بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 811
عنوان بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 231236
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی8

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

قل رہتا ہے ، مطلب یہ کہ اس کو روئی کے ایک پونڈ کو سوت میں بدلنے کے لئے اب بھی اُتنا ہی وقت چاہیے، جتنا کہ ماقبل چاہیے تھا، لیکن یہ ہے کہ روئی کی قدرِ مبادلہ بدل جاتی ہے، اور چاہے یہ تبدیلی اپنی ماقبل کی قدر سے چھ گُنا بڑھ جائے یا چھٹے حصے تک کم ہوجائے ۔دونوں صورتوں میں کاتنے والا روئی کے ایک پونڈ میں محن کی اُتنی ہی مقدار داخل کرے گا، چنانچہ اس میں اُتنی ہی قدر کا اضافہ کرے گا جتنی کہ قدر میں تبدیلی سے قبل کرتا تھا۔ یہ بھی ہے کی وہ اُتنے ہی وقت میں سوت کی اتنی مقدار پیدا کرتا ہے جتنی کہ پہلے کرتا تھا۔ اس کے باوجود جس قدر کو وہ روئی سے سوت میں منتقل کرتا ہے،یا تو وہ تبدیلی سے قبل کی قدر کا چھٹا حصہ ہے ،یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چھ گنا زیادہ ہو۔ آلاتِ محن کی قدر میں کمی بیشی کی صورت میں بھی یہی نتائج برآمد ہوتے ہیں،جبکہ اس عمل میں ان کی کار آمد اثر پذیری میں کوئی فرق نہیں آتا۔

مزید برا ں، اگر کاتنے کے عمل کے تکنیکی حالات بے بدل رہیں ، اور ذرائع پیداوار میں قدر کی کسی قسم کی تبدیلی رو نمانہ ہو ،تو کاتنے والا اُتنے ہی وقت میں خام مال کی اُتنی ہی مقدار ، اور ناقابلِ بدل قدر کی حامل مشینری کی اتنی ہی مقداریں خرچ کرتا رہے گا ۔ جس قدر کو وہ مصنوعہ میں محفوظ کرتا ہے ،اُس نئی قدر سے براہِ راست متناسب ہے جو وہ مصنوعہ میں داخل کرتا ہے۔دو ہفتوں میں ایک ہفتے کے مقابلے میں وہ دو گُنا زیادہ محن متجسم کر لے گا ، چنانچہ دوگُنی زیادہ قدر، اور اسی عرصے کے دوران وہ دوگُنا زیادہ خام مال خرچ کرتا ہے اور مشینر ی کو دوگُنا زیادہ گھساتا ہے، یعنی ہر دو صورت میں قدر کا دو گُنا۔ لہٰذا وہ دو ہفتوں کی مصنوعہ میں ایک ہفتے کی مصنوعہ کی نسبت دو گُنی زیادہ قدر محفوظ کرتا ہے۔ جب تک پیداواری صورتِ حال یکساں رہے،مزدور تازہ محن کے ذریعے جتنی قدر کا اضافہ کرے گا اُتنی ہی زیادہ قدر وہ منتقل اور محفوظ کرے گا۔ مگر وہ ایسا کرنے میں محض اس وجہ سے کامیاب رہتاہے کہ نئی قدر کا یہ اضافہ اُن حالات کے تحت ہوا ہے جن میں تبدیلی نہیں آئی اور جو اس کے محن سے آزاد ہیں۔ یقینا ایک طرح سے یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ مزدور پرانی قدر کو ہمیشہ نئی قدر کی مقدار کے اسی تناسب میں محفوظ کرتا ہے جتنی وہ شامل کرتاہے۔ چاہے روئی کی قدر ایک سے بڑھ کر دو شلنگ ہو جائے، یا چھ پینس تک کم ہو جائے ، ہر دو صورتوں میں کام کرنے والا ایک گھنٹے کے محن میں اُس سے آدھا محن ہی مصنوعہ میں منتقل کرے گا جتنا وہ دو گھنٹے میں کرتا ہے۔ اسی انداز میں اگر اس کے اپنے محن کی افزودگی کمی یا زیادتی کی وجہ سے بدلتی ہے تو وہ ایک گھنٹے میں صورتِ حال کے مطابق پہلے کی نسبت کم یا زیادہ روئی کاتے گا ۔اور نتیجتاً وہ ایک گھنٹے کی مصنوعہ میں روئی کی کم یا زیادہ قدر محفوظ کرے گا، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ دو گھنٹے کے محن سے ایک گھنٹے کی نسبت دو گُنی قدر محفوظ کرے گا۔

قدر صرف کسی افادہ والی چیز ہی میں موجود ہو سکتی ہے، یعنی چیز وں میں: ہم اس کی مختلف علامتوں کے ذریعے ذریعے بیان کی جانے والی خالصتاً علامتی نمائندگیوں سے صرفِ نظر برت رہے ہیں۔( اگر انسان کو قوتِ محن کی جسمانیت کے بطور دیکھا جائے تو یہ خود بھی ایک فطری وجود ہی ہے یعنی ایک چیز، اگرچہ زندہ اور با شعور چیز، اور محن ہی اس کے اندر موجود قوت کا مظہرہے )اس لئے اگرکوئی چیز اپنی افادیت سے ہاتھ دھو بیٹھے تو یہ اپنی قدر بھی کھو دیتی ہے ۔ ذرائع پیداوار اپنی قدر کھو نہیں دیتے ، جب کہ اُس وقت وہ اپنی قدرِ صرف تو کھو ہی دیتے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عملِ محن میں اپنی قدرِ صرف کی بنیادی بنتر ہی کھوتے ہیں تاکہ مصنوعہ میں ایک نئی قدرِ صرف کی بنتر حاصل کر لیں۔ تاہم یہ بات قدر کے لئے چاہے جتنی اہم ہو کہ اُس کے پاس کوئی ایسی افادہ والی چیز ضرور ہونی چاہیے جس میں یہ اپنے آپ کو مجسم کر سکے ، اس کے باوجود اس کوئی اہمیت نہیں کہ یہ خاص مقصدکون سی چیز پورا کرتی ہے؛ اس کا مشاہدہ ہم نے اشیاء کی صوری تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کیا تھا۔ پس اس سے یہ مطلب نکلتاہے کہ عملِ محن میں ذرائع پیداوار مصنوعہ میں اپنی قدر صرف اسی حد تک منتقل کرتے ہیں جس تک وہ اپنی قدرِ صرف کے ساتھ ساتھ وہ اپنی قدرِ مبادلہ بھی کھو دیتے ہیں۔ وہ مصنوعہ کو صرف وہی قدر تفویض کرتے ہیں جو وہ خود ذرائع پیداوار کے بطور کھو دیتے ہیں۔ لیکن اس مسئلے میں عملِ محن کے مادی عوامل ایک ہی طرح کا رویہ نہیں دکھاتے۔ کوئلہ بوائلر کے نیچے جلتے ہوئے محض کچھ نشانی چھوڑکر راکھ ہو جاتا ہے، اسی طرح سے وہ گرِیس بھی جو پہیوں کے ایکسل میں دی جاتی ہے۔ رنگ کا سازوسامان اور اس طرح کی دیگر چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی غائب ہو جاتی ہیں لیکن مصنوعہ کے خواص کی شکل میں پھر سے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ خام مال مصنوعہ کی ماہیت تشکیل دیتا ہے لیکن صرف اس وقت جب یہ اپنی بنتر بدل لیتاہے۔ پس خام مال اور دیگر چھوٹی چھوٹی چیزیں، اُس مخصوص بنتر کو ختم کر دیتی ہیں جن میں وہ عملِ محن میں داخل ہو تے وقت ملبوس ہوتی ہیں۔ جبکہ آلاتِ محن کی صورتِ حال اس سے اُلٹ ہے۔سازوسامان ، مشینیں ، کارخانے ، اور برتن وغیرہ ، سب عملِ محن میں استعمال ہونے والی چیزیں ہیں لیکن صرف اس وقت تک جب تک وہ اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں اور ہر روز اسی عمل کو نئے سرے سے شروع کرنے کے لئے ان کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہوتی۔ اور جس طرح ان کی زندگی کے دوران ، کہنے کا مطلب یہ کہ ، مسلسل جاری عملِ محن کے دوران جس میں وہ کام آتے ہیں وہ اپنی شکل مصنوعہ سے آزاد رہ کر برقرار رکھتے ہیں، تو وہ اپنی موت کے بعد بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ تباہ شدہ مشینیں،اوزار، ورکشاپیں وغیرہ ہمیشہ اس مصنوعہ سے الگ اور علیحدہ ہوتے ہیں جن کو بنانے میں یہ استعمال ہوئے۔اگر اب ہم محن کے کسی بھی آلے کا اس کے کام کی پوری مدت کے دوران مطالعہ کریں ، یعنی اس کی ورکشاپ میں آمد کے دن سے کباڑ خانے میں روانگی تک، تو ہم یہ دیکھیں گے کہ اس عرصے کے دوران اس کی قدرِ صرف پوری طرح خرچ ہو چکی ہے ، چنانچہ اس کی قدرِ مبادلہ مکمل طور پر مصنوعہ میں منتقل ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک کاتنے والی مشین عرصۂ دس سال میں ختم ہوتی ہے تو یہ بات واضح ہے کہ کام کے اس عرصے کے دوران اس کی کُل قدربتدریج دس سال کی مصنوعات میں منتقل کی جا چکی ہے۔ محن کے کسی آلے کی کُل زندگی ایک ہی قسم کے عملوں کی خاص تعداد کے تکرار میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی زندگی کا موازنہ انسان کی زندگی سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہر آنے والا دن انسان کو اس کی قبر سے قریب تر کر دیتا ہے۔ لیکن شارع حیات پر اس کو ابھی مزید کتنا عرصہ چلنا ہے، یہ بات کوئی شخص بھی محض دوسرے پر ایک نظر ڈال




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے