حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215892
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

llierنے اپنے کتابچے_ جس کا موضوع اشیاء میں نفاستہے _میں 600سے زیادہ ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے، جن کے بارے میں اس نے 10،20،اور 30انداز میں ملاوٹ کے طریقے بتائے ہیں۔ مزید اس نے یہ بھی کہاہے کہ وہ سارے طریقوں سے آگاہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ تمام کے تمام طریقے بیان کر رہا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے۔ اس نے چینی میں ملاوٹ کے 6، زیتون کے 9،مکھن کے 10، نمک کے 12،دودھ کے 19،ڈبل روٹی کے 20، برانڈی کے 23، روٹی کے 24، چالکیٹ کے 28، شراب کے 30، کافی وغیرہ کے 32 ،طریقے بتائے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ خود قادرِ مطلق بھی اس تقدیر سے نہ بچ سکا۔ ملاحظہ ہو Rouard de Card,کی کتابOn the Falsification of the Materials of the Sacrament.( De la falsification des substances sacramentelles, Paris, 1856. )

45؂۔دوسروں کے لئے کام کرنے والے نانبائیوں کی شکایتوں کے بارے میں رپورٹ وغیرہ، لندن 1862، اور دوسری رپورٹ، لندن، 1863۔

46؂۔ ایضاً،رپورٹ وغیرہ ، ص.vi۔

47؂۔l. c., p. lxxi.

48؂۔جارج ریڈ کی کتاب:The Histry of Bakingلندن ، 1848، ص. 16۔

49؂۔پوری قیمت پر بیچنے والے پنیر کے نانبائیوں کی بابت( پہلی)روپورٹ وغیرہ، ص 108۔

50؂۔جارج ریڈ _ایضاً_سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کے آغاز پرجو عناصر( ایجنٹ )ہر ممکن کاروبار میں پھیل چکے تھے ان کو ابھی تک عوام کے لئے ضرر رساں قرار دیا جا رہا تھا ۔پس سمر سٹ کی ریاست میں امن و امان کی بابت قائم کی گئی عدالت میں گرینڈ جیوری نے لوورز ہاؤس کو مخاظب کرتے ہوئے یادداشت میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بلیک وِل حال کے یہ عناصرعوام کے لئے زحمت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ملبوسات کی تجارت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں چنانچہ ان کو عوامی زحمت کی وجہ سے ختم کر دینا چاہیے۔The Case of our English Wool., &c., لندن 1685، صـ.6،7۔

51؂۔پہلی رپورٹ وغیرہ۔

52؂۔آئر لینڈ میں 1861کی بابت کمیٹی کی رپورٹ۔

53؂۔ایضاً۔

54؂۔ 5جنوری ، 1866کو ایڈنبرا کے نزدیک لاسواڈے کے مقام پر زراعتی کسانوں کا ایک جلسۂ عام منعقد ہوا تھا۔(دیکھئے Workmans Advocate, January, 13, 1866.)سال 1865کے اختتام کے بعد سے سکاٹ لینڈ کے زراعتی مزدوروں میں ایک ٹریڈ یونین کا قیام یقینا ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔انگلستان کے مقہور ترین اضلاع میں سے ایک ضلع Buchinghamshireمیں مارچ 1867میں مزدوروں نے اپنی ہفتہ وار اُجرت میں 9-10سے 12شلنگ اضافے کے لئے ایک زبر دست ہڑتال کی۔( پچھلے پیراگراف سے اس بات کا پتا چلے گا کہ انگلستانی زراعتی پرولتاریوں کی تحریک جو پہلے 1830میں زبر دست مظاہروں میں کچلی جا چکی ہے ، اور بالخصوص نئے آمدہ قانونِ غربت کی ابتدا سے ، ساٹھ کی دہائی میں ایک بار پھر سر اٹھانا شروع ہو چکی ہے یہاں تک کہ 1872میں یہ آخر کار ایک نیا عہد رقم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔)

(Addendum to the 3rd ed.)

