حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215883
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

7 )چھپی تھیں۔ان رپورٹوں میں خاص طور پر صنعت کی وہ شاخیں زیرِ بحث آئی ہیں جن میں 1862تک قوانینِ کارخانہ لاگو نہ ہو سکے تھے، درحقیقت وہ اب بھی لاگو نہیں ہو سکے۔میں نے اپنی تمام کی تمام مثالیں بالخصوص 1848کے بعد آزاد تجارت کے زمانے سے لی ہیں جو جنت کا ایک ایسا عہد ہے جس کے بارے میں آزاد تجارت کی عظیم فرم کے کاروباری مسافر، جو اتنے ہی بیہودہ ہیں جتنے جاہل، ایسی فرضی داستانیں سناتے ہیں۔ انگلستان کے دیگر اعدادوشمار بالکل واضح ہیں کیونکہ یہ ملک سرمایہ دارانہ پیداوار کا کلاسیکی نمائندہ ہے، چنانچہ اس کے پاس ان اعدادوشمار کی پوری پوری دفتری فہرستیں موجود ہیں جنہیں ہم زیرِ بحث لا رہے ہیں۔

16؂۔ فیکٹری کے معائنہ کار مسٹر ایل ہارنر کی تجاویزFactories Regulation Actsمیں ۔ جس کی طباعت کا ہاؤس آف کامنز نے 9اگست1859میں حکم دیا، ص. 4،5۔

17؂۔آدھے سال کی بابت فیکٹری کے معائنہ کاروں کی رپورٹیں۔ اکتوبر 1856ص. 35۔

18؂۔30اپریل 1858کی بابت رپورٹیں،ص.9۔

19؂۔ایضاً ،...................................... ص10۔

20؂۔ایضاً.......................................ص 25۔

21؂۔30اپریل 1861کو ختم ہونے والے سالِ نصف کی بابت رپورٹیں ۔ ان رپورٹوں کا ضمیمہ نمبر 2ملاحظہ ہو۔اشاعت 31اکتوبر1862ص. 7،52،53۔سال 1863کے نصفِ آخر سے اس قانون کی خلاف ورزی زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہو گئی۔ 31اکتوبر 1863کے اختتام کی بابت رپورٹیں، ص. 7۔

22؂۔31اکتوبر1860کی بابت رپورٹیں ،ص.23۔کارخانہ داروں کی عدالتی قانون میں دی جانے والی گواہیوں کے مطابق، کیسے پاگل پنے کے ساتھ ان کے مزدور فیکٹری کے محن میں آنے والی ہر رکاوٹ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اس کا مظاہرہ ہمیں ذیل کے نا ساز گار حالات سے ہو گا۔جون 1836کے آغاز میں ڈیوس بری کے مجسٹریٹ کو یہ معلومات حاصل ہوئیں کہ بالٹیBaltey کے قرب و جوار میں 8بڑی بڑی مِلوں کے مالکان نے قانونِ کارخانہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان شرفاء میں سے کچھ پر تو یہ الزام بھی تھا کہ اُنہوں نے 12اور 15سال کے درمیان عمر کے 5 لڑکوں کو جمعہ صبح 6بجے سے لے کر ہفتہ شام چار بجے تک کام پر لگائے رکھا ہے، اور اس دوران اُنہیں کھانے پینے اور صرف ایک گھنٹہ آدھی رات کو سونے کے علاوہ کوئی لمحہ بھی فراغت کا مہیا نہیں کیا گیا۔اور یہ بچے مسلسل 30گھنٹے تک shoddyholeمیں بھی کام کرتے رہے ہیں ؛ جبکہ holeایسی جگہ کو کہتے ہیں جس میں اونی ٹکڑوں کوٹکڑوں میں کھینچا جاتا ہے، اور جس جگہ پر گرد و غبار، اور چیتھڑوں میتھڑوں کا گھناؤنا ماحول جوان مردوں کو بھی اس بات پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے مُنہ ڈھانپے رکھیں تا کہ اُن کے پھیپھڑے محفوظ رہیں۔ ملزم حضرات نے قسمیں کھانے کے بجائے _اس لئے کہ یہ گروہ quakersسے متعلق تھا اس لئے اتنے مذہبی ہیں کہ قسم نہیں کھا سکتے_اس بات کا دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے ان بد قسمت بچوں پر رحم کھاتے ہوئے انہیں چار گھنٹے تک سونے کی اجازت دے دی ہے، لیکن یہ ضدی بچے بستر پر ہر گز نہیں جائیں گے۔ ان مذہبی حضرات کو 20پونڈ کی آمدن ہوئی۔ ڈرائیڈن نے یہ انہی شرفاء کی پیش بینی کی ہو گی:

لومڑی جس میں ظاہراًتقدس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے

وہ قسم کھانے سے ڈر گئی ؛ لیکن شیطان کی طرح جھوٹ بول جائے گی،

وہ بڑی متقی نظر آ رہی تھی، اس کے چہرے پر نور برس رہا تھا،

وہ گناہ کو چھو کر بھی نہ دیکھتی ! تا آنکہ وہ اپنی نماز پڑھ لیتی!

23؂۔31اکتوبر1856کی بابت اپورٹیں ، ص. 34۔

24؂۔ایضاً......................................ص. 35۔

25؂۔ایضاً......................................ص. 48۔

26؂۔ایضاً......................................ص. 48۔

27؂۔ایضاً......................................ص. 48۔

28؂۔ایضاً......................................ص. 48۔

29؂۔معائنہ کار کی رپورٹ 30اپریل،1860ص. 56۔

30؂۔کارخانہ جات اور رپورٹوں ہر دو کا یہ سرکاری طریقۂ اظہار ہے۔

31؂۔مالکانِ مِل کی ہوس جس نے فائدہ حاصل کرنے کے سلسلے میں جو مظالم روا رکھے ہیں وہ مشکل ہی سے اُن زیادتیوں سے کم ہیں جو اہلِ اسپین نے سونا نکالنے کی دوڑ میں امریکہ کی فتح کے دوران کی تھیں۔ ملاحظہ ہو جان ویڈ کی کتابHostry of the Middle and Woking Classes, تیسری اشاعت، لندن، 1835، ص 114۔اس کتاب کا نظریاتی حصہ سیاسی معیشت کی ہینڈ بُک کی طرز کی کتاب کی مثال پیش کرتا ہے، اگر اس کی اشاعت کو مدِ نظر رکھا جائے تواس کے کچھ حصے ،جیسے کاروباری بحران پر،اصلی دکھائی دیتے ہیں ۔تاریخی حصہ بڑی حد تک سر ایف ایم ایڈن کی کتاب The State of the Poorجولندن 1797میں چھپی کا سرقہ لگتاہے۔

32؂۔روزنامہ Daily Telegraphسترہ جنوری 1860۔

33؂۔Cf. F. Engles, Lage, etc. pp. 249-51.

34؂۔Childrens Employment Commission. First report., etc., 1863. Evidence, pp. 18,19.

35؂۔صحتِ عامہ، تیسری رپورٹ، وغیرہ ، ص. 102،104،105۔

36؂۔Child. Empl. Comm. I. Report, p. 24

37؂۔ایضاً .........................................، ص. 22اورxi۔

38؂۔یضاً .........................................، ص.xlvii۔

39؂۔یضاً .........................................، ص. liv

40؂۔اس کو اُنہیں معنوں میں نہیں لینا چاہیے جیسے ہم محنِ زائد کے وقت کو لیتے ہیں۔ان شرفاء کا خیال ہے کہ ایک نارمل دیہاڑی -03گھنٹے کی ہوتی ہے ، جس میں یقینا ایک نارمل سا محنِ زائد شامل ہوتا ہے۔ اس کے بعد اوورٹائمشروع ہو جاتا ہے جس کی مزدوری کچھ بہتر ہی ہوتی ہے۔بعد ازاں یہ دیکھا جائے گا کہ نام نہاد معمول کی دیہاڑی کے دوران خرچ کئے جانے والے محن کی اُجرت اس کی قدر سے کم اداکی جاتی ہے۔اور وہ اس لئے کہ کثرتِ کار سرمایہ دار کا ایک ایسا حربہ ہے جس سے وہ زیادہ محنِ زائد حاصل کر لیتاہے۔ یہ حربہ اس صورت میں بھی موجود ہو گا اگر نارمل دیہاڑی کے دوران خرچ ہونے والے محن کی اُجرت خاطر خواہ ادا کی جائے۔

41؂۔l. c., Evidence, pp. 123, 124, 125, 140, and 54.

42؂۔پھٹکڑی کا سفوف بنا کر یا اسے نمک میں ملا کر ایک معقول تجارتی سامان بن جاتا ہے جس کو نانبائیوں کے سامان سے موسوم کیا جاتا ہے۔

43؂۔دھوئیں کا سفوف کاربن کی بڑی مشہور اور مقوی قسم ہے، جسے کھاد کے بطور استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سفوف کو کارخانوں کے چمنیاں صاف کرنے والے کسانوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ آج کل یعنی 1862میں برطانوی جیوری کے سامنے ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے ؛ تاکہ اس بارے میں فیصلہ ہو سکے کہ آیا دھواں سفوف_ جس میں 90%گرد اور ریت شامل ہیں اور اس کا خریدار اس سے بالکل بے خبر ہوتا ہے_ تجارتی سطح پر خالص سفوف قرار دیا جا سکتا ہے یا پھر اس کو قانون کی نظرمیں ملاوٹ شدہ سفوف کہیں گے۔ amis du commerceنے اس بارے میں فیصلہ صادر فرمایا کہ یہ خالص تجارتی سفوف ہی ہے چنانچہ کسان کا دعویٰ غلط ہے اس لئے اُسے مقدمے کا خرچ ہرجانے کے طور پر دینا ہو گا۔

44؂۔فرانسیسی کیمیا دان Cheva




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے