بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 811
عنوان بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 231239
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی8

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

کر نہیں بتا سکتا۔ تاہم یہ مشکلات زندگی کی انشورنس کے دفاتر کو ، اوسط کی بنیاد پر بہت ٹھیک اور اس کے ساتھ ساتھ بہت نفع بخش حساب کتاب لگانے سے کسی طرح بھی نہیں روکتیں۔ چنانچہ یہی صورتِ حال آلاتِ محن کی بھی ہے۔ تجربے سے اس بات کا پتا چل جاتا ہے کہ ایک خاص قسم کی مشین کتنے عرصے تک کام کرتی رہے گی۔فرض کریں کہ اس کی عملِ محن میں قدرِ صرف محض چھ دن کے لئے ہے۔ اس صورت میں یہ روزانہ اپنی قدرِ صرف کا اوسطاً چھٹا حصہ کھو دیتی ہے اور نتیجتاً اپنی قدر کے چھٹے حصے کو روزانہ کی مصنوعات میں منتقل کر دیتی ہے۔ تمام آلات ِ محن کی روزانہ کی ٹوٹ پھوٹ ، یعنی ان کی قدرِ صرف کا روزانہ کا نقصان اور ان سے متعلقہ اس قدر کی مقدار جو وہ مصنوعہ میں منتقل کر دیتے ہیں، ان سب چیزوں کا تخمینہ اسی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔

چنانچہ اب یہ بات بہت واضح ہے کہ ذرائع پیداوار اُس سے زیادہ قدر کسی صورت بھی مصنوعہ میں منتقل نہیں کرتے جتنی وہ عملِ محن کے دوران اپنی قدرِ صرف کے استعمال پر کھوتے ہیں۔ اگر کسی ایسے آلے میں کوئی ایسی قدر ہی موجود نہ ہو جو استعمال ہو سکے ،دوسرے لفظوں میں اگر یہ محنِ انسانی کا مصنوعہ نہیں تو یہ مصنوعہ میں بھی کوئی قدر منتقل نہیں کرے گا۔ یہ قدرِ زائد کی تشکیل میں معاونت کیے بغیر ہی قدرِ صرف پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ تمام چیزیں اس زمرے میں آجاتی ہیں جن کو فطرت انسانی مداخلت کے بغیر ہی مہیا کرتی ہے جیسے زمین، آندھی، پانی، ابتدائی حالت میں دھاتیں اور آزاد جنگلات کے تناور درخت۔

ا س مقام پر ابھی ایک اور مظہر بھی ہمیں اپنی طرف متوجہ کراتا ہے۔ فرض کریں کہ ایک مشین 1,000 پونڈ قدر کی حامل ہے اور 1,000دن میں گھس کر ختم ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں مشین کی قدر کا ہزارواں حصہ روزانہ مصنوعہ میں منتقل ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ، اگرچہ کم پڑتی ہوئی استعدادسے، مشین مجموعی طور پر بھی عملِ محن میں حصہ لیتی رہتی ہے۔ پس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عملِ محن کا ایک پہلو ، یعنی ایک ذریعۂ پیداوار ، اس عمل میں مسلسل مجموعی طور پر بھی داخل ہوتا رہتا ہے، جبکہ قدر کی تخلیق کے عمل میں یہ بہت چھوٹے ٹکڑوں میں ہی داخل ہوتا ہے۔یہاں پر ان دونوں عملوں کا فرق ان کے مادی عوامل سے منعکس ہوتا ہے، یعنی پیداوار کے اُسی آلے سے جو عملِ محن میں مجموعی طور پر حصہ لے رہا ہے ، جبکہ اسی دوران میں قدر کے تشکیل کے عمل میں بطور ایک عنصر یہ صرف ایک جزو کے طور پر بھی داخل ہوتا ہے۔2؂

دوسری طرف ایک ذریعۂ پیداوار قدر کی تشکیل میں مجموعی طور پر بھی شامل ہو سکتا ہے جبکہ عملِ محن میں یہ محض تھوڑا تھوڑا ہی داخل ہوتا ہے۔ فرض کریں کہ روئی کے کاتنے میں ہر115پونڈ روئی کی کترن( waste)15پونڈ تک ہو جاتی ہے جو سوت میں نہیں بدلی جا سکتی بلکہ ضائع شدہ خام مال devils dust میں پھینک دی جاتی ہے۔ اب اگرچہ روئی کے یہ 15پونڈ سوت کے اجزائے ترکیبی میں کبھی شامل نہیں ہو سکتے ، اس کے باوجود اس مقدار کو کاتنے کی اوسط صورتِ احوال کے تحت نارمل اور ناگزیر سمجھتے ہوئے ، اس کی قدر بھی اتنے ہی یقین کے ساتھ سوت کی قدر میں شامل ہوئی ہے جتنا کہ 100پونڈ کی قدر، جو سوت کی ماہیت تشکیل دیتے ہیں۔روئی کے 15 پونڈ کی قدر ِ صرف کو 100گرام سوت کے بننے سے قبل ہر صورت میں خاک میں مل جانا چاہیے۔ چنانچہ اس روئی کا ختم ہونا سوت کی پیداوار کی ایک لازمی شرط ہے۔ اب چونکہ یہ ایک ناگزیر شرط ہے ، اور صرف اسی وجہ سے اُس روئی کی قدر مصنوعہ میں منتقل ہو جاتی ہے ۔ بالکل یہی بات عملِ محن کے نتیجے میں ضائع شدہ مال کے لئے بھی صحیح ہو گی ، جہاں تک کہ اس قسم کے مال کو ایک نئی اور آزاد قدرِ صرف کی پیداوار میں ذریعے کے بطور استعمال نہ کیا جائے۔ ضائع شدہ مال کی اس طرح کی کھپت کا مشاہدہ مانچسٹر میں وسیع مشین سازی کے کاموں میں بہ آسانی کیا جا سکتا ہے، جہاں پر لوہے کی کتروں کے بڑے بڑے ڈھیروں کو چھکڑوں پر ڈال کر راتو رات بھٹیوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ تاکہ دن کے وقت ورکشاپوں میں ٹھوس لوہامہیا ہو سکے۔

