بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 811
عنوان بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 231240
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی8

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ہاں تک ذرائع پیداوار کا تعلق ہے تو جو چیز حقیقتاً خرچ ہوتی ہے وہ دراصل ان کی قدرِ صرف ہی ہے۔ اور محن کے ذریعے اس قدرِصرف کی کھپت مصنوعہ میں نمودار ہوتی ہے۔ اُن کی قدر کی کوئی کھپت واقع نہیں ہوتی6؂، چنانچہ یہ کہنا ٹھیک نہ ہو گا کہ اس کی نوتخلیق ہوتی ہے۔ بلکہ اس کو تو محفوظ کیا جاتا ہے ؛ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ خود عمل کے دوران کسی تبدیلی سے گزرتی ہے ، بلکہ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ جس چیز میں یہ بنیادی طور پر موجود ہے وہاں سے غائب ہو جاتی ہے، صحیح !لیکن غائب کسی دوسری چیز ہی میں ہوتی ہے۔ پس کسی مصنوعہ کی قدر میں ذرائع پیداوار کی قدر پھر آتی ہے، لیکن یہ بات حتمی ہے کہ اُس قدر کی باز تخلیق نہیں ہوتی۔ مطلب یہ کہ جو پیدا ہوئی ہے وہ ایک نئی قدرِ صرف ہے جس میں پرانی قدرِ مبادلہ پھر سے نمودار ہوتی ہے۔7؂

عملِ محن کے موضوعی پہلویعنی متحرک قوتِ محن کا معاملہ اس سے برعکس ہے ۔ جبکہ مزدور اپنے مخصوص نوعیت کے محن کی بدولت ، جس کا خاص مقصد بھی ہے، ذرائع پیداوار کی قدر کو محفوظ بھی کرتا ہے اور اسے مصنوعہ تک پہنچاتا بھی ہے، اسی دوران وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر ہرلمحے ایک اضافی یا نئی قدر بھی پیدا کرتا ہے۔ فرض کریں کہ عملِ محن عین اُس وقت رُک جاتا ہے جب مزدور خود اپنی قوتِ محن کی قدر کا مساوی القوت پیدا کر لیتا ہے، مثال کے طور پر جب چھ گھنٹے کے محن سے اس نے 3شلنگ کی قدر کا اضافہ کیا ہے۔ یہ مصنوعہ کی کُل قدر سے زائد قدر ہے،یعنی اُس قدر کے حصے سے تجاوز کرتی ہوئی جو ذرائع پیداوار کی وجہ سے ہے ۔ اس عمل کے دوران بننے والی صرف یہی وہ بنیادی قدر ہے یعنی اس عمل کے ذریعے پیدا ہونے والی قدر کا یہی تھوڑا سا حصہ۔ یقینا ہم یہ بات نہیں بھلائے کہ یہ نئی قدر صرف اُس روپے کی جگہ لیتی ہے جسے سرمایہ دار نے قوتِ محن کی خریداری کے لئے بڑھایا تھااور جس کو مزدو ر نے ضروریاتِ زندگی پر خرچ کیا تھا۔خرچ کیے جانے والے روپے کی رو سے نئی قدر محض باز تخلیق ہی ہے۔ لیکن در اصل یہ حقیقی باز تخلیق ہے ، نہ کہ ذرائع پیداوار کی قدر کے معاملے کی مانند ظاہری باز تخلیق۔ ایک قدر کی دوسری قدر کی جگہ پر منتقلی یہاں پر نئی قدر کی تخلیق کے باعث رونماہوتی ہے۔

گزشتہ بحث کی روشنی میں ہم جانتے ہیں کہ عملِ محن اس سے زیادہ وقت تک چل سکتا ہے جو اُس مصنوعہ میں قوتِ محن کے مساوی القدر کی باز تخلیق کرنے یا اسے مجتمع کرنے کے لئے ضروریہے۔ اُن چھ گھنٹوں کے بجائے جو آخرالذکر مقصد کے لئے کافی ہیں یہ عمل 12گھنٹے تک چل سکتا ہے۔ چنانچہ متحرک قوتِ محن نہ صرف خود اپنی قدر پیدا کرتی ہے بلکہ اس سے بڑھی ہوئی اور اس سے زیادہ قدر پیدا کرتی ہے۔یہ قدرِ زائد مصنوعہ کی قدر اور اس قدر کی تیاری میں خرچ ہونے والے اجزاء کی قدر کا فرق یا دوسرے لفظوں میں ذرائع پیداوار اور قوتِ محن کا فرق ہے۔

مصنوعہ کی قدر کی تشکیل میں عملِ محن کے مختلف عوامل جو کردار ادا کرتے ہیں ، ان کی تشریح سے در اصل ہم نے سرمائے کے مختلف اجزاء کو ، خود اپنی قدر بڑھانے کے عمل کے دوران، تفویض کردہ کرداروں کے خاصوں کی وضاحت کی ہے ۔ مصنوعہ کی کُل قدر کا وہ حصہ جو اس کے اجزائے ترکیبی کی اقدار کے مجموعے پر اضافہ ہے ، دراصل یہی بنیادی طور پر بڑھائے جانے والے سرمائے پر پھیلے ہوئے سرمائے کی قدر کااضافہ ہے۔ ایک طرف ذرائع پیداوار دوسری طرف قوتِ محن سرمائے کے وجود کی دو مختلف وضعیں ہیں جنہیں بنیادی سرمائے کی قدر نے اس وقت اختیار کیاجب یہ فقط روپے سے عملِ محن کے مختلف عوامل میں تبدیل ہو رہا تھا۔ پھرسرمائے کے جس حصے کو ذرائع پیداوار، خام مال ، معاون مواداور آلاتِ محن بیان کرتے ہیں وہ پیداواری عمل میں قدرکی کسی مقداری تبدیلی سے دوچار نہیں ہوتے۔ چنانچہ اس کو میں سرمائے کا بقا پذیرحصہ یا مختصراً بقا پذیرسرمایہ کہتا ہوں۔

دوسری طرف سرمائے کے جس حصے کو قوتِ محن بیان کرتی ہے وہ عملِ محن میں قدری تبدیلی سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف اپنی قدر کا مساوی القوت پیدا کرتا ہے بلکہ اس میں اضافہ، یعنی قدرِ زائد بھی پیداکرتا ہے۔ یہ قدرِ زائد اپنے طور پر مختلف سکتی ہے، صورتِ احوال کی مناسبت سے یہ کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ سرمائے کا یہ حصہ مسلسل بقا پذیرسے متغیر حجم میں بدلتا رہتاہے۔ چنانچہ میں اس کو سرمائے کا متغیر حصہ یا مختصراً تغیر پذیر سرمایہ کہتا ہوں۔عملِ محن کی رو سے سرمائے کے یہی اجزاء اپنے آپ کو باری باری معروضی اور موضوعی عناصر کے بطور پیش کرتے ہیں؛ بطورذرائع پیداوار اور قوتِ محن قدرِ زائد پیدا کرنے کے عمل کی رو سے اپنے آپ کوبقا پذیر سرمایہ Constant Capitalاورتغیر پذیر سرمایہVariable Capital کے بطور پیش کرتے ہیں۔

اوپر بیان کی گئی بقا پذیر سرمائے کی تعریف اپنے اجزائے ترکیبی کی قدر میں تبدیلی کے امکان کو کسی طرح بھی خارج نہیں کر سکتی۔ فرض کریں کہ ایک دن میں روئی کی قیمت چھ پینس فی پونڈ ہے، اور اگلے دن روئی کی خراب فصل کی وجہ سے ایک شلنگ فی پونڈ ہو جاتی ہے۔ روئی کا ہر وہ پونڈ جو چھ پینس میں خریدا گیااور قدر میں اضافے کے بعد اس پر کام ہوامصنوعہ میں ایک شلنگ کے برابر ہی قدر منتقل کرتا ہے۔ اور جو روئی قدر میں اضافے سے قبل ہی کاتی جا چکی تھی ، اور غالباً قدر میں اضافے سے قبل منڈی کے اندر گردش میں تھی اپنی اصلی قدر سے دوگنا مصنوعہ میں منتقل کرے گی۔ تا ہم یہ بات واضح ہے کہ قدر کی یہ تبدیلیاں اُس اضافے یا قدرِ زائد سے مبرا ہیں جو خود کاتنے سے روئی کی قدر میں جمع کی گئی۔ اگر پرانی روئی پہلے نہ کاتی گئی ہوتی تو قدر میں اضافے کے بعد یہ چھ پینس کے بجائے ایک شلنگ فی پونڈ میں ہی فروخت ہوتی۔ مزید یہ کہ روئی جتنے کم عمل میں سے گزرے گی یہ نتیجہ اُتنا ہی یقینی ہو گا۔چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب قدر میں کوئی ایسی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو سٹے باز اس کو اصول کا درجہ دے دیتے ہیں کہ صرف ان چیزوں پر سٹہ کھیلا جائے جن میں کم سے کم مقدار میں محن خرچ ہوا ہو: اسی لئے کپڑے کی نسبت دھاگے ، اور دھاگے کی نسبت کپاس پر سٹہ کھیلنا ۔ جو مسئلہ ہمارے زیرِ بحث ہے اس میں قدر کی تبدیلی اُس عمل میں رونما نہیں ہوتی جس میں روئی ذرائع پیداوار کا کردار ادا کرتی ہے، اور جس میں یہ بقا پذیر سرمائے کا کردار ادا کرتی ہے، بلکہ اُس عمل میں رونما ہوتی ہے جس میں روئی خود پیدا کی جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ کسی شے کی قدر اِس شے میں مجتمع محن کی مقدار سے متعین ہوتی ہے لیکن یہ مقدار بجائے خود سماجی صورتِ احوال کی حد میں رہتی ہے۔ اگر کسی بھی شے کی پیداوار کے لئے سماجی طور پر درکار وقت تبدیل ہو جائے ، اور ایک خراب فصل کے حصول کے بعد ایک خاص وزن کی روئی ایک اچھی فصل سے حاصل ہونے والی روئی کی نسب




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے