حواشی باب اول : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 794
عنوان حواشی باب اول
شاخ اشیاء اور روپیہ
پڑھا گیا 234241
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی باب اول کے بنیاد
اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی باب اول - کی دوسری شاخیں-

حواشی باب اول


شاخ اشیاء اور روپیہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

کھا جاتا ہے، اسے‘کام ’(work )کہا جا سکتا ہے،جو کہ اس محن سے مختلف ہے جو محض قدر پیدا کرتا ہے،اور جس کے مقداری پہلو کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے،اسے ‘محن’(labour )کہا جا سکتا ہے۔اور یہ کام سے مختلف ہوتا ہے۔_ایف . ای]

17؂ .ایس .بے لی،ان چند معیشت دانوں میں سے ہے ،جنہوں نے اپنے آپ کو قدر کی شکل کے تجزیے تک محدود کر دیا تھا ،اولاً اس وجہ سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے کہ وہ قدر کی شکل کو خود قدر کے ساتھ خلط ملط کر دیتے ہیں۔

18؂ . مشہورزمانہ فرینکلن جو کہ و۔م پیٹی کے بعد کے ابتدائی معیشت دانوں میں سے ایک تھا ،جس نے قدر کی اصلیت کا مطالعہ کیا تھا ،کہتا ہے: ‘‘عمومی طور پر تجارت بجز محن کے محن سے تبادلے کے اور کچھ نہیں ہے ،ہر قسم کی اشیاء کی قدر کو ٹھیک طور پر محن ہی سے ...... ناپا جا سکتا ہے۔ ’’

(The Works of B.Franklin,&. C)

مرتبہ، سپارکس بوستن،1836ء،جلد دوم، ص267۔ )فرینکلن یہ بات نہیں جانتا کہ ہر چیز کی قدر محن کے ذریعے اخذ کرنے سے وہ مبادلے میں موجود تمام اقسام کے محن کو ساقط کر رہا ہے ۔اور تمام کے تمام محن کو یکساں محنِ انسانی میں بدل رہا ہے۔پہلے وہ‘‘ ایک محن ’’کی بات کرتا ہے پھر ‘‘دوسرے محن ’’کی اور بالآ خر وہ صرف‘‘ محن’’کی ۔ اس سے بڑھ کے وہ ہر چیز کی قدر یا ہیت کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا۔

19؂ . ایک طریقے سے انسان کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے ، جیسا کہ اشیاء کے ساتھ،حتیٰ کہ نہ تو وہ اس دنیا میں اپنے ہاتھ میں آئینہ لئے آتا ہے ، اور نہ ہی فشطے جیسے فلسفیوں کی طرح ، جن کے نزدیک‘ میں ’‘میں ’ہی ہوتا ہے۔آدمی سب سے پہلے اپنے آپ کو دوسروں میں دیکھتا ہے اور اس سے اپنی شناخت حاصل کرتا ہے۔زید آدمی کے طور پر اپنی شناخت صرف اس وقت قائم کرتا ہے جس وقت وہ اپنے آپ کو بکر جیسا ہی پاتا ہے۔اور اسی طرح بکر جو کہ اپنی شخصی شناخت کے ساتھ موجود ہوتا ہے،زید کے لئے ایک ایسے آدمی کا روپ دھار لیتا ہے جو کہ بالکل اسی کی مثل ہے۔

20؂ .کچھ پہلے صفحات کی طرح یہاں بھی قدر[کی اصطلاح] اس لحاظ سے استعمال کی جا رہی ہے جس کا تعین مقدار سے ہوتاہے، یا پھر قدر کے حجم سے ۔

21؂ . قدر کے اجماع اور اس کے متعلقاتی اظہار کی اس عدمِ مطابقت پر بحث کو ولگرمعیشت دانوں کی ذہانت نے بہت طول دیا ہے۔،مثال کے طور پر‘‘ایک مرتبہ یہ تسلیم کریں کہ A [کی قدر]کا زوال Bکی وجہ سے ہوتاہے، جس کے ساتھ اس کا تبادلہ کیا جاتا ہے ،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ B[کی قدر] میں اضافہ ہوتا ہے،جبکہ اس دوران میں A میں کسی قسم کے محن کی کمی نہیں ہوتی ۔اور آپ کا محن کے بارے میں عمومی اصول زمیں بوس ہو جاتا ہے......۔اگر وہ[ریکارڈو ] اس بات کی اجازت دے دے کہ اگر A کی متعلقاتی قدر B کی کے لحاظ سے بڑھے توB اس A کی متعلقاتی قدر کے لحاظ سے کم ہو گا ، وہ اس اساس کو تہس نہس کر دیتا ہے جس پر اس کا مفروضہ قائم ہیکہ ایک شے کی قدر اس محن سے متعین ہوتی ہے جس کی اس میں تجسیم کی جائے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر A پر لاگو محن میں تبدیلی واقع ہو تو نہ صرف اس کی اس قدر میں تبدیلی آتی ہے ،جو B کے ساتھ مخصوص ہے، یعنی جس کے ساتھ اس کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔بلکہ A کے لحاظ سے B کی متعلقاتی قدر بھی بدلتی ہے۔واضح رہے کہ اس عمل میں B کی تیاری کے لئے درکار محن میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ پھر نہ صرف وہ نظریہ زمیں بوس ہو جاتا ہے جس کے تحت یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک چیز پر صرف شدہ محن ہی اس کی قدر کا تعین کرتی ہے ۔بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس چیز پر آنے والے وہ اخراجات بھی جو اس کی قدر کی تعیین کرتے ہیں ۔(جے .بروڈ ہرسٹ:Political Economy لندن، 1842ء،ص11،14۔

مسٹر بروڈ ہرسٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مندرجہ ذیل رقموں کو فرض کریں:

10/20. 10/50. 10/100

عدد10 بے بدل ہی رہتا ہے۔ لیکن اس کا 20 , 100 ,50وغیرہ کی نسبت سے مساواتی حجم رفتہ رفتہ کم پڑتا جاتا ہے۔چنانچہ وہ عظیم اصول کہ ایک مشترک عدد کا حجم جیسے 10 ،ان وقتی وقفوں کے تحت منظم ہوتا ہے،جو اس کے اندر موجود ہوتے ہیں۔دفعتاً زمیں بوس ہو جاتا ہے۔[ مصنف اس باب کی فصلِ چہارم میں اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ ‘‘ولگر معاش’’کو کیاسمجھا ہے۔]

22؂ . تعلق کا اس قسم کا اظہار ،جسے ہیگل معکوسفلسفیانہ اصول کا نام دیتا ہے ، ایک عجیبقسم کو جنم دیتا ہے۔مثال کے طور پر ایک آدمی اس وجہ سے بادشاہ ہوتاہے کہ دوسرے لوگ اس کے ماتحتوں کا درجہ رکھتے ہیں ۔اس کے برعکس وہ اپنے آپ کو اس وجہ سے محکوم گردانتے ہیں کہ وہ حاکم ہے۔

23؂ . ایف.ایل .اے . فیرئر،sous-inspecteur des douanes،کی کتابDu gouvernment considere danses rapports avec le commerce,، اور چارلس گے نیلہ کی کتاب، Des Systems d'Economy Politique، طبعِ دوم،1821ء۔

24؂ . مثال کے طور پر ہومر میں ایک چیز کی قدر مختلف قسم کی دیگر اشیاء کے ایک سلسلے میں بیان ہوتی ہے۔

II. VII. 472- 475

25؂ .اس دلیل کے تحت ہم ململ کی قدر کو قدرِ کوٹ کہہ سکتے ہیں،جب اس کا اظہار کوٹوں میں کیا جائے۔یا جب اس کا اظہار غلّہ میں کیا جائے تو قدرِ غلّہ وغیرہ ..۔ اس قسم کے ہر اظہار سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کوٹ،غلّہ وغیرہ کی اقدارِ صرف میں جو چیز ظاہر ہوتی ہے وہ در حقیقت ململ کی قدر ہے۔ ‘‘کسی بھی شے کی قدر جب اپنے آپ کو تبادلے میں ظاہر کرتی ہے تو یہ شے کچھ بھی جیسیغلّے کی قدر ، یا کپڑے کی قدر ہو گی، یعنی اس شے کی مناسبت سے جس کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے۔ چنانچہ قدر کی ہزار ہا اقسام ہو سکتی ہیں۔اقدار کی اتنی ہی اقسام ہوں گی جتنی زیادہ تعداد میں اشیاء کا وجود ہو گا ،اور تمام مساوی طور پر اتنی ہی مفید اور موزوں سمجھی جائیں گی۔

A critical Dissertation on the Naturre, Measures and Causes of Value: Chiefly in Refrence to the Writings of Mr. Ricardo and his Followers

Essays on the Formation &c of Opinionنامی کتاب کے مصنف کی قلم سے،لندن،1825ء ،ص39۔ )اس گمنام تصنیف کا مصنف ایس.بیلی،ایک ایسی تصنیف جس نے اپنے وقت کے انگلستان میں ہیجان برپا کر دیا تھا ،اپنے تئیں اس طرح سے سوچتا ہے کہ :ایک ہی قدر کے مختلف متعلقاتی اظہارات کو بیان کر کے اس نے قدرکے نظریہ کی ہر قسم کی تعیےن کی راہ مسدود کر دی گئی ہے۔اس کا اپنا نقطۂ نظر جتنا بھی محدود ہو اس نے ریکارڈیائی نظرئے کی کچھ اغلاط کی طرف اشارہ کر کے اس کے مقلدین کی دشمنی ضرور مول لے لی ہے۔مثال کے طور پرWestminster Review دیدنی ہے۔

26؂ . یہ بات بذاتِ خود بیّن ہے کہ بلا واسطہ اور یونیورسل مبادلہ پذیر ی کے اس انداز سے دو جڑے ہوئے پہلو ہیں اور یہ لازمی طور پر اپنے مخالف قطب ، یعنی یونیورسل مبادلہ پذیر ی کی عدم موجودگی سے اتنا ہی جڑت رکھتی ہے جتنا کہ مقناطیس کا شمالی قطب جنوبی سے۔ چنانچہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ تمام اشیاء پر یہ خاصہ ثبت ہوتا ہے جیس




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

حواشی باب اول ان داشلائوں میں استعمال ھے
حواشی باب اول
اشیاء اور روپیہ - موضوع کے دوسرے داخلے