حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215886
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

ا کہ وہ رہتا کہاں ہے۔مسیح ایک مکار آدمی تھا۔ یہ لڑکی Godکو dogبولتی تھی اور اسے شہزادی کے نام کا علم نہیں۔(Ch. Employment Comm. V. Report, 1866,p. 55, n. 278.)یہی نظام ہمیں شیشہ سازی اور کاغذ سازی میں نظر آتا ہے جیسا کہ ہم ماقبل دھاتی کام میں دیکھ چکے ہیں۔ کاغذ ساز کارخانوں میں جہاں پر کاغذ مشینری کے ذریعے بنایا جاتا ہے وہاں پر بخیے الگ کرنے کے علاوہ تمام کے تمام شعبوں میں رات ہی کو کام ہوتا ہے۔ بعض وقت ایسا بھی دیکھنے کو آیا ہے کہ ادلی بدلی کے نظام کے تحت رات ہی کو سارا ہفتہ ، عام طور پر اتوار کی رات سے لے کر اس کے بعد آنے والے ہفتے کی آدھی رات تک کام ہوا کرتا تھا۔ وہ مزدور جو دن کے وقت کام پر ہوتے ہیں ایک ہفتے میں پانچ دن 12گھنٹے روزانہ ، اور ایک دن 18گھنٹے کام کرتے ہیں۔ اور جو مزدور رات کے وقت ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ،ہفتے میں پانچ دن روزانہ12گھنٹے اور ہر ہفتے ایک سے لے کر 6گھنٹے تک، اس کے بعد ہفتہ کے روز 18گھنٹے تاکہ 24گھنٹے پورے کئے جا سکیں۔ کچھ معاملات میں ملتا جلتا نظام بھی رائج ہے ۔ اس نظام کے تحت کاغذ سازی کی مشینر ی پر کام کرنے والے تمام لوگ روزانہ 15سے 16گھنٹے کام کرتے ہیں۔ کمشنر لارڈ کہتا ہے کہ یہ نظام 12گھنٹے اور 24گھنٹے ادلی بدلی میں کام کرنے والے کارخانوں کی تمام برائیاں اپنے اندر سمائے ہوئے لگتاہے۔ 13سال سے کم کے بچے، 18سال سے کم عمر نوجوان ، اور عورتیں اسی رات کے نظام کے تحت کام کرتے ہیں ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 12گھنٹے کے نظام کے تحت وہ اس بات پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جب وہ لوگ نہیں آتے جن کی وجہ سے ان کو چھٹی ملنی ہوتی ہے تو ان کو اس سے دگنا زیادہ یعنی 24گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ شہادتیں یہ بات ثابت کر دیتی ہیں کہ لڑکے اور لڑکیاں اکثر اوقات کثرتِ کار میں الجھے رہتے ہیں ، اور یہ [کثرتِ کار] بغیر رکے 24سے 36گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔شیشہ چمکانے کے کام میں جو مسلسل جاری رہتا ہے یہ دیکھا گیا کہ 12سال کی لڑکیاں پورا مہینہ 14گھنٹے روزانہ کام کرتی رہی ہے، اور اس میں دو یا پھر زیادہ سے زیادہ تین چھوٹے چھوٹے کھانے کے لئے مختص وقفوں کے علاوہ کچھ آرام نہیں ملتا ۔ کچھ مِلوں میں جہاں رات کا باقاعدہ محن ترک کر دیا گیا ہے ، کثرتِ کار تمام حدیں توڑ جاتا ہے، اور ایسا عموماً وہاں ہوتا ہے جہاں پر کام غلیظ اور گرم ترین جگہ پربڑا تھکا دینے والااوریک رُخاہوتا ہے۔( Ch. Employment Comm. Report. IV., p. xxxvii, and, xxxix.)

67؂۔چوتھی رپورٹ وغیرہ، 1865، 79، ص. xvi۔

68؂۔ایضاً ، 80، ص۔ xvi.۔

69؂۔ایضاً ،81، ص، xvii۔

70؂۔ہمارے دور میں جب سوچ بچار اور غور و فکر کو اہمیت حاصل ہے وہ آدمی کسی قابل نہیں جو ہر کام کی وجہ نہ بتا سکے، تا ہم اُس کے دلائل جتنے بھی احمقانہ اور بے معنی ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس دنیا میں جو کام بھی غلط طور پر کیا جاتا ہے ، اس کا غلط پیرائے میں کیا جانا منطق ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔( Hegel, l. c., p. 249. )

71؂۔ l. c., p. cviiشیشہ سازوں کی لطیف باریک بینیاں کہ بچوں کے لئے کھانے کے لئے باقاعدہ وقفے ممکن نہیں کیونکہ ان بھٹیوں سے نکلنے والی حرارت کی اچھی خاصی مقدار کی وجہ سے کارخانے کو حقیقی نقصان یا خسارےکا شدید خطرہ ہو سکتا ہے_کاکمشنر وہائٹ نے جواب دیا۔اس کا جواب یوری سینئر وغیرہ ، اور نہ Ala Roscherجیسے ان گھٹیا سرقہ باز کے انداز میں تھا جو کہ سرمایہ داروں کی سونے کے استعمال کی بابت جز رسی، کم خرچی اور کفائت شعاری سے ،اور ان کے انسانی جان کے ساتھ تیمورلنگ جیسے سلوک سے دلی طور پر متاثر نظر آتا ہے ! حرارت کی وہ خاص مقدار جو اس وقت معمول سے زیادہ ہے ، ہو سکتا ہے اس وقت بھی ضائع ہو رہی ہو۔ اگر ان صورتوں میں کھانے کے وقفے کر لئے جاتے ؛ لیکن یہ قوتِ انسانی کے اُس ضیاع سے قیمتاً برابر نہیں ہو سکتا جو آج کل پوری سلطنت میں بڑھتے ہوئے ان بچوں کے ساتھ ہو رہا ہے جن کے پاس اتنا وقت نہیں کہ سکون سے کھانا کھا سکیں اور اس کے بعد معدہ ٹھیک رکھنے کے لئے چند ثانیے آرام کر لیں ۔(l. c., p. xlv. )اور یہ ترقی کے سال 1865میں ہو رہا ہے! جو قوت اٹھانے اور لے جانے پر خرچ ہوتی ہے اگر اس کو نہ گنا جائے ، تو ایسا بچہ جو کسی ایسے شعبے میں کام کرتا ہو جہاں پر شیشے کی بوتلیں اور چقماق بنتے ہوں اس کو کام کرتے ہوئے 6گھنٹے کے دوران 15-20میل چلنا پڑتا ہے! اور عام طور پر کام 14یا 15گھنٹے تک جاری رہا ہے! شیشہ سازی کی بہت ساری فیکٹریوں میں، جیسا کہ ماسکو کی کتائی والی مِلوں میں چھ چھ گھنٹوں کی ادلی بدلی کا کام رائج ہے۔ ہفتے میں کام کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ چھ گھنٹے تک جاتا ہے کہ اس کے بعد آرام کا وقفہ ہو ، اور اسی میں کام پر آنے اور واپس جانے کا وقت، علاوہ ازیں نہانا دھونا ،کپڑے بدلنا، روٹی کھانا، جس میں آرام کے لئے تو بہت کم وقت ہی رہ جاتا ہے جبکہ تازہ ہوا اور کھیل کے لئے کوئی وقت بھی نہیں بچتا، اگر نیند سے کچھ وقت کم نہ کیا جائے ، جو چھوٹے بچوں کے لئے انتہائی ضروری ہوتی ہے خاص طور پر اس قسم کے سخت اور تھکا دینے والے کام میں .....۔حتیٰ کہ یہ مختصر نیند بھی بعض صورتوں میں ٹوٹ جاتی ہے ، کبھی رات کو اس وجہ سے کہ بچوں کو اٹھناپڑ جاتا ہے اور کبھی دن کو کام کے شور سے۔ مسٹر وہائٹ مثال دیتا ہے جس میں ایک لڑکا مسلسل 36گھنٹے کام کرتا رہتا ہے، اور دوسری مثال میں 12سال کی عمر کے بچوں کورات2بجے تک کام پر لگائے رکھاجاتاہے۔وہ پانچ بجے تک سوتے ہیں ۔( فقط دو گھنٹے!)Tremenheereاور Tufnellجو جنرل رپورٹ کے ڈرافٹ بناتے تھے، کہتے ہیں : کام کی وہ مقدار جو لڑکے، کم سن بچے، لڑکیاں، اور عورتیں اپنے دن یا رات کے دورانیے میں کرتے ہیں یقینا کافی سے زیادہ ہوتی ہے۔(l. c., xiiii. and xliv )اسی دوران میں غالباً رات گئے مسٹرشیشہ ساز سرمایہ دارنشے سے بد مست شراب خانے سے باہر نکل رہے ہوتے ہیں ، اور نشے میں اس قسم کا ہذیان بَک رہے ہوتے ہیں کہ اہلِ برطانیہ ، کبھی بھی غلام نہیں ہو سکتے!

72؂۔انگلستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی کہیں کہیں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ کسی مزدور کو اس بات پر قید کر دیا جاتا ہے کہ اس نے ہفتہ وار چھٹی کے مذہبی تقدس کو توڑتے ہوئے اپنے مکان کے سامنے والے باغ میں کام کیوں کیا ہے۔ اسی مزدور کو تب بھی سزا دی جاتی ہے جب اس نے معاہدے کو توڑتے ہوئے اتوار کے دن دھات، کاغذ، یا شیشے کے کارخانوں میں کام کرنے کیوں نہیں آیا ، اب چاہے وہ مذہبی تقدس کی بنیاد پر ہی کام کرنے سے رُکا ہو۔ اگرہفتے کے دن کام کرنے کا گناہ سرمائے کی اضافے کے سلسلے میں سرزد ہو جائے تو کٹر مذہبی پارلیمنٹ اس بارے میں کچھ نہیں سنے گی۔( اگست 1863کی )یادداشت جس میں لندن کے دیہاڑی دار مزدور وں نے مچھلی اور مرغیوں کے دکانوں میں جاری اتوار کے محن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ پہلے چھ دنوں میں ان کا کام روزانہ 15گھنٹے کی اوسط میں




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے