حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215895
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ10
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

ی ہیں۔ عام سوت کے کپڑے کے لئے 80سے 90ڈگری فارن ہیٹ تک ، اور ، موٹے سوت کے لئے 100ڈگری فارن ہیٹ تک کا درجہ حرارت درکار ہوتاہے۔12لڑکیاں کپڑوں پر استری کر کے انہیں تیار کر رہی ہوتی ہیں ، یہ دس مکعب فٹ کا ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جس کے درمیان میں آتشدان جل رہا ہے۔یہ تمام لڑکیاں اس آتشدان کے گرد کھڑی ہوتی ہیں جس سے بڑی تیز حرارت خارج ہوتی ہے اور اس سے موٹاکپڑا بہت جلد استری کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ ان مزدوروں کے لئے محن کے اوقات انتہائی لا محدود ہیں ۔ اگر کام زیادہ ہو تو وہ لگاتار رات 9یا 12بجے تک کام کرتی رہیں ۔( 31اکتوبر1862کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 56۔)طب سے متعلق ایک آدمی کہتا ہے: ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص اوقات میسر نہیں ، لیکن اگر درجۂ حرارت بہت زیادہ بڑھ جائے ؛ یا یہ کہ مزدوروں کے ہاتھ پسینے کی وجہ سے چکنے ہو جائیں تو ان کو چند لمحوں کے لئے باہر جانے کی اجازت ہے...۔میرا تجربہ _جو کہ آتش دان پر کام کرنے والوں کی بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں قابلِ اعتماد ہے _مجھے اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ میں یہ ظاہر کروں کہ ان کے لئے حالات اُتنے اچھے نہیں ہیں جتنے کاتنے والی فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کے ہوتے ہیں( اور سرمایہ ہے کہ پارلیمنٹ کے نام اپنی یاد داشتوں میں Rubensکے انداز میں ان حالات کی بہت شاندار تصویر کھینچتا ہے۔ )ان مزدوروں میں جو بیماریاں عام طورپر پائی جاتی ہیں ان میں سِل، نرخرے کا مرض،پیشاب میں گڑ بڑ، انتہائی شدید قسم کا ہسٹریا، گنٹھیا شامل ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تمام بیماریاں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان کمروں کی نخالص اور انتہائی گرم ہوا کی وجہ سے ہوتی ہیں جن میں یہ مزدور کام کرتے ہیں؛ اس کے علاوہ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے جب یہ گھر واپس جاتے ہیں تو ان کے پاس ایسے معقول لباس نہیں ہوتے جو ان کے جسم کی ایسے سرد موسم میں حفاظت کر سکیں ۔( ایضاً ، ص. 56،57۔ )1860کے ضمنی قانون پر معائنہ کاروں نے جو تبصرہ کیا ہے وہ انہی کھلی فضا میں دھلائی کرنے والوں سے لیا گیا ہے۔ قانون نہ صرف وہ تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے جس کا یہ دعویدار تھا بلکہ اس میں ایک جملہ ایسا بھی ہے ..... جس کا بظاہر مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر لوگ رات 8بجے کے بعد کام کرتے ہوئے نہیں پائے جاتے توایسا لگتا ہے کہ وہ کسی قسم کے تحفظ کے قانوں کے تحت نہیں آتے ۔ اگر وہ کام کرتے ہوئے مل جاتے ہیں تو اس بارے میں گواہی پیش کرنے کا طریق کار اتنا مشکل ہے کہ اس کی سزا دلانابہت ہی مشکل ہوتاہے۔(ایضاً ، ص.52 )چنانچہ تمام ارادوں اور عملی اقدامات کے لحاظ سے ایک ایسا قانون جو سود مند اور تعلیمی ہو ، یہ ایک ناکام قانون ہی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اسے مزدوروں کے لیے بمشکل ہی سود مند کہا جائے گا کہ عورتوں اور بچوں کو مسلسل 14گھنٹے کام کرنا پڑے جس کے دوران کھانے پینے کے لئے کوئی وقفہ بھی نہ ہو، اور غالباً اس سے بھی کئی گھنٹے زیادہ اور وہ بھی عمر اور جنس کا تعین کئے بغیر؛ اور جس میں قریبی علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کی عادات کو بھی مدِ نظر نہ رکھا جائے ،اور ساتھ ساتھ جن میں( دھلائی اور سُکھائی ایسے )کام بھی جاری و ساری ہوں۔( 30اپریل 1863کی بابت رپورٹیں وغیرہ،ص. 40۔)

150؂۔دوسری اشاعت کے لئے نوٹ۔ 1866کو جب سے میں نے درج بالہ اقتباس تحریر کیا ہے تب سے اس کے نتیجے میں ایک ردِ عمل ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔

151؂۔ ان دونوں طبقات( سرمایہ دار اور مزدور پیشہ )میں سے ہر ایک کا رویہ ان متعلقہ حالات کا نتیجہ ہے جن میں یہ دونوں رہ رہے ہیں۔( 31اکتوبر1848کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 133۔)

152؂۔ جن ملازمتوں پر بندش لگائی گئی تھی وہ لباس سازی کی ایسی صنعت ہے جو بھاپ اور پانی کی قوت کی مدد سے چلتی ہے۔دو وجوہات ایسی ہیں جن کے تحت کسی ملازمت کا معائنہ کیا جا سکتا ہے : ایک یہ کہ بھاپ اور پانی کی قوت کا استعمال کیا جائے اور دوسرے خاص قسم کے ملبوسات تیار کئے جائیں۔( 31اگست1864کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 8۔)

153؂۔ نام نہاد گھریلو صنعتوں کی صورتِ حال پر چلڈرنز ایمپلائمنٹ کمیشن کی تازہ ترین رپورٹوں میں اہم مواد بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔

154؂۔ [پارلیمنٹ کے] آخری دور کے قوانین( 1864)متنوع پیشوں کا احاطہ کرتے ہیں جن کی روایات کے تحت ان میں نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے، اور مشینری کو حرکت میں لانے کے لئے میکانیکی قوت کا استعمال اب ایسا اہم عنصر نہیں رہے جو ما قبل ایک فیکٹری چلانے میں بہت ضروری ہوتے تھے۔(31اگست1864کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 8۔)

155؂۔ بلجیم جسے برِ اعظم یورپ کی آزاد خیالی کی جنت کہا جاتا ہے ، اس تحریک کی کوئی علامت ظاہر نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ کوئلے اور دھات کی کانوں میں ہر عمر و جنس کے مرد و زن ، مکمل آزادی کے ساتھ کسی بھی وقت اور کسی بھی دورانیے کے لئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ ملازمت میں آنے والے ہر 1,000افراد میں سے 733مرد، 88عورتیں، 135لڑکے، اور 16سال سے کم عمر کی 44لڑکیاں ہوتی ہیں ۔پریشر سے چلنے والی بھٹیوں وغیرہ میں ہر 1,000افراد میں سے 668مرد، 149عورتیں، 98لڑکے، اور 16سال سے کم عمر کی 85لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ اور اس پر مستہزاد یہ ہے کہ ہر بالغ اور نا بالغ قوتِ محن کا کم اُجرت پر حد سے زیادہ استحصال کیا جاتا ہے۔ایک مرد کا اوسط روزینہ 2شلنگ. 8ڈالر، ایک عورت کا 1شلنگ. 8ڈالر، ایک لڑکے کے لئے -03ڈالر بنتا ہے۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ 1850کی نسبت 1863میں اس کے کوئلے اور لوہے ہر دو کی برآمدی قدر بھی قریب قریب دگنی ہو گئی تھی۔

156؂۔ رابرٹ اوون نے 1810کے فوراً بعد نہ صرف نظریاتی طور پر دیہاڑی کی حد بندی کی ضرورت پر زور دیا ، اس نے نیو لینارک میں اپنے کارخانے میں 10گھنٹے کی دیہاڑی کا اصول وضع کرتے ہوئے اس کا عملی ثبوت بھی دیا۔اس اقدام کو کمیونسٹک یوٹوپیا کہہ کر تمسخر بھی اڑایا گیا۔ اسی طرح افزودہ محن کے ساتھ بچوں کی تعلیم کو لازم و ملزوم کر دینااور مزدوروں کی تعاونِ باہمی کی تنظیموں کی تشکیل بھی اُسی کا پہلا کارنامہ ہیں۔ آج کل قوانین برائے کارخانہ کو پہلا یوٹوپیا کہا جا تاہے، اور دوسرا یوٹوپیا فیکٹری کے قوانین میں سرکاری الفاظ کے بطور نظر آتا ہے، اور تیسرے کو رجعت پسندانہ دھوکے بازی کے لئے ابھی سے استعمال کیا جانے لگا ہے۔

157؂۔ Ure(French Translation), Philosophie des Manufacture,Paris, 1836, Vol. II, P. 39, 40, 67, 77 &c.

158؂۔پیرس میں 1855میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی شماریات کے ایک اجلاس میں ایک علامیے کے تحت کہا گیا کہ: وہ فرانسیسی قانون جس کے تحت فیکٹریوں اور کارخانوں میں دیہاڑی کی طوالت کو 12گھنٹے تک محدود کر دیا گیا ہے ؛ اس کے تح




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ10
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے