حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215878
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ


Foot notes.

1؂۔ایک دن کا محن مبہم ہے یہ کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی۔

(An essay on Trade and Commerce, Containing Observations on Taxes, & c., London. 1770, p. 73.)

2؂۔یہ سوال سر رابرٹ پیل کے اُس خوش نما سوال سے زیادہ اہم ہے جو اُس نے برمنگھم کے چیمبر آف کامرس کو کیا تھاکہ : ایک پونڈ کیا ہوتا ہے؟ ایک ایسا سوال جو صرف تجویز ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ پیل صاحب روپے کی اصلیت سے اتنے ہی بے بہرہ تھے جتنے کہ برمنگھم کے شلنگ کے چھوٹے آدمی

3؂۔ اپنے بڑھائے ہوئے سرمائے کے ذریعے محن کی زیادہ سے زیادہ ممکن مقدار کاحصول ہی سرمایہ دار کا مقصد ہے۔J. G. Courcelle-Seneuilکی کتاب Traite theorique et paratique des entreprises industrielles,جو دو جلدوں پر مشتمل ہے ، طبعِ دوم،پیرس 1857، ص 63۔ [اس کتاب کی پہلی اشاعت کی پہلی جلد 1855کو منظرِ عام پر آئی۔]

4؂۔اگر ایک دیہاڑی کے کام میں سے ایک گھنٹہ ضائع ہو جائے تو اس کو کسی صنعتی ریاست کوغیر معمولی نقصان پہنچنا کہا جائے گا....۔اس بادشاہت کے غریب مزدور میں آسائشی سازو سامان کی بڑی کھپت ہے؛ اور خاص طور پر مصنوعات سے وابستہ آبادی میں جس سے وہ اپنا وقت بھی خرچ کرتے ہیں ، اور یہ خرچ کرنے کا مہلک ترین انداز ہے۔(An Essay on Trade and Commerce, &c., p. 47, 153.)

5؂۔اگر آزاد مزدور اپنے لئے آرام کا کوئی لمحہ مہیا کرے تو اس پر نگرانی کرنے والی گھٹیا اور کم ظرف انتظامیہ اُس پر چوری کا الزام دھرے گی۔(N. Linguet, Theorie des loix civils, &c., London, 1767, t. II, p. 446.)

6؂۔لندن کے معماروں کی عظیم ترین ہڑتال( 1860-61)کے دوران_ جو دیہاڑی کی 9گھنٹے تک تقلیل کے بارے میں تھی_ان کی کمیٹی نے ایک مینی فیسٹوشائع کیا ، جس میں کسی حد تک ہمارے کارکنان کا جواز بھی شامل تھا۔ یہ مینی فیسٹو ترش روی کے ساتھ اس حقیقت اشارہ کرتا ہے کہ امارات کے ٹھیکیداروں میں سب سے بڑا منافع خور جویقینا سر ایم. پیٹو ہی ہیں تقدس کی باس میں ہیں۔(یہی پیٹو صاحب 1867کے بعد سٹروس برگ کے مقام پر ختم ہو کر رہ گئے۔)

7؂۔جو محنت کرتے ہیں..... درحقیقت وہ دونوں اشخاص کو پالتے ہیں ....جن میں پنشنر[جنہیں امیرکہا جاتا ہے ] اور وہ خود شامل ہیں۔( Edmund Burke, l, c., p. 2)۔

8؂۔اپنی کتاب Roman History میں Neibuhrصاحب بڑے سادہ لوح طریقے سے کہتے ہیں : یہ واضح ہے کہEtruscanکے کھنڈروں کے آثار جو ہمیں حیران کر دیتے ہیں، چھوٹی ریاستوں میں بہت کم یہ دکھاتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی آقا اور غلام موجود تھےسس مانڈی نے اسی بات کو اور زیادہ وضاحت سے کہتا ہے کہ بروسلز کپڑے کی لیسیں آقاؤں اور دیہاڑی دار غلام کی موجودگی کا پتا دیتی ہیں۔

9؂۔کسی شخص کی نظر بھی اگران بد نصیبوں تک چلی جائے( مصر، ایتھوپیا، اور عرب، کی سونے کی کانوں میں کام کرنے والے )جو اپنے آپ کو صاف بھی نہیں رکھ سکتے ، اور نہ ہی اپنا بدن ڈھانپ سکتے ہیں _تو وہ ان کی قابلِ رحم حالت پر رحم کھائے بغیر نہ رہ سکے۔ان کانوں میں نہ تو کسی کو مداخلت ہے اور نہ کوئی کسی بیمار، کمزور، عمر رسیدہ یا کسی عورت کی نحافت کا پُرسیدہ ہی ہوتا ہے۔ان سب کو مار پیٹ کے خوف سے کام کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ موت کے گھاٹ اُتر کر ہی ان کی مشکلات اور مصائب ختم ہوتے ہیں۔(Doid. Sic. Bibl. Hist.,lib. 2, c. 13. )

10؂۔جو گفتگو بعد ازاں آنے والی ہے اس میں رومانیہ کے صوبجات کی اُس صورتِ حال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں کریمیا کی جنگ کے بعد کے دور کا خاصہ ہے۔

11؂۔یہ صورتِ حال جرمنی پر بھی ایسے ہی لاگو آتی ہے،اور خاص طور پر پروشیا کے اس علاقے میں جو البے کے مشرق میں آتا ہے۔15ویں صدی میں جرمنی کا کاشت کار تقریباً ہر جگہ ایک ایسا آدمی تھا جو اگرچہ بعض جگہوں پر پیداوار کی شکل میں لگان دینے کا پابند تھا ؛ اور اس سے ہٹ کر محن تقریباً عملاً مفت ہی شمار کیا جاتا تھا۔ برین ڈین برگ ، پومارانیہ، سیلے سیا اور شمالی پروشیا میں جرمن نو آباد کاروں کو قانونی طور پر آزاد افراد تصور کیا جاتا تھا۔ کسانوں کی جنگ میں امراء کے کامیابی نے اس کا خاتمہ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ جنوبی جرمنی کے کسانوں کو ایک بار پھر غلام بنا لیا گیا۔ 16ہویں صدی کے وسط کے مشرقی پروشیا ، بران ڈین برگ، پومارانیہ، سلے سیا،کے کسانوں کو _ Schleswig-Holsteinکے کسانوں کی آزاد ی کے فوراً بعد _نیم غلاموں میں بدل دیا گیا۔

(Maurer, Fronhofe iv. vol.,_Meitzen, Der Boden des preussischen Staats._Hanssen, Leibeigenschaft in Schleswig-Holstein._F. E. )

12؂۔ اس کے بارے میں مزید ای ریگ نالٹ کی کتاب Histoire politique et sociale des principautes, Paris, 1855.)سے مل سکتی ہیں۔

13؂۔عام طور پر اور کچھ حدود کے اندر ، اپنے جیسوں سے جسامت میں بڑھ جانا کسی نامیاتی زندگی کی خوشحالی کا ثبوت ہے ۔ جیسے اگر انسان کی معمولی بڑھوتری میں کسی قسم کے جسمانی یا سماجی حالات کی وجہ سے کوئی رکاوٹ آ جائے تو اس کے قد کی بڑھوتری کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔تمام یورپی ممالک میں جہاں پر فوجی نوکری کو برتری حاصل ہے ،وہاں جب سے اس ملازمت کا آغاز ہوا ہے فوج کے لئے اوسط قد اور جسمانی موزونیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔(1789 )کے انقلاب سے پہلے بری فوج کے قد کی کم از کم حد 165سینٹی میٹر تھی؛ 1818میں( یعنی 10مارچ کے قانون کے زمانے میں)157سینٹی میٹر، 21مارچ 1832کے قانون کے تحت 156سینٹی میٹر رہی۔ فرانس میں اوسطاً آدھے سے زیادہ لوگوں کو قد اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے مسترد کر دیا جاتاہے۔ سیکسونی میں 1780میں فوجی معیار کا قد 178سینٹی میٹر تھا اور اب یہ 155سینٹی میٹر ہے۔ پروشیا میں 157سینٹی میٹر ہے۔ 9مئی 1862میں لئے گئے ڈاکٹر میئر کے اعدادوشمار کے مطابق نو سال[کی بھرتی ] کے اوسط نتائج یہ ہیں کہ پروشیا میں 1,000 میں سے 716افراد فوجی ملازمت کے لئے موزوں نہ تھے،317کو وزن میں کمی بیشی کی وجہ سے مسترد کیا گیا اور 399کو جسمانی خامیوں کی وجہ سے......۔ 1858میں برلن اپنے رنگروٹوں کا دستہ فراہم نہ کر سکا، کیونکہ 156آدمی کم پڑ گئے تھے۔J. von Leibigکی کتاب:Die Chemie in ihrer Anwendung auf Agrikultur und Physiologie. 1862, 7th Ed.., vol. I pp. 117, 118.)

14؂۔1850کے قانونِ کارخانہ کے بابت تاریخ اسی باب میں ملے گی۔

15؂۔میں نے کہیں کہیں محض انگلستانی جدید صنعت کے آغاز سے لے کر1845تک ہی کاذکر کیا ہے۔اس عہد کے لئے قاری کو میں اس کتاب کا حوالہ دیتا ہوں:Die Lage der arbeitenden Klasse in England,جس کو فریڈرک اینگلز نے تحریر کیا ہے، مطبوعہ، 1845۔[یہ کتاب ہے انگلستان میں مزدور طبقے کی حالت] سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار کو اینگلز مکمل طور پر سمجھنے میں کس قدر کامیاب رہا ہے اس کا اندازہ ہمیں فیکٹریوں کی رپورٹوں اور کانوں کے بارے میں ان رپورٹوں وغیرہ سے ہو جاتا ہے جو 1845سے ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ اور اس [اینگلز] نے ان مفصل حالات کو جس کمال سے بیان کیا ہے اگر اس کا واجبی ساموازنہ چلڈرن ایمپلائمنٹ کمیشن کی سرکاری رپورٹوں کے ساتھ کیا جائے جو 18یا 20سال بعد( 1863-6




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے