حواشی و حوالہ جات 5 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 803
عنوان حواشی و حوالہ جات 5
شاخ سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
پڑھا گیا 215732
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حواشی و حوالہ جات 5 کے بنیاد
سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حواشی و حوالہ جات 5 - کی دوسری شاخیں-

حواشی و حوالہ جات 5


شاخ سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

حواشی و حوالہ جات

1؂۔ ‘‘مبادلہ ایک ایسی قابلِ تحسین لین دین ہے جس سے ہر دو فریق فائدہ اٹھاتے ہیں(! )’’(Destutt de Tracy, Traite de la volonte et de ses effts, Paris, 1826, p.68. )۔ یہ کتاب بعد ازاں Traite d Econ.Polit.کے نام سے چھپی۔

2؂۔ Marcier de la Riviere,l.c., p 544. ۔

3؂۔‘‘ چاہے ان اقدار میں سے ایک قدر روپیہ ہو ، یا وہ دونوں ہی عام اشیاء ہوں ، یہ بذاتِ خود ہی ایسا معاملہ ہے جس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ’’( Marcier de la Riviere, l.c., p.543 )۔

4؂۔ ایک سودے بازی میں ملوث فریقین کا یہ کام نہیں کہ قدر پر کو ئی حکم لگائیں؛ یہ [قدر] تو اس سودے بازی سے قبل ہی طے پا چکی ہے۔ ’’(Le Trosne, p.906 )۔

5؂۔ Galiani, Della Moneta, in Custodi.Paste Moderna,Book IV, p, 244.

6؂۔ ‘‘ مبادلہ فریقین میں سے ایک کے لئے اُس وقت ناساز کار بن جاتا ہے جب کوئی بیرونی حالات قیمت میں کمی یا زیادتی کا باعث بنیں، اس صورت میں برابری ختم جاتی ہے، لیکن یہ گڑ بڑ خود گردش سے نہیں بلکہ اس کی وجہ سے پھوٹتا ہے ’’(Le Trosne, l.c.,p904 )۔

7؂۔ مبادلہ اپنی نوعیت کو رو سے ایک ایسا تعلق ہے جس کی بنیاد برابری پر استوار ہوتی ہے یعنی یہ دو برابر اقدار کے مابین رو نما ہوتا ہے۔ یہ ذاتی حاصل ہی کا ذریعہ نہیں ہے اگرچہ جتنا یہ حاصل کرتا ہے اتنا ہی دیتا ہے۔ ’’

( Le Trosne,l.c., p,p 903,904 )

8؂۔ Condillac, le Commerce et le Gouvernment(1776). Edit. Daire et Molinari in the Melanges d Econ. Polit., Paris,1847,pp.267,291. ۔

9؂۔ چنانچہ لی ٹروزنی اپنے دوست کینڈی لیک کی بات کا جواب بالکل درست انداز میں یوں دیتا ہے:‘‘ ایک ترقی یافتہ سماج میں کوئی چیز بھی فالتونہیں ہوتی ’’ ۔ اور ساتھ ہی وہ مزاحیہ انداز میں کہتا ہے:‘‘ اگر مبادلے میں آنے والے ہر دو افراد برابر رقم سے کچھ زیادہ حاصل کر لیں ، اور برابر سے کچھ کم سے الگ ہو جائیں تو وہ دونوں ایک جیسا ہی حاصل کرتے ہیں ’’ ۔(صفحہ 904)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینڈی لیک کو قدرِ مبادلہ کا دور کا علم بھی نہیں کہ اسے Her Professor Wilhelm Roscher نے بطور ایک موزوں شخص کے منتخب کیا تاکہ خود اس کے بچگانہ نظریے کی پختگی کا جواب دے ۔ دیکھئے Roscherکی کتابDie Grundlagen der Nationalokonomieمرتبہ Dritte Auflage, 1858 ۔

10؂۔ S.P.Newman, Elements of Polit.Econ.,Andovre and New York, 1835, p. 175. ۔

11؂۔‘‘ مصنوعہ کی تفویض کردہ قدر کے پھیلاؤ سے ...بیچنے والے امیر نہیں ہوتے...چونکہ جو کچھ وہ فروخت کنندگان کی حیثیت سے حاصل کرتے ہیں بالکل اسی کو خریداروں کی خاصیت میں خرچ کر دیتے ہیں۔

(The Essential Principles of the Wealth of Nations &c., London, 1797,p.66 )

12؂۔ اگر کسی شخص کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ مصنوعات کی کچھ مقدار کو 18لیوری میں فروخت کرے جبکہ اس کی قدر 24لیوری کے مساوی ہو ، جب کوئی شخص اتنی ہی رقم کو خریدنے میں صرف کرے ، تو ایک شخص 18لیوری سے مصنوعہ کی اتنی ہی مقدار حاصل کرے گا جتنی دوسرے شخص نے 24لیوری سے حاصل کی۔ـ ’’

( Le Tronse, l.c., p. 897. )

13؂۔ ایک فروخت کنندہ نارمل حالات میں صرف اسی صورت میں اپنی اشیاء کی قیمتیں بڑھا سکتا ہے جب وہ خود دوسرے فروخت کنندگان کی اشیاء کے لئے زیادہ روپے خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جائے،اور اسی وجہ سے عام طور پر ایک خریدار کی اپنی خریداری کے لئے کم ادائیگی پر تیار ہو تا ہے اگر وہ ان اشیا کی قیمتوں میں کمی کے لئے تیار ہو جائے جو وہ فروخت کرتا ہے۔؟ ’’

(Marcier de la Riviere, l. c., p.555.

14؂۔ Torrens, An Essay on the Production of Wealth, London, 1821, p.349. ۔

15؂۔‘‘ استعمال کنندگان کے ادا کئے گئے نفع کا تصو ر یقینی طور پر بڑا بودا ہے۔ استعمال کنندگان کون ہیں؟ ’’

(G.Ramsay, An Essay on the Distribution of Wealth, Edinburg, 1836,p.183 )۔

16؂۔‘‘ جب ایک آدمی طلب کا محتاج ہوتا ہے ، تو کیا اس صورت میں مسٹر مالتھس اس کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے آدمی کو ادائیگی کرے تاکہ وہ اس کا سامان لے جائے؟’’یہ سوال ریکارڈو کے ایک غصیلے شاگرد نے مالتھس سے کیا تھا، جواپنے شاگرد پارسن چالمر کی مانند نرے خریداروں یا استعمال کنندگان کے طبقے کی مدح سرائی کرتا ہے۔دیکھئے:

(An Inquiry in to those Principles Respecting the Nature of Demand and the Necessity of Consumption, lately advocated by Mr. Matthus, & c..London, 1821, p.55.

17؂۔ Destutt de Tracy شاید ، یا پھر اس لئے کہ وہ ادارے کا رکن تھا الٹ نظریہ رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صنعتی سرمایہ دار اس وجہ سے نفع کماتے ہیں کہ وہ تمام کے تمام اتنے روپوں سے زیادہ میں بیچتے ہیں جتنی ان کی تیاری میں لاگت آئی ہے۔ اور وہ کن کو فروخت کرتے ہیں؟ پہلی مثال میں ایک دوسرے کو۔ ’’(l,c.,p.239)۔

18؂۔ ‘‘دو مساوی اقدار کا مبادلہ معاشرے میں موجود اقدار کی مقداروں کو نہ گھٹاتا ہے نہ کم کرتا ہے۔ اور نہ ہی دو غیر مساوی اقدار کا مبادلہ ... سماجی اقدار کے حجم میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی پیدا کرتا ہے، تا ہم یہ ایک شخص کی دولت میں اتنا اضافہ ضرور کرتا ہے جتنا دوسرے شخص کی دولت میں کمی کرتاہے۔ ’’( B.J.Say, l.c., t, II, pp. 443, 444. )۔ Say نے اس بات کو ، اس کے نتائج سے قریب قریب بے بحرا ہوتے ہوئے ہی Physiocrats سے لفظ بہ لفظ رقم کر دیا ہے۔ مندرجہ ذیل سے اس بات کا بخوبی پتا چل جائے گا کہ Sayنے اپنی تحریروں کی قدر و منزلت بڑھانے کے لئے کس طرح سے ، Physiocrats ، جو اس کے دور میں بھلایا جا چکا تھا، کی تحریروں کو استعمال کیا۔ اس کا سب سے اعلٰی بیان:‘‘ مصنوعات کو محض مصنوعات ہی سے خریدا جا سکتا ہے۔ ’’(l. c., t. I,p. 438. )Physiocrats کی کتاب میں ان الفاظ میں ہے:‘‘ مصنوعات کا عوضانہ صرف مصنوعات ہی سے دیا جا سکتا ہے ’’ ۔( Le Trosne, l. c., p.899. )۔

19 ؂۔ ‘‘ مبادلہ مصنوعات کو کسی قسم کی قدر مہیا نہیں کرتا۔ ’’

(F. Way Land, The Elements of Political Economy, Boston, 1843, p. 169 )۔

20؂۔ غیر متغیر مساوی القوت کے قوانین کی صورت میں تجارت ناممکن ہو گی۔ ’’

(G. Opdyke, A Treatise on Polit. Economy, New Work, 1851, pp. 66, 69).‘

‘حقیقی قدر اور قدرِ مبادلہ میں اصلی فرق کی بنیاد اس سچائی پر ہے کہ ایک چیز کی قدر تجارت میں اس کے عوض دئے جانے والے نام نہاد مساوی القوت مختلف ہوتی ہے مطلب یہ کہ یہ مساوی القوت در اصل مساوی القوت نہیں ہوتا۔ ’’(F.Engles, l. c., pp.95,96. )۔

21؂۔ بینجمن فرینکلن ، کلیات، جلد2 ،مرتبہ، سپارکس،Posotions to be examined concerning National Wealth ، ص .376۔

22؂۔ ارسطو ، l. c., [کتاب دی ریپبلک ، بُک وَن ] باب10۔

23 ؂۔‘‘ منڈی کی عام صورتِ حال میں نفع مبادلے سے نہیں پیدا کیا جاتا، اگر اس کا پہلے کوئی وجود نہیں تھا، تو اس سودے بازی کے بعد بھی نہیں ہو سکتا۔رامسے Ramsay l. c., ، ص 184 ۔

24؂۔ مقدم الذکر تحقیقات سے




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

No Article found
سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات - موضوع کے دوسرے داخلے