حواشی باب اول : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 794
عنوان حواشی باب اول
شاخ اشیاء اور روپیہ
پڑھا گیا 234206
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی باب اول کے بنیاد
اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی باب اول - کی دوسری شاخیں-

حواشی باب اول


شاخ اشیاء اور روپیہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

حواشی باب اول



1 . کارل مارکس،Zur Kritik der Politischen Oekonomie برلن،1859،ص.3,۔

2؂ .حاجت خواہش کی مرہونِ منت ہوتی ہے،جو کہ ذہن کی پیداوار ہے، اور اتنی ہی فطری ہے ،جتنی کہ جسم کے لئے بھوک...۔بہت زیادہ تعداد میں ایسی چیزیں ہیں جن کی وقعت اس بات میں ہے کہ وہ ذہنی ضروریات کی تسکین کا سامان مہیا کرتی ہیں۔نیکولس باربن،مسٹر لوکے کے خیالات کے جواب میں‘روپے کی نئی شکلِ سکہ’پر ایک مقالمہ، لندن،1696ء ،ص2,3

3؂ . ‘‘چیزوں کی ایک داخلی قدر ہوتی ہے ’’( یہ اصطلاح باربن قدرِ صرف کے لئے خاص طور پر استعمال کرتا ہے)‘‘ جس کے خواص ہر جگہ پر یکساں رہتے ہیں؛ جیسا کہ مقناطیس لوہے کو کشش کرتا ہے ’’ ، (ایضاً،ص6۔)وہ خاصیت جس کے تحت مقناطیس لوہے کو کشش کرتا ہے،صرف اس وقت استعمال کی جا سکتی ہے جب اس کے قطبین کی حقیقت دریافت ہو جاتی ہے۔

4؂ . ‘‘ کسی بھی چیز کی فطری قدر اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ یہ کس حد تک حاجات کی تسکین کے لئے موزوں ہے،یا یہ انسانی زندگی کے لئے کس حد تک سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ’’( جان لوکے،Some Considrations on the Consequences of the Lowering of Interest،1691ء،ص28،کلیات،طبعِ لندن،1777ء،جلد دوم،ص ۲۸)سترہویں صدی کے انگریز مصنفین نے ‘‘قدر ’’کو قدرِ صرف کے طور پر استعمال کیا ہے اور قدر کو قدر ِ مبادلہ کے طور پر۔اس کا انحصار کسی زبان کی صلاحیت پر ہوتا ہے ،جس کے تحت کسی بھیقدیمیجرمن لفظ کو ایک حقیقی چیز کے لئے استعمال کرتے ہیں اور رومانوی لفظ کو اس کے عکاس کے طور پر۔

5؂ . بورژوا معاشروں میں معاشی مصنفین کا رواج تھا۔کہ خریدارکی حیثیت سے ہر شخص اشیاء کا ایک وسیع علم رکھتا ہو۔

6؂ .قدر دو چیزوں کے مابین مبادلی تعلق پر منحصر ہوتی ہے، یعنی ایک مصنوعہ کی خاص مقدار اور دوسری مصنوعہ کی خاص مقدار کے درمیان (لی ٹرونزی کی:De L'Interet Social.، فیزیوکریٹ، مرتبہ، ڈائری، پیرس،1846 ء،ص889۔

7؂ . کسی چیز کی بھی داخلی قدر ممکن نہیں ہوتی۔(این باربن، ایضاً، ص889)؛ یا جیسا کہ بٹلر کہتا ہے:‘‘ایک چیز کی قدر وہی ہوتی ہے جو اس سے حاصل ہو جائے ’’

8؂ . این باربن، ایضاً، ص 7, 53۔

9؂‘‘ . ان کی قدر(ضروریاتِ زندگی کی )کہ جس کے تحت ان میں سے ایک کا دوسرے سے تبادلہ کیا جاتا ہے،اس مقدارِ محن سے اخذ کی جاتی ہے جو ان کی پیداوار کے لئے لازمی طور پر درکار ہو ’’

Some Thoughts on the Interest of Money in General , and Particularly in the Public Funds , & c.

لندن ،ص36 )یہ قابلِ قدر کام جس کے مصنف کا علم نہیں اورجو پچھلی صدی کی تخلیق تھا بغیر تاریخ کے ہے؛ تاہم اندرونی شواہد اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ جارج دوم کے عہد غالباً 1739یا 40ء میں ظہور پذیر ہوئی ہو گی۔

10؂ .راست پیرائے میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ایک ہی مواد سے بنی ہوئی تمام چیزیں اور ان کی قیمت کا تعین کسی خاص پس منظر کے بغیرعمومی طور پر ہی کیا جاتا ہے۔(لی ٹرونزی،ایضاً، ص893۔

11؂ .کارل مارکس ، ایضاً ، ص 6۔

12؂ . [ جرمن کی طبع چہارم میں : میں یہ حوالہ اسی وجہ سے دے رہا ہوں کہ اس کو نظر انداز کرنے سے اس غلط فہمی کا احتمال رہتا ہے کہ ہر وہ مصنوعہ چیز ،جسے اس کو بنانے والے کے بجائے کوئی دوسرا استعمال کرے ،مارکس اسے شے کا درجہ دیتا ہے۔_ ایف۔ ای]

13؂ . کائنات کے سارے کے سارے عوامل ،چاہے انسانی ہاتھ کے مرہونِ منت ہو ں یاکائنات کے طبعی اصولوں کے زیرِ اثر وقوع پذیر ہوئے ہوں،انہیں کسی صورت بھی تخلیق کی نئی اشکال نہیں کہا جا سکتا،یہ تو محض مادے کی ترقی یافتہ اشکال ہوتی ہیں۔چیزوں کو یکجا کرنا ، یا انہیں علیحدہ کرنا ، ہی ایسے عناصر ہیں جو انسانی ذہن ہمیشہ پیداوار کے نظریے کے تجزئے سے اخذ کرتا ہے،اور یہی حال قدر کی پیداوار کااور ،(استعمال کی قدر ،اگرچہ Verri اپنے اس پیرے میں جہاں وہPhysiocrates کے ساتھ اختلاف کا شکار ہے،اسے خود پتا نہیں کہ وہ قدر کی کون سی قسم کی بات کر رہا ہے۔)دولت کا ہے،جیسے کھیتوں میں موجود مٹی،پانی اور ہواکی ترسیل فصلوں کو کی جاتی ہے ،یا دھات کے کچھ ٹکڑوں کو ایک گھڑی کی مشنری بنانے کے لئے [ خاص انداز میں] جوڑا جاتا ہے۔

14؂ .ہیگل ،Philosophy of the Rights. برلن ، 1840ء ص 190 ،250۔

15؂ . قاری کو پتا ہونا چاہئے کہ یہان پر اس اجرت یا قدر کی بات نہیں ہو رہی جو ایک مزدور مخصوص عرصہِ محن سے حاصل کرتا ہے ، بلکہ شے کی اس قدر کی بات ہو رہی ہے جس میں اس عرصہِ محن کی مادی تجسیم ہوتی ہے۔اجرت وہ درجہ ہے جو ابھی ہمارے زیرِ بحث نہیں ہے۔

16؂ .[ یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ محن در اصل وہ لازم اور حقیقی پیمانہ ہے جس سے کسی بھی وقت تمام اشیاء کی قدر کا تخمینہ لگایا اور موازنہ کیا جاسکتا ہے۔آدم سمتھ کہتا ہے : ‘‘محن کی مساوی مقداریں ،تمام اوقات اور تمام جگہوں پر مزدور کے لئے لازماً یکساں قدر کی حامل ہونی چا ہئیں۔اس کی صحت توانائی اور سرگرمی کی سازگار صورت میں اور مہارت کی اوسط حد تک جس کا وہ حامل ہو سکتا ہے ، اسے اپنے آرام ، آزادی اور خوشی کا مساوی حصہ جو اس کی ملکیت ہوتا ہے ضرور چھوڑنا ہو گا ’’(Wealth of Nations ایضاً ،باب 5)۔ایک طرف آدم سمتھ(لیکن ہر مقام پر نہیں )قدر کی وہ تعیین جو اس مقدارِ محن سے اخذ ہوتی ہے جو اشیاء کی پیداوار کے لئے استعمال ہو، اور اشیاء کی اقدار کی وہ تعیین جو محن کی قدر سے کی جاتی ہے ، کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتا ہے ،اور اس کے نتیجے میں وہ یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ محن کی مساوی مقداریں ہمیشہ مساوی ہی رہتی ہیں ۔ دوسری طرف اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ محن ،جیسا کہ یہ اپنے آپ کو اشیاء کی قدر میں ظاہر کرتا ہے محض قوتِ محن کا استعمال ہی ہوتا ہے۔لیکن وہ اس استعمال کو زندہ حیات کی نارمل کارکردگی نہیں ، بلکہ ان کے سکون ، آزادی ،خوشی کی قربانی تصور کرتا ہے۔لیکن پھر اس کے سامنے جدید دہاڑی دار مزدور آ جاتا ہے ۔آدم سمتھ کا ایک گمنام پیش رو اپنے مضمون نمبر1،ص 39 ، میں لکھتا ہے کہ ‘‘ایک آدمی نے زندگی کی اس ضرورت کو مہیا کرنے کے لئے اپنے آپ کو ایک ہفتے کے لئے کام پر لگایا،اور وہ دوسرا شخص اس(محنت )کے تبادلے کی ذیل میں اسے دوسری کوئی سی چیز دے دیتا ہے تو وہ اس کے پاس درست تخمینہ لگانے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ یہ حساب لگائے کہ اسے اُتنے ہی محن اور وقت کی لاگت آئی۔دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہیں گے کہ ایک فرد کی ایک خاص وقت میں کسی چیز پر اتنے ہی وقت میں صرف شدہ محنت کا کسی دوسرے فرد کے محن سے مبادلہ ہے۔ ’’(ایضاً ، ص 39)[ انگریزی زبان میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ اس میں دونوں اقسام کے محن کے مطلب کے لئے دو الفاظ موجود ہیں ۔ وہ محن جو کہ قدرِ صرف پیدا کرتا ہے اور جس کے خواصیپہلو کو مدِ نظر




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

حواشی باب اول ان داشلائوں میں استعمال ھے
حواشی باب اول
اشیاء اور روپیہ - موضوع کے دوسرے داخلے