ہم نے دیکھا کہ ذرائع پیداوار نئی مصنوعات میں اسی حد تک قدر کو منتقل کرتے ہیں جس تک وہ عملِ محن کے دوران قدر کو اپنی پرانی قدرِ صرف کی شکل میں کھو دیتے ہیں۔ قدر کا وہ زیادہ سے زیادہ نقصان جس سے وہ[ذرائع پیداوار] عملِ محن کے دوران دو چار ہو سکتے ہیں صاف طور پر اس بنیادی قدر سے محدود ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ اس عمل میں داخل ہوتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں اس عرصۂ محن کی بدولت جو ان کی پیداوار کے لئے ضروری ہے۔ لہٰذا ذرائع پیداوار مصنوعہ میں اُس سے زیادہ قدر کا اضافہ نہیں کر سکتے، جس کے اس [پیداواری عمل ] سے علاوہ جس میں وہ مدد گار ہیں،وہ خود حامل ہوں ۔ خام مال کی کوئی بھی مقدار یا کوئی مشین یا دیگر ذرائع پیداوار خواہ کتنے ہی مفید ہوں، چاہے اس میں 150پونڈ کی رقم یا 500دن کا محن استعمال ہوئے ہوں ، اس کے باوجود یہ کسی بھی حالات کے تحت مصنوعہ کی قدر میں 150پونڈ سے زیادہ کا اضافہ نہیں کر سکتے۔ اس کی قدر اُس عملِ محن سے متعین ہوتی ہے جس میں سے یہ بطور مصنوعہ جاری ہوتا ہے نہ کہ اُس [عملِ محن] سے جس میں یہ ذرائع پیداوار کے بطور داخل ہوتا ہے۔ عملِ محن میں یہ محض قدرِ صرف کا کام دیتے ہیں یعنی مفید خواص کی حامل ایک چیز کا، اسی وجہ سے یہ مصنوعہ میں اس وقت تک کسی قسم کی قدر منتقل نہیں کر سکتاجب تک یہ ایسی قدر کا پہلے سے حامل نہ ہو۔3؂

جس دوران افزودہ محن ذرائع پیداوار کو کسی نئی مصنوعہ کے اجزائے ترکیبی میں بدل رہا ہو تاہے اُس دوران میں اُن کی قدر ایک آواگون جیسی تبدیلی سے دوچار ہوتی ہے۔ یہ خرچ شدہ جسم کو چھوڑ دیتا ہے تاکہ نئی تخلیق کردہ چیز پر قابض ہو سکے۔ لیکن یہ انتقال ، گویا کہ ، مزدور کے پسِ پشت رونما ہوتا ہے۔وہ بیک وقت پرانی اقدار کو محفوظ کیے بغیر نئی قدر پیدا کرنے کے لئے نیا محن داخل نہیں کر سکتا ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جس محن کا اضافہ کرتا ہے اُسے ہر قیمت پر کسی مخصوص نوع کا ہونا چاہیے۔ یہ بھی ہے کہ وہ مصنوعات کو نئی مصنوعات کے لئے ذرائع پیداوار کے بطور استعمال کئے بغیر ، اور ان کی قدر کو نئی مصنوعہ میں منتقل کیے بغیر مفید قسم کا کام نہیں کر سکتا۔ قدر کو محفوظ کرنے کی خاصیت جس کا حامل متحرک یعنی زندہ محن ہوتا ہے ، اور جو ساتھ ساتھ اُس میں اضافہ بھی کرتا ہے، فطرت کی عطا کردہ ہے جس پر مزدور کا کچھ خرچ نہیں ہوتا لیکن جو سرمایہ دار کے لئے اتنا ہی کار آمد ہے جتنا یہ اس کے سرمائے کی موجود قدر میں اضافہ کرتی ہے۔ 4؂جب تک تجارت سود مند رہتی ہے سرمایہ دار محن کی دولت ہڑپ کرنے میں اس قدر محو ہوتا ہے کہ اسے محن کے اس خدا داد تحفے کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ کسی بحران کی وجہ سے عملِ محن کے پریشان کن تعطلاس کو بہت جلد اس بات کا احساس دلاتاہے۔5؂




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے