حواشی بابِ دوم : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 797
عنوان حواشی بابِ دوم
شاخ مبادلہ
پڑھا گیا 224899
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی بابِ دوم کے بنیاد
مبادلہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی بابِ دوم - کی دوسری شاخیں-

حواشی بابِ دوم


شاخ مبادلہ
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

حواشی بابِ دوم



1 ؂ . بارھویں صدی میں،جو کہ اپنی خدا ترسی میں بہت معروف ہے،لوگ اپنی اشیاء میں کچھ انتہائی نازک چیزوں کو بھی شامل رکھتے ہیں۔چنانچہ اس عہد کا ایک مشہور شاعر منڈی میں لائی جانے والی چیزوں میں نہ صرف لباس، جوتے ،چمڑے ، زرعی آلات وغیرہ کو شامل کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ زنان زیبا ۔



2؂. پرودھوں اپنے نظریۂ انصاف ،از، justice eternelle سے اپنی بات کا آغاز کرتا ہے، وہ قانونی تعلقات جو کہ اشیاء کی پیداوار سے متعلق ہوتے ہیں ،ہم دیکھ سکتے ہیں کہ، ان کے تحت وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اشیاء کی مصنوعات پیداوار کی ایک ایسی شکل ہے جو کہ انصاف کی طرح ازلی ہے۔پھر وہ اپنا رخ بدلتا ہے اور اپنے آئیڈیل کیمطابق اشیاء کی حقیقی پیداوار اور اس سے متعلقہ حقیقی قانونی نظام کے سلسلے میں ترامیم و اضافے کرتا ہے۔اس کیمیادان کے بارے میں ہماری کیا رائے ہو گی جو مادے کی تعمیر اور تخریب کے دوران رونما ہونے والی خلیاتی تبدیلیوں کے حقیقی قوانین کا مطالعہ کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کرے کہ وہ ازلی قوانین سے مادے کی تعمیر و تخریب کو قابو میں لا سکتا ہے۔یہ قوانین فطری بھی ہیں اور مماثلت [بھی رکھتے ہیں]۔

کیا ہم‘ سود’کے بارے میں مزید کچھ جان سکیں کے کہ جب ہم یہ کہیں کہ ازلی انصاف اور اس کے قوانین سے، ازلی بھائی چارے سے، اور دیگر ازلی حقائق سے متصادم ہے بہ نسبت گرجا کے پادریوں کے جنہوں نے یہ کہا کہ یہ ازلی رحمت و برکت اور ایمان سے ، اور خدائے عز و جل کی مرضی کے متصادم ہے ؟



3؂.‘‘ کیونکہ ہر چیز کے استعمال کی نوعیت دو رخی ہوتی ہے... ان میں سے ایک تو اس چیز سیمخصوصہوتی ہے جبکہ دوسری نہیں۔مثال ے طور پر ایک جوتا جو کہ استعمال بھی کیا جا سکے اور اس کا تبادلہ بھی کیا جا سکے،یہ دونوں اس جوتے ہی کے استعمالات ہیں۔کیونکہ ،حتیٰ کہ وہ بھی جو اس کا تبادلہ روپے کے عوض کرتا ہے یا خوراک کے عوض یا اس چیز کے عوض کہ جس کی اس کو ضرورت ہے۔در اصل وہ جوتے کو جوتے کے طور پر ہی استعمال کرتا ہے۔لیکن ایک فطری انداز میں ایسا ممکن نہیں۔وجہ یہ کہ یہ مبادلے کی غرض سے نہیں بنایا جاتا ’’ ۔

(ارسطو،Politics, L. i. c, 9)



4؂. اسی سے ہم پیٹی بورژوا سوشلزم کی چالاکی کا اندازہ کر سکتے ہیں ، جو کہ اشیاء کی پیداوار کو جاری رکھنے کے دوران روپے اور شے کے درمیان باہمی مخاصمت کو ختم کرنے کا مقصد رکھتا ہے ، چونکہ روپیہ اسی مخاصمت کی بدولت ہی وجود رکھتا ہے،نتیجتاً یہ خود روپے ہی کو ختم کرنے کا ۔جیسا کہ ہم پوپ کے بغیر ہی کیتھولی سزم کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں مزید تفصیلات جاننے کے لئے میری کتاب ، Zur Kritik der pol. Oekon.، ص 61. کا مطالعہ کریں۔



5؂ . جہاں تک ، بجائے اس کے کہ دو مختلف اقدارِ صرف کا تبادلہ کیا جائے ،چیزوں کی ایک بے ترتیب مقدار ایک ہی جنس کے لئے مساوی القوت کا کام کرے،جیسا اکثر وحشی اقوام میں ہوتا ہے،جہا ں پر مصنوعات کاکھلا ادلا بدلا ابھی اپنے آغاز کی پہلی منزل پر ہی ہوتا ہے۔



6؂ . کارل مارکس،ایل.سی.،ص5 13 ۔دھات فطرتی روپیہ ہے۔I metalli...naturalmente.(Galiani, Della monetain Custodi's Collection:Parte Moderna t.3.) ۔



7؂ . اس بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے میری متذکرہ بالا کتاب کا وہ باب دیکھا جا سکتا ہے جو کہThe Precious Metalsپر ہے۔



8؂۔روپیہ آفاقی مال تجارت ہے۔II danaro e' merce universale(Verri, I, c., p. 16)

9؂.‘‘ سونا اور چاندی خود بھی(جس کو ہم سونے چاندی کی ڈلی کا نام دے سکتے ہیں )اشیاء ...ہیں ،جن کی... قدر گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔سونے اور چاندی کی اس ڈلی کو اس وقت قدر کے لحاظ سے بڑا سمجھا جائے گا جب اس کا ایک چھوٹا وزن ملکی مصنوعات کی ایک بڑی مقدار خریدنے کا اہل ہو جائے گا۔ ’’( A Discourse of the General Notion of Money, Trade,and Exchanges, as They Stand in Relation each to other.مرتبہ،مرچنٹ، لندن،1695ء ص 7 ۔ )‘‘سونا اور چاندی چاہے سکے کی شکل میں ہوں چاہے نہ ہوں ،چونکہ وہ دوسری تمام چیزوں کے لئے ایک پیمانے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ،اس لئے وہ اشیاء کی حیثیت سے شراب ،تیل ، تمباکو، کپڑا یا سازو سامان وغیرہ کی نسبت کم ہر گز نہیں۔ ’’(A Discourse concerning Trade, and that in particular in East Indies,لندن،1689 ،ص 2 ۔ )‘‘ ایک ملک کی مال و متاع اور زر مکمل طور پر روپے پیسے کی شکل تک محدود نہیں رہ سکتے ،اور نہ ہی سونا اور چاندی تجارت کے عمل سے خارج کئے جانے چاہئیں۔ ’’) The East-India Trade a Most Profitable Trade.،لندن، 1677 ،ص.4)



10؂ .ــ ‘‘سونا اور چاندی روپیہ بننے سے قبل ہی ،دھاتوں کے بطور ہی قدر کے حامل ہیں۔ ’’(گے لینی،ایل .سی) جان لاک کے کہتا ہے کہ:‘‘بنی نوع انسان کی باہمی رضا مندی نے چاندی کو ،اس کی ان خصوصیات کے بل بوتے پر کہ جن کے تحت یہ روپے کے لئے موزوں ٹھہرتا ہے ،ایک فرضی قدر تفویض کی ۔ ’’ دوسری طرف قانون نے، ‘‘مختلف اقوام کسی بھی ایک چیز کو فرضی قدر کیونکر تفریض کر سکیں.... یا اس( فرضی قدر)نے خود کو کیونکر برقرار رکھا ہوا ہے؟ ’’ لیکن ذیل کے بیان سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ خود اس معاملے کو کس حد تک سمجھنے میں کامیاب ہوا تھا ۔‘‘ چاندی اپنے اندر موجود قدرِ صرف کے تناسب کے تحت مبادلے میں آتی ہے، چنانچہ اس نے اپنی اسی اصلی قدر کے تناسب کے تحت روپے کے بطور آتے ہوئے ایک اضافی قدر حاصل کر لی۔ ’’(Jean Law:Consideration sur le numerraire et le commerceمشمولہ ،Economistes Financiers du 28.siecle,مرتبہ، ای .ڈیری ، صـ.470۔



11؂ . ‘‘روپیہ ہی ان(اشیاء )کی علامت ہوتا ہے ’’)V.de Forbonnais: Elements du Commerce, Nouv. مرتبہ، لی ڈی، 1976 ، ’’t.ii ، ص 143۔ )‘‘ علامت کی حیثیت سے یہ اشیاء کے ساتھ منسلک ہوتا ہے ’’(ایل .سی ،ص 155۔)‘‘ روپیہ ایک چیز کی علامت ہے اور اسی کو بیان کرتا ہے۔ ’’( Montesquieu: Espirit de Lois ، اوورس ، لندن.1767،t. II، ص. 2۔ )‘‘روپیہ محض علامت ہی نہیں ،چونکہ یہ خود دولت ہے ،اس لئے یہ ان کی اقدار کو بیان نہیں کرتا،بلکہ ان کا مساوی القوت ہوتا ہے۔ ’’(لی ٹرونزی،ایل. سی.، ص 910۔ )‘‘ قدر کا نظریہConcept افادہ چیز کو نری علامت بنا دیتی ہے؛ چنانچہ ایک چیز یہ نہیں بتاتی کہ وہ کیا ہے بلکہ یہ بتاتی ہے کہ وہ کس کے مساوی(worth )ہے۔ (ہیگل ، ایل .سی ،ص. 100 ۔ )یہ بات معیشت دانوں سے کافی عرصہ قبل قانونی ماہرین نے کہنا شروع کر دی تھی کہ روپیہ نری علامت ہی ہے۔اور یہ کہ بیش قیمت دھاتوں کی قدر خالصتاً قیاسی ہوتی ہے۔ایسا انہوں نے اپنے تاجداروں کی چاپلوسی کی مد میں کیا تاکہ تمام قرون وسطیٰ کے دوران رومن شہنشاہی کی روایات کے تحت اور پینڈیکٹس میں پائی جانے والے روپے کے نظریات کے تحت،ان کے اس حق کی حمایت کی جا سکے کہ وہ سکے میں ملاوٹ کر




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

حواشی بابِ دوم ان داشلائوں میں استعمال ھے
حواشی بابِ دوم
مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے