حواشی باب اول : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 794
عنوان حواشی باب اول
شاخ اشیاء اور روپیہ
پڑھا گیا 234243
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی باب اول کے بنیاد
اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی باب اول - کی دوسری شاخیں-

حواشی باب اول


شاخ اشیاء اور روپیہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

اس بات پر متفق ہے کہ محن ہی قدر کا ذریعہ ہوتا ہے، دوسری طرف وہ‘بی.جے.سے ’کی تائیدکرتا ہے کہ یہ [ محن] قدر کا نظریہ ہے۔

33؂ . کلاسیکی معیشت کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے کہ وہ اشیاء اور بالخصوص ان کی قدر کے تجزئے سے وہ شکل دریافت کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں جس کے تحت شے قدرِ مبادلہ بنتی ہے۔حتیٰ کہ آدم سمتھ اور ریکارڈو جو کہ اس سکول کے بہترین نمائندے ہیں جو قدر کی شکل کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے کیونکہ [ان کے نزدیک]اس کا اشیاء کی اندرونی حقیقت سے کچھ سروکار نہیں ہوتا ۔وجہ اس کی یہ نہیں کہ ان کی توجہ صرف قدر کے حجم کے تجزئے تک ہی محدود رہتی ہے،بلکہ اس سے بھی گہری ہے؛ محن کی مصنوعہ چیز کی قدری صورت نہ صرف بالکل تجریدی ہوتی ہے بلکہ یہ مکمل طور پر یونیورسل بھی ہوتی ہے، اور وہ یہ صورت بورژوا پیداوارانہ نظام میں حاصل کرتی ہے۔یہی عنصر اس پیداوار پر مخصوص سماجی پیداوار کا لیبل چسپاں کرتا ہے، جس سے اس کو خاص تاریخی کردار تفویض ہوتا ہے۔ پھر اگر ہم اس طبعِ پیداوار کو ایک ایسے نظام کے طور پر قبول کریں جو کہ ازلی طور پر سماج کی تمام اقسام کے لئے فطرت کا تفویض کردہ ہو، تو ہم قدری شکل کو [دوسروں سے ] ممیز کرنے والی صورت کو نظر انداز کر دیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی مزید ترقی یافتہ شکل یعنی شکلِ روپیہ اور شکلِ سرمایہ وغیرہ بھی نظر انداز ہو جائے گی۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ معیشت دان جو اس بات سے کلی طور پر متفق ہیں کہ عرصۂ محن ہی قدر کے حجم کو ناپنے کا واحد ذریعہ ہے، روپے کے بارے میں ان کے نظریات بڑے متضاد ہیں ،جو کہ عمومی مساوی القوت کی کامل ترین حالت ہے۔یہ اس وقت بہت واضح ہو جاتا ہے جب لوگ بنکاری کی بات کرتے ہیں ،جس مقام پر ان کی روپے کی عام طور پر کی جانے والی تعریفیں اپنی اصلیت کھول دیتی ہیں۔یہی چیز تاجرانہ نظام کی باز تشکیل کا موجب بنتی ہے، اور جس کے تحت قدر محض ایک سماجی حالت بن کر رہ جاتی ہے یا پھر اس حالت کی غیر مرئی روح۔یہاں ایک بات میں ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ میرے خیال میں سیاسی معیشت سے مراد وہ معیشت ہے جس نے W Petty کے دورسے لے کر آج تک بورژوا سماج میں پیداوار کے اصلی تعلقات کی چھان بین کی ہے ۔ اور جب سے سائنسی معیشت نے اس کی داغ بیل ڈالی ہے انہوں [ولگر معیشت دانوں] نے اصل مواد کو جانچے بغیر سوچنا شروع کر دیا ۔سائنسی کے برعکس ولگرمعیشت صرف ظاہر سے سروکار رکھتی ہے اور مسلسل صرف اس مواد پر غور و خوض کیا ہے جو بہت عرصہ پہلے سائنسی معیشت نے مہیا کیا تھا۔ ولگر معاشیات اسی میں انتہائی دقیق اور گہرے واقعات وعوامل کی تشریح ڈھونڈنے میں لگی ہے تاکہ بورژوازی کے کام آئیں مگر باقی کی باتوں کے لئے ان گھسے پٹے اور ردی خیالات کو انتہائی کتابی طریقے سے ازلی سچائیوں کا روپ دینے میں لگے ہیں جن کے بارے بورژوازی اپنے آپ میں بہت مطمئن ہے کہ وہ ان کی دنیا کی بہترین تشریح ہیں جو کہ سب سے بہترین دنیا ہے۔



34؂ .معیشت دان کے کام کا مخصوص طریق ہوتا ہے۔ان کے لئے ادارے صرف دو قسم کے ہی ہیں،یعنی فطری اور بناوٹی۔[ان کے خیال میں]جاگیردارانہ ادارے در اصل بناوٹی ہی ہیں،اور بورژرائی ادارے فطری۔اس طرح سے وہ مذہبی علماسے مطابقت رکھتے ہیں،جو بالکل انہیں کی طرح دو اقسام کے مذاہب اختراع کرتے ہیں۔ہر وہ مذہب جو کہ ان کا نہیں ہوتا [ان کے تئیں]وہ انسان کی ایجاد ہوتا ہے،اور ان کا ہر اپنا مذہب در اصل خدا کا تخلیق کردہ ہوتا ہے.....۔اس کی محض تاریخ موجود ہے ،مگر تاریخ کا کوئی مذہب نہیں۔ (کارل مارکس،Misere de la Philosophie.Response a la Philosophie de la Misere Par M. Proudhon ، 1847ء،ص113۔)ان سب میں مزاحیہ بیان M.Bastait کا ہے ۔جس کا خیال یہ ہے کہ قدیم یونانی اور جرمن محض مالِ غنیمت کی چیزوں پر گزراوقات کرتے تھے۔لیکن جب لوگ صدیوں تک مالِ غنیمت اکٹھا کرتے رہتے ہیں تو ایک ایسی چیز ان کے سامنے ضرور ہونی چاہئے جو کہ وہ چھین سکیں ۔اس طرح سے حاصل کی جانے والی چیزیں مسلسل پیدا ہوتی رہنی چاہئیں۔تب یہ بات ظاہر ہو گی کہ جب یونانیوں اور جرمنوں کے پاس کچھ نہ کچھ پیداواری ذرائع موجود تھے تو معیشت بھی موجود تھی،جس نے اس دنیا کی مادی بنیادیں استوارکی ہوں گی،بالکل اسی طرح جیسے بورژوا معاش ہماری جدید دنیا کی بنیاد بنتا ہے۔یا غالباً Bastait یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ طبع پیداوار جس کی بنیاد غلامی پر استوار ہوتی ہے دراصل مالِ غنیمت ہی کا ایک انداز ہے۔اس سلسلے میں اس پر کئی اعتراضات اٹھ سکتے ہیں ۔اگر ارسطو جیسا معتبر مفکر غلام محن کے بیان میں غلطی کر سکتا ہے تو Bastait جیسا کم فہم مفکر دہاڑی دار مزدور کی تعریف میں کیونکر ٹھوکر نہیں کھا سکتا ۔اس کا موقع مجھے اس وقت ہاتھ آیا جب امریکہ میں میری کتاب Zur Kritik der Pol. Oekonomieکے خلاف ایک مضمون چھپا اور میں نے اس کا مختصر جواب دیا۔ میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہر خاص طبعِ پیداوار اور اس سے متعلقہ سماجی روابط ،مختصر یہ کہ سماج کا معاشی ڈھانچہ ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر قانونی اور سیاسی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے ،اور جس سے سوچ کی خاص سماجی شکل پیدا ہوتی ہے،یہ کہ سماج کا معاشی ڈھانچہ ہی سیاسی ، سماجی اور عقلی زندگی کے عمومی معیار متعین کرتا ہے۔یہ ساری تفصیل صرف دورِ حاضر تک کے لئے ہی درست معلوم ہوتی ہیں۔کیونکہ اس دور ہی میں مادی مفادات حاوی ہیں؛نہ کہ قرونِ وسطیٰ کے لئے ،جہاں کیتھولی سزم ،اور نہ ہی ایتھنز اور روم کے لئے ،جہاں ہر سیاست کو افضلیت حاصل تھی۔پہلی صورت میں یہ سوچنا کسی کے لئے بھی عجیب ہو گا کہ قرونِ وسطیٰ اور قدیم دنیا کے بارے میں استعمال ہونے والی یہ خوش نما تراکیب کسی دوسرے کے لئے بھی انجانی ہو سکتی ہیں۔تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ قرونِ وسطیٰ کا گزارا محض کیتھولی سزم پر ہی نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی قدیم زمانے کی نری سیاست پر۔اس سے بر خلاف یہ وہ وضعہے کہ جس کے تحت وہ اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔اس سے اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ ایک جگہ پر سیاست نے اور دوسری جگہ پر کیتھولی سزم نے کس طرح سے مرکزی کردار ادا کیا ۔دیگر کے بارے میں یہ جاننے کے لئے جمہوریہ روم کی تاریخ سے بنیادی آگاہی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر یہ پتا ہونا چاہئے کہ اس کی پوشیدہ تاریخ در اصل اس کی زمینی جائیداد کی تاریخ ہے۔دوسری طرف ڈان کوہیٹے کو طویل عرصہ قبل اپنے اس غلط نظرئے کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا تھا قدیم سورمائی Knighthood معیشت کے تمام ادوار سے ہم آہنگ تھا۔

35؂ .

Observations on certain verbal disputes in Pol. Econ., particularlry relating to value and to demand and supply.، لندن ،1821ء ص.16۔

36؂ . ایس. بیلی،ایضاً،ص 165۔

37؂ . Observations کا مصنف اور ایس. بیلی دونوں ریکارڈو پر اس بات کا الزام رکھتے ہیں کہ اس نے قدرِ


ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

حواشی باب اول ان داشلائوں میں استعمال ھے
حواشی باب اول
اشیاء اور روپیہ - موضوع کے دوسرے داخلے