55؂۔رینولڈ کا اخبار، جنوری 1866۔ہر ہفتے اخبارِ ہٰذا خوف ناک اور جان لیوا اور دہشت ناک المیے کی سنسنی خیز شہ سُرخیوں کے تحت ریلوے کے تازی ترین حادثات کی فہرست شائع کرتاہے۔ ان کے بارے میں شمالی سٹے فورڈ شائر کا ایک ریلوے لائن ملازم کہتا ہے: اس بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر کوئی لوکوموٹیوانجن چلانے والا اور انجن میں کام کرنے والامسلسل اپنے کام پر توجہ نہ کریں تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس بات کی کسی ایسے آدمی سے پھر کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ جو اس کام پر مسلسل 29یا 30گھنٹے سے مستعد ہو اور جو موسم کامارا ہوا، اور بے آرام بھی ہو۔ ذیل کی مثال میں اس قسم کے حالات کا نتیجہ دیکھا جا سکتا ہے: _ایک فائر مین نے سوموار کو صبح سویرے اپنے کام کا آغاز کیا۔ جب اس نے اُتنا کام ختم کر لیا جس کو دیہاڑی کے برابر کہا جا سکتا ہے تو وہ مسلسل 14گھنٹے اور 50منٹ سے ڈیوٹی پر تھا ۔ اس سے پہلے کہ اسے چائے پینے کا وقت مل جاتا اس کو ایک بار پھر کام پر جوت لیا گیا......۔اس سے اگلے دن جب اس نے کام ختم کیا تو وہ مسلسل 14گھنٹے اور 25منٹ تک اپنے کام پر رہاجس سے کُل ڈیوٹی 29گھنٹے اور 15منٹ بنتی ہے اور اس میں کوئی وقفہ بھی شامل نہیں ۔ ہفتے کے باقی دنوں کو ذیل کے انداز میں مرتب کیا گیا: بُدھ کو 15گھنٹے، جمعرات کو 15گھنٹے اور 35منٹ، جمعہ کو -03 گھنٹے اور ہفتہ کے دن 14گھنٹے اور 10منٹ، اس طرح سے ہفتے کا کُل کام 88گھنٹے اور 40منٹ بن جاتا ہے۔ اب جناب آپ اس کی حیرانی کا اندازہ فرمائیں جس کو صرف -03دن کی اُجرت ملتی ہے۔اس نے یہ سوچا کہ شاید سہواً ایساہوا ہے، اس نے وقت منظم کرنے والے کو درخواست دی......اور یہ بات دریافت کی کہ ان کے نزدیک آخر دیہاڑی کہتے کسے ہیں، اس کو یہ بتا یا گیا کہ ایک سازوسامان سے متعلقہ آدمی کی دیہاڑی 13گھنٹے پر مشتمل ہے(مطلب یہ کہ 78گھنٹے)پھر اس نے پوچھا کہ اس کو 78گھنٹوں سے زیادہ وقت تک کیوں کام کرایا گیا ہے ، لیکن اس کو خاموش کر دیا گیا۔ تاہم اس کو آخر کار اتنا ضرور بتا دیا گیا کہ اس کو ایک اور کوارٹر دیا جا رہا ہے؛ مطلب یہ کہ 10پینی،۔

l. c., 4th February, 1866.

56؂۔Cf. F. Engles, l. c., pp. 253, 254.

57؂۔بورڈ آف ہیلتھ کا ماہر معالج ڈاکٹر لیتھی بے کہتا ہے: ایک سونے کے کمرے میں ہر بالغ کے لئے ہوا کی کم از مقدار 300مکعب فٹ اور کام کرنے والے کمرے میں یہ کم از کم مقدار 500مکعب فٹ ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر رچرڈسن جو لندن کے ایک ہسپتال کے ایک ماہر معالج ہیں کہتے ہیں: بنائی سلائی سے متعلق ہر قسم کی عورتیں جن میں مِل میں کام کرنے والی، ملبوس ساز، یا پھر عام سلائی کرنے والی بھی شامل ہیں ان کو تین قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے:ایک کثرتِ کار، دوسرے نخالص ہوا، تیسرے ان کا نخالص کھانا یا پھر بگڑا ہوا معدہ...۔سوئی کا کام بنیادی طور پر مردوں کی نسبت عورتیں زیادہ ہنر وری سے اختیار کر سکتی ہیں۔ لیکن اس پیشے کی بد بختی _بالخصوص لندن میں_یہ ہے کہ ان پر کوئی 26سرمایہ داروں کی اجاری داری ہے، جو سرمائے کے پیدا کئے گئے موقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمائے کے ذریعے محن کی کفایت شعاری کرتے ہیں۔ سرمائے کی یہ طاقت پورے طبقے پر اثر انداز ہوتی ہے۔اگر ایک لباس تیار کرنے والے کو گاہکوں کا تھوڑا بہت سلسلہ حاصل ہو جاتا ہے تو مقابلے کی فضا ایسی ہے کہ اس کو اپنے گھر کے معمولات چلانے کے لئے مو ت تک کام کرنا ہو گااور کثرتِ کار کا یہی بھوت اس پر بھی نازل ہو جائے گا جو اس کی نگرانی میں کام کرے گا۔اگر وہ ناکام ہو جائے یا انفرادی طور پر کوشش نہ کرے تو اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ کسی ادارے میں ملازم ہو جائے، اس ادارے میں اُسے کام تو کچھ زیادہ کرنا پڑے گا لیکن اس کی رقم البتہ محفوظ ہی رہے گی۔اس طرح سے وہ محض غلام بن کر رہ جاتی ہے جسے معاشرے کی ہر ہر تبدیلی ادھر سے اُدھر لڑھکا دیتی ہے۔ اگر اب وہ گھر میں ہے تو ایک کمرے میں فاقوں مر رہی ہے یا فاقوں کے قریب ہے، اگر ملازم ہے تب وہ 15یا 16، بلکہ 24میں سے 18گھنٹوں




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے