہلے کی نسبت 6گُنا زیادہ افزودہ ہے۔ چھ گھنٹے کے کام کی مصنوعہ میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے، یعنی 6پونڈ سے 36پونڈ۔ لیکن اب روئی کے 36پونڈ محن کی صرف اتنی ہی مقدار جذب کریں گے جتنی کہ ماقبل روئی کے 6 پونڈکرتے تھے۔ اب روئی کا ہر پونڈ محن کا چھٹا حصہ جذب کرتا ہے ، اور نتیجتاً ہر پونڈ میں محن کی داخل کی گئی قدر اب پہلے کی نسبت چھٹا حصہ رہ گئی ہے۔ دوسری طرف مصنوعہ ، یعنی سوت کے36پونڈ میں روئی سے منتقل کی گئی قدر اب پہلے کی نسبت چھ گنا زیادہ ہے۔ چھ گھنٹے کے کاتنے کے عمل سے خام مال کی جو قدر مصنوعہ میں منتقل اور محفوظ ہوئی ہے ، اب پہلے کی نسبت چھ گنا زیادہ ہے، اگرچہ کاتنے والے کے محن کی بدولت اسی خام مال میں داخل کی گئی نئی قدر پہلے کی نسبت چھ گُنا کم ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ محن کے دو خواص جن کی بدولت ایک طرف تو یہ قدر کو محفوظ کرنے میں کامیاب ہوا اور دوسری طرف قدر پیدا کرنے کے لئے، اپنے جوہر ہی کی وجہ سے مختلف ہیں۔ ایک طرف روئی کے مخصوص وزن کو سوت کی صورت میں کاتنے کے لئے درکار عرصہ جتنا زیادہ ہو گا ، مواد میں جمع ہونے والی قدر اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ دوسری طرف مخصوص وقت میں روئی کی جتنی زیادہ مقدار سوت کی صورت میں کاتی جائے گی ، محفوظ کی جانے والی قدر اس سے مصنوعہ میں منتقل ہوتے ہوئے اتنی ہی زیادہ بڑی ہو گی۔

اب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ کاتنے والے کا محن تبدیل ہونے کے بجائے مست




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے