حواشی بابِ دوم : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 797
عنوان حواشی بابِ دوم
شاخ مبادلہ
پڑھا گیا 224914
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی بابِ دوم کے بنیاد
مبادلہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی بابِ دوم - کی دوسری شاخیں-

حواشی بابِ دوم


شاخ مبادلہ
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

سکیں۔ [سونے اور چاندی کے سکوں میں کم قیمت دھاتوں کی ملا وٹ کر سکیں)۔ان کا ایک ریڈی میڈ دانش ور، فلپ آف ویلویس ، 1346کے ایک فرمان میں کہتا ہے کوئی بھی اس بات پر اعتراض نہ اٹھائے گاکہ تجارے، ترتیب، فراہمی اور روپے کے بارے آرڈینینس بنانے کا اختیار فقط ہمارے شہنشاہ حضور کو حاصل ہے کہ وہ جیسا ان کی مرضی ہو، اور جیسا انہیں مناسب لگے، اس کی قیمت اور بھاؤ متعین کریں۔ یہ رومن قانون کا ایک مقولہ تھا کہ روپے کی قدر شہنشاہ متعین کرتا ہے۔ اس بات کو واضح طور پر منع کیا گیا تھا کہ روپے کو بطور شے کے لیا جائے۔ تاہم یہ قانون کی خلاف ورزی ہو گی کہ کوئی رقم کی خرید کرے، چونکہ یہ عوام کے استعمال کے لئے بنائی گئی ہے، اس بات کی اجازت نہیں کہ یہ شے بن جائے۔اس موضوع پر کچھ اچھا کام جی۔ایف۔ پیگنینی نے کیا۔Saggio sopra il giusto pregio delle cose, 1751 ; In CustodiParte Moderna,t. II. ۔اپنی کتاب کے دوسرے حصے میں پیگنینی خاص طور وکلا کے خلاف بحث مباحثہ کرتا ہے۔



12؂ . اگر ایک آدمی پیرو کی سرزمین سے لندن کے لئے اتنے ہی وقت میں ایک اونس (اڑھائی تولے )چاندی لانے کا اہل ہے ،جتنے وقت میں وہ بیس کلو غلہ پیدا کرتا ہے ،اس صورت میں اولذکر(ایک اونس چاندی )، آخرالذکر(بیس کلو غلہ )کی فطری قیمت بن جائے گی۔اب اگر کان کے زرخیز تر ہونے کی وجہ سے ایک آدمی ایک کے بجائے دو اونس چاندی پہلے سے بآسانی حاصل کر لیتا ہے ۔اس صورت میں جتنا غلہ اس سے قبل پانچ شلنگ میں آتا تھا اتنا ہی اب دس شلنگ میں آئے گا۔



13؂. اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر روشر پہلے یہ بتانے کے بعد کہ: ‘‘روپے کی جھوٹی تعریفوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک وہ کہ جن میں اسے شے سے زیادہ ،اور دوسری وہ کہ جن میں شے سے کم اہمیت دی گئی ہے ۔ ’’ وہ ہمارے سامنے روپے کی خاصیت پر کیے گئے کاموں کی ایک طویل مگر الجھی ہوئی فہرست پیش کرتا ہے۔جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اس نظرئے کی اصل تاریخ سے اس کا دور کا واسطہ بھی نہیں؛ اس کے بعد وہ ناصحانہ انداز میں کہتا ہے :‘‘آخری بات یہ ہے کہ اس سے کسی طور پر بھی انکار ممکن نہیں کہ طبقۂ متاخرین کے بہت سے معیشت دان ان حقائق کو بھی ٹھیک طور پر نہیں جان سکے جو روپے کو دوسری اشیاء سے ممیز کرتے ہیں۔ ’’ (یہ آخر کار شے سے کسی نہ کسی طور پر مختلف ضرور ہے۔)اس لحاظ سے گے نیل کا نصف تاجرانہ ردِ عمل بالکل بے بنیاد ہر گز نہیں۔(Wilhelm Roscher: کی کتاب :Die Grundlagen der Nationaloekonomie,طبعِ سوم،1858ء ،ص 702,210۔ )زیادہ ! کم! غیر بقدرِ ضرورت! تاہم! حقیقی طور پر نہیں! یہ سب کچھ زبان اور تصورات کی کس قسم کی درستی ہے! اور ایسی پیشہ وارانہ ہرزہ سرائی کی اصطباغ ہی مسٹر روشر بڑے با حیا انداز میں دیتا ہے.......؟

تا ہم اس کی ایک دریافت قابلِ ستائش ضرور ہے ،وہ یہ کہ‘‘روپیہ ایک خوش گوار شے ہے۔ ’’






ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

حواشی بابِ دوم ان داشلائوں میں استعمال ھے
حواشی بابِ دوم
مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے