حواشی باب اول : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 794
عنوان حواشی باب اول
شاخ اشیاء اور روپیہ
پڑھا گیا 234244
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی باب اول کے بنیاد
اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی باب اول - کی دوسری شاخیں-

حواشی باب اول


شاخ اشیاء اور روپیہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ تمام کیتھولک لوگ بڑے پادری کا درجہ اختیار کر سکتے ہیں۔یہ بات اس ادنیٰ بورژوا طبقے کے لئے کشش رکھتی ہے جن کے نزدیک اشیاء کی پیداوار انسان کی آزادی اور انفرادیت کا انتہائے کمال ہے۔یہ کہ ان اشیاء کے اس کردار کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات جو براہِ راست تبادلے میں نہیں آ سکتیں ،ان کا خاتمہ کیا جائے۔پرودھوں Proudhon's کا سماجی سوشلزم اسی خامخیال آرائی کا نتیجہ ہے۔سماجیت کی ایک ایسی قسم ، جیسا کہ میں نے بارہا اس کا ذکر کیا ہے،جس میں حقیقت کا شائبہ تک نہیں ،اس کے عہد سے کافی عرصہ قبل گریبرے اور دیگر نے بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیا تھا ۔لیکن بشمول ان کے اس قسم کی ذہانت کا چند مخصوص حلقوں میں‘سائنس’کے طور پر بڑا بول بالا ہے۔کسی بھی مکتبہِ فکر نے سائنس کے لفظ کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا ، جتناپرودھوں کے ماننے والوں نے کیا تھا، چونکہ:

جہاں خیالات نہ ہوں، وہاں خالی لفاظی ہی رہ جاتی ہے۔( گوئٹے، فاوسٹ، حصہ اول، سین 3۔)

27؂ . قدیم جرمنی میں زمین کو ماپنے کا پیمانہ تھا کہ جتنا ایک دن میں اسے کاشت کر لیا جائے،اور اسے ٹیگ ورک Tagwerkکہا جاتا تھا۔

(دیکھئے ،جی.ایل.وان.مارئر کی کتاب:

Enleitung zur Geschichte der mark_,& c.Verfussing, ،Munchen، 1854ء،ص129۔

28؂ . جب گے لینی کہتا ہے کہ: ‘‘قدر انسانوں کے مابین ایک تعلق کا نام ہے ۔ ’’تو اسے اس با ت کا اضافہ بھی کرنا چاہئے تھا کہ : افراد کے مابین تعلق ہی اشیاء کے باہمی تعلق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

Galiani:Della Moneta ، مشمولہ Scrittori Classici di Economia Politica، مرتبہ ،کاستودی،1803ء ،جلد سوم،ص221۔

29؂ . ہم اس قانون کے بارے میں کیا سوچ سکتے ہیں جو اپنے آپ کو کبھی کبھار وقوع پذیر ہونے والے وقفوں کے بعد دوہراتا ہے؟یہ صرف اور صرف قانونِ فطرت ہی ہو سکتا ہے،اور اس کی بنیاد ان لوگوں کی کج فہمی پر استوار ہوتی ہے جن کا عمل ہی اس[ کم فہمی] کا موضوع ہوتاہے۔(فریڈرک اینگلز: Umrissi zu einer Kritik der Nationokonomi، مشمولہ،Deutch-Franzosische Jahrbucher مرتبہ،آرنلڈ ریوج،کارل مارکس،پیرس،1844ء)

30؂ . حتیٰ کہ ریکارڈو بھی رابنسن کے بارے میں کہانیاں ہی سناتا ہے:‘‘اس نے قدیم شکاری اور قدیم ماہی گیر کو اشیاء کا مالک بنا دیا۔کیونکہ وہ مچھلیوں اور شکار کا اسی تناسب میں تبادلہ کرتے تھے جس کے تحت ان کا عرصہِ محن ان اقدارِ مبادلہ کے مساوی آ جاتا۔ تاریخی بھول بھلیوں میں پڑ کر اس موقعے پر وہ ان افراد کو جمع تفریق کرتادکھاتا ہے جہاں تک ان کے اوزاروں کا تعلق ہے۔ سالانہ رقم کے حساب کتاب کاجدید نظام لندن کی ایکسچینج میں1817ء میں رائج ہوا۔ ‘‘مسٹر اوون کے متوازی خاکے، بورژوا اشکال کے علاوہ معاشرے کی واحد اشکال معلوم ہوتی ہیں،جن کا وہ بڑا ماہر تھا ۔ ’’(کارل مارکس،Zur Critic,&c. ــ ،ص38, 39 ۔

31؂ . ‘‘ایکمضحکہ خیز مفروضہ ابھی حال ہی میں نمود پذیر ہوا ہے کہ قدیمی شکلکی مشترکہ جائیداد سلووینیا[یعنی غلامی والے ممالک] میں خاص طور پر یا فقط روس میں موجود تھی۔ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ وہی قدیم شکل ہے جس کے وجود کا ثبوت ہمیں قد یم اہل ِ روم ،جرمنوں اور کیلٹ یورپیوں(Celt )کے ہاں مل جاتا ہے۔حتیٰ کہ آج ہمیں اس کی متعدد مثالیں ہندوستان میں بھی ملتی ہیں،جہاں اگرچہ وہ مسمار ہو چکی ہیں۔ایشیا اور خاص طور پر ہندوستان کی عام جائیداد کا عمیق مطالعہ یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ ذاتی جائیداد کی پرانی صورتوں کے ختم ہونے سے کس قسم کی نئی شکلیں ارتقا پذیر ہوئیں۔پس مثال کے طور پر روم اور جرمنی کی ابتدائی ذاتی ملکیتوں کی اقسام ہندوستانی ذاتی ملکیتوں سے اخذ کی جا سکتی ہیں۔ ’’(کارل مارکس،Zur Kritik,&c. ،ص10۔

32؂ . قدر کے حجم کا جو تجزیہ ریکارڈو نے کیا ہے وہ کس طرح نا کافی ہے،جبکہ اس کا تجزیہ دوسروں سے قدرے بہتر ہے،اس کا ذکر اس کتاب کے تیسرے اور چوتھیحصے میں کیا جائے گا۔جب قدر پر عمومی بحث کی جاتی ہے تو سیاسی معیشت دانوں کے کلاسیکی سکول میں یہ خامی نظر آتی ہے کہ وہ پوری حاضر دماغی اور بڑے واضح انداز میں اس محن میں فرق نہیں کرپاتے جب یہ کسی مصنوعہ کی قدر میں ظاہر ہوتا ہے؛ اور جب یہی محن اس کی قدر صرف میں ظاہر ہوتا ہے۔یقیناً یہ فرق عملی طور پر روا رکھا جاتا ہے کیونکہ اس مکتبہ ٔ فکر کے معیشت دان ایک وقت میں اس محن کے مقداری پہلو کو مدِ نظر رکھتے ہیں ، اور دوسرے وقت میں اس کے خواصی پہلو کو۔لیکن انہیں اس بات کی قطعاً سمجھ نہیں کہ جب مختلف اقسام کے محن کے فرق کو خالصتاً مقداری طور پر دیکھا جاتا ہے،تو ان کی خواصی برابری یا وحدت کو، اور اس وجہ سے ان کی مجرد محنِ انسانی میں تبدیلی عمل میں آتی ہے۔مثال کے طور پر ریکارڈو یہ دعویٰ کرتا ہے وہ دیستوت دی تریسی‘Destett de' Tracy' کے اس مفروضے سے متفق ہے کہ : ‘‘یہ بات یقینی ہے کہ ہمارے جسمانی اور اخلاقی خصائص ہی ہماری اصل دولت ہیں۔ان خصا ئص کا استعمال یعنی کسی قسم کا محن، ہی ہمارا تنہا خزانہ ہے،اور یہ ہمیشہ اس استعمال کی وجہ ہی سے ممکن ہوتا ہے کہ وہ چیزیں بنتی ہیں جنہیں دولت کا درجہ دیا جاتاہے.....۔یہ بھی یقینی بات ہے کہ یہ ساری چیزیں بھی صرف اسی محن کا اظہار کرتی ہیں جس سے ان کا وجود عمل میں آیا ہوتا ہے۔اور اگر وہ قدر رکھتے ہوں یا دو اقدار کے حامل ہوں تو وہ صرف اپنے آپ کو اس محن(کی قدر)سے اخذ کر سکتے ہیں جس سے وہ خود برآمد ہوتے ہیں ۔ ’’(ریکارڈو،The Principles of Pol Econ. ،طبعِ سوم،لندن،1821ء، ص334۔)ہم یہاں پر صرف یہ بات واضح کریں گے کہ ریکارڈو خود‘ دیستوت ’Destutt کے الفاظ میں ہی اپنے بیان کو واضح صورت دیتا ہے۔آخرالذکر یہ کہتا ہے کہ ایک طرف وہ تمام اشیاء جو کہ دولت کی تشکیل کرتی ہیں ، اس محن ہی کا اظہار کرتی ہیں جو انہیں پیدا کرتا ہے۔لیکن دوسری طرف وہ اپنی‘‘ دو مختلف نوعیتوں کی اقدار’’ (قدرِ صرف اور قدرِ مبادلہ)‘‘ محن کی قدر’’ سے حاصل کرتی ہیں۔ اس طرح سے وہ ولگر معیشت کی عام طور پر کی جانے والی غلطی کر بیٹھتا ہے ،جو کہ ایک شے کی قدر کو( اس مسئلے میں محن)دوسری تمام اشیاء کی اقدار اخذ کرنے کے لئے تصور کرتے تھے۔لیکن ریکارڈو کا مطالعہ کچھ مختلف ہے ، جیسا کہ وہ خود کہتا ہے محن (نہ کہ محن کی قدر )قدرِ صرف اور قدر، مبادلہ ہر دو میں مجتمع ہوتا ہے۔تاہم ریکارڈو خود اس محن کے دو رخے کردار پر بہت کم توجہ دیتا ہے جس کی تجسیم بھی دو رخی ہوتی ہے۔ وہ اپنےValue and Riches,Their Distinctive Properties پر سارے کے سارے مضمون کو بی.جے.سے کی بیکار کوشش کا جائزہ لینے تک محدود کر دیتا ہے۔اور آخر میں وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ ایک طرف تو Destutt اس س




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

حواشی باب اول ان داشلائوں میں استعمال ھے
حواشی باب اول
اشیاء اور روپیہ - موضوع کے دوسرے داخلے