حوالاجات و حواشي : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 833
عنوان حوالاجات و حواشي
شاخ اشتراکِ عمل
پڑھا گیا 218211
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالاجات و حواشي کے بنیاد
اشتراکِ عمل / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالاجات و حواشي - کی دوسری شاخیں-

حوالاجات و حواشي


شاخ اشتراکِ عمل
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

سب سے پہلا نتیجہ کچرے کی کمی کی شکل میں نکلا، مزدور یہ تو نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنی جائیداد کو کسی دوسرے مالک کی نسبت سے ضائع کیوں کریں۔ اور غالباً یہ کچرا بُرے قرضوں کے بعد آتا ہے،اور یہ مشینی پیداوار کے نقصان کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسی جریدے میں یہ انکشاف بھی ہے کہ Rochdaleکے اشتراکِ عمل کی بابت تجربات میں سب سے بڑا نقص یہ ہے :‘‘ وہ باور یہ کراتے ہیں کہ مزدوروں کی تنظیمیں دکانوں، مِلوں، اور قریب قریب صنعت کی تمام اقسام کواحسن طریقے سے منظم کر سکتی ہیں؛ لیکن اس صورت میں مالک کے لئے کوئی واضح جگہ نہیں بچتی۔ Quelle horreur!

16؂ ۔پروفیسر کیرنز اس بیان کے بعد کہ شمالی امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں غلاموں کے ذریعے محن کی نگرانی پیداوار کی نمایاں خاصیت ہے،کہتا ہے:‘‘ جبکہ( شمالی علاقوں کے )زراعتی مالک کے پاس اس کی تمام پیداوار کے حصول کے بعد کسی قسم کی مشقت یا تندہی کا محرک نہیں رہتا۔ یہاں نظامت کے بغیر مکمل طور پر گزارہ ہو جاتا ہے۔(Cairnes, l. c., pp. 48, 49. )

17؂ ۔ سر جیمز سٹیورٹ جیسا قلم کار جس کی تمام شہرت اس وجہ سے ہے کہ وہ مختلف پیداواری وضعوں کے مابین خواصی سماجی فرق کرنے کے سلسلے میں انتہائی زیرک ہے، کہتا ہے:‘‘کس وجہ سے بڑے بڑے کارخانوں میں مشینی پیداواری انداز پرائیویٹ صنعت کو تباہ کر دیتی ہیں، لیکن ایسا یہ غلاموں کی سادگی سے قریب تر ہوتے ہوئے ہی کرتی ہیں؟( Prin. of Pol. Econ.., London, 1767, v. I., pp. 167, 168.)

18؂ ۔ Auguste Comte اور اس کے مکتبۂ فکر نے بہر حال یہ باور کرا دیا ہے کہ بڑے بڑے جاگیر دار بالکل اسی انداز میں ایک ازلی لازمیت ہیں جیسے اُنہوں نے سرمائے کے آقا کے ساتھ کیا۔

19؂ ۔ R. Jones.Textbook of Lectures,&c., pp. 77, 78. لندن اور یورپ کے دیگر بڑے شہروں میں قدیم Assyrian، مصریوں اور دیگر [نوادرات کے ] مجموعے اس بات کی عینی شہادت فراہم کرتے ہیں کہ اشتراکِ عمل کو کس طرح سے نافذ کرتے تھے۔

20؂ ۔غالباً Linguit نے ٹھیک ہی کہا تھا جب وہ اپنی کتابTheorie des Lois Civiles, میں دعو یٰ کرتا ہے کہ شکار اشتراکِ عمل کی پہلی شکل ہے، اور انسانی شکار( مطلب یہ کہ جنگ )شکار کی ابتدائی ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔

21؂ ۔ چھوٹے پیمانے پر مزارع کی زراعت اور آزاد دستکاریوں کا جاری رہنا ، جو دونوں مل کر جاگیردارانہ طبعِ پیداوار کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں،اور اس نظام کے بکھر جانے کے بعدیہ سرمایہ دارانہ طبع کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ یہ قدیم سماجی ڈھانچوں کی بہترین معاشیاتی بنیاد بھی بنتے ہیں جب زمین کی مشترکہ ملکیت کی قدیمی بنتر ختم ہوجانے کے بعدکلاسیکل معاشرتیں اپنے عروج پر تھیں اورابھی غلامی پیداوار پر غالب نہیں آئی تھی۔

22؂۔‘‘ چاہے متحد شدہ مہارت، صنعت اورایک ہی کام پر بہت سارے افراد کی شراکت اس کو ترقی دینے کی وجہ نہ ہے؟ یا چاہے انگلستان کے لئے اس کے علاوہ اپنی اون کی صنعت کو اوجِ کمال تک پہنچانا ممکن ہوتا؟( Berkely.The Querist.London, 1751, p. 56, par. 521.)

____________________________________________________



اس کتاب کو مارکسسٹس انٹر نیٹ آرکائیو marxists.orgکے لیے ابن حسن نے ترتیب دیا۔

کمپوزنگ: امتیازحسین، ابن حسن

اپنی رائے اور تجاویز کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں۔

hasan@marxists.org




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

No Article found
اشتراکِ عمل - موضوع کے دوسرے داخلے