حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215887
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ7
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

صال ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ یہ استحصال ہمیشہ کسانوں ہی میں کسی حد تک محدور رہا، اور یہ اسی قدر بڑھتا چلا گیا جتنا کہ کاشتکار پر پڑنے والے بوجھ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔وہاں سرمائے کا رجحان کسی قسم کی غلطی کئے بغیر دیکھا جا سکتا ہے لیکن خود حقائق ابھی تک اتنے بکھرے ہوئے ہیں کہ جیسے دو سروں والے بچوں کی پیدائش ۔ پس ان کا بڑی مسرت کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، جیسے وہ قابلِ ذکر اور دور سے نظر ڈالنے سے اتنے عجیب دکھائی دیں جیسے ان کو اپنے وقت کے لئے اور آئندہ نسلوں کے لئے نمونے کے طورپر رکھا گیا ہو۔ سکاٹ لینڈ کے اسی باتونی اور چاپلوس میکالے نے کہا ہے کہ: ہم آج محض رجعت پرستی کا ذکر سنتے ہیں اور ترقی دیکھتے ہیں۔ کیسی یہ آنکھیں ہیں، اور بالخصوص کیسے یہ کان ہیں!

89؂۔مزدوروں کو گالی گلوچ کرنے والوں میں سب سے زیادہ وہ بے نام مصنف ہے جس کا متن میں ذکر کیا گیا ہے اور اس کی کتاب: An Essay on the Trade and Commerce, containing Observations on Taxes, &c.,London, 1770. ۔ وہ اس موضوع پر اپنی پہلی کتاب میں بھی لکھ چکا ہے جس کا نام Considerations on Taxes.ہے، یہ لندن سے 1765میں چھپی۔ اسی انداز میں Polonious Arthur Youngبھی کہتاہے، جو اعداد و شمارلے کر بے معنی انٹ شنٹ بکتا ہے۔مزدور طبقے میں سب سے زیادہ اہم نام جیکب وینڈر لائن کا ہے؛ اور اس کی کتاب Money Answers all Things. ہے، یہ کتاب 1734کو لندن سے شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ ریو . نیتھانیل فارسٹر . ڈی. ڈی صاحب ہیں جو An Enquiry into the Causes of the Present High Price of Provisions, London, 1767 اس کے علاوہ ڈاکٹر پرائس اور بالخصوص Postlethwayt جس طرح اس نے اپنی کتاب Universal Dictionary of Trade and Commerce میں لکھا ہے بالکل اسی طرح کتاب: Great Britains Commercial Interest explained and improved.کی دوسری طباعت میں ذکر ملتا ہے ، دوسری بار یہ کتاب 1755کو شائع ہوئی۔حقائق کی اس وقت کے کئی دوسرے مصنفین نے بھی تصدیق کی ہے ؛ اور ان مصنفین میں Josiah Tuckerبھی شامل ہیں۔

90؂۔Postlethwayt, l. c., First Prminary Discourse, p. 14.

91؂۔ایک مضمون وغیرہ ۔ وہ خود صفحہ 96پر اس بات کا ذکر کرتاہے کہ انگریز زراعتی کسان کی خوشیما قبل یعنی 1770میں جس بات پر موقوف تھی کہ ان کی قوتوں کو پہلے ہی مکمل طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، وہ جتنی گھٹیا زندگی اب گزار رہے ہیں اس سے مزید بہتر کرنے کی اب ان میں سکت نہیں، اور نہ ہی وہ اب اس سے زیادہ سخت کام کر سکتے ہیں۔

92؂۔پروٹیسٹین ازم نے چھٹی کے تمام دنوں کو دیہاڑیوں میں بدل کر سرمائے کی تشکیل میں بڑاا ہم کام سر انجام دیا ہے۔

93؂۔ ایک مضمونوغیرہ، ص. 15،41،96،97،55،57،69۔ جیکب وینڈر لِنٹ نے اتنا عرصہ قبل ہی یہ بات کہی تھی جتنا 1734کا سال کہ سرمایہ دار سُستی کاہلی کا جو نعرہ مزدور طبقے کے خلاف لگاتے تھے اس کے پیچھے راز صرف یہ تھا کہ وہ4دن کی مزدوری کا جو معاوضہ لیتے ہیں اسی کو6دن کے معاوضے کے بطور قبول کریں۔

94؂۔ایضاً ، ص. 242۔

95؂۔ایضاً ، وہ کہتا ہے فرانسیسی ہمارے حُریت کے پُر جوش تصورات پر ہنستے ہیں۔ایضاً ، ص. 78۔

96؂۔ انہوں نے بالخصوص اس محن پر اعتراض کیاجو ایک دن میں 12گھنٹے سے زیادہ ہوتا تھا؛ کیونکہ جس قانون نے یہ اوقات مقرر کئے تھے ، جمہوریہ کی قانون سازی کی واحد اچھائی ہے جو ان تک پہنچی ہے۔(Rep. of Insp. of Fact., 31st October, 1856, p. 80. )5۔ستمبر 1850کا بارہ گھنٹے کی بابت فرانسیسی بِل جو کہ صوبائی حکومت کے 2 مارچ 1848کے حکم نامے کا بورژوا ایڈیشن ہے،تما م کار گاہوں پر بلا مستثنیات لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون سے قبل فرانس میں دیہاڑی کا کوئی تعین نہیں تھا ۔ فیکٹریوں میں یہ 14اور 15گھنٹوں سے بھی زیادہ دیر تک چلتی رہتی تھی۔ دیکھئے کتاب: Des classes ouvrieres en France, pendant lannee 1848. Par M. Blanqui.۔ معیشت دان مسٹر بلانکی نہ کہ انقلابی، کو حکومت کی طرف سے مزدور طبقے کی صورتِ حال کی تفتیش کرنے کے لئے تعینات کیا گیا۔

97؂۔ دیہاڑی کے تعین کے سلسلے میں بلجیم ایک مثالی بورژوازی ریاست ہے۔ ویلڈن کا لارڈ ہاورڈجو کہ برسلز میں سفارتی فرائض سر انجام دیتا تھا اپنے دفترِ خارجہ کو بتاتا ہے:جنابِ وزارت پناہ مسٹر روژئر مجھے نے آگاہ کیا ہے کہ بچوں کا محن کسی عمومی ضابطے سے اور نہ کسی مقامی حد بندی ہی سے محدود کیا گیا ؛ یہ کہ گزشتہ تین سال سے حکومت نے ہر دور میں اس مسئلے پر کوئی بِل منظور کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر اسے ہمیشہ ایک نا قابلِ عبور رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنا نے سے قاصر رہی ہے جو مزدور کی مکمل آزادی سے متضاد ہو۔

98؂۔ یقینا یہ زیادہ قابلِ افسوس بات ہے کہ افراد کا کوئی بھی گروہ ایک دن میں 12گھنٹے تک کام کرے، اور اگر اس میں ان کے کھانے پینے، گھر جانے اور گھر سے واپسی وغیرہ کے اوقات کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ 24گھنٹوں میں سے 14گھنٹے بن جائیں گے...۔ میر ا خیال ہے کہ صحت کے بارے میں فکر مند ہوئے بغیر کوئی شخص بھی یہ بات تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا کہ اخلاقی نقطۂ نظر میں مزدور طبقے کے وقت کی اس طرح کی تجذیب ، جس میں کوئی وقفہ نہ ہو ، اور جس میں عمر کے بھی ابتدائی سال ہوں ؛ اور تجارت میں اس سے بھی چھوٹی عمر پر کوئی پابندی نہ ہو تو یہ ایک ایسی برائی بن جاتی ہے جس کی سخت مذمت کرنی چاہیے.....۔ چنانچہ عوامی اخلاقیات کی خاطر اور ایک منظم آبادی کو پروان چڑھانے کی خاطر ، علاوہ ازیں آبادی کے ایک بڑے حصے کو زندگی کی ایک معقول تفریح فراہم کرنے کے لئے اس چیز کی بے انتہا ضرورت ہے کہ تمام قسم کی کاروباری سرگرمیوں میں دیہاڑی کا کچھ حصہ آرام و سکون کے لئے مختص ہونا چاہیے۔

(Leonard Horner in Reports of Insp. of Fact. for 31st Dec., 1841.)

99 ؂۔ دیکھئے Judgment of Mr. J. H. Otway, Belfast. Hilary Sessions, County Antrim, 1860.

100؂۔بورژوازی شہنشاہ Louis Philippeکے اندازِ حکومت کی یہ سب سے بڑی صفت ہے کہ اس کے دورِ حکومت میں ایک فیکٹری ایکٹ منظور ہوا؛ یہ آئین 22مارچ 1841کا تھا جس پر کبھی بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اور یہ قانون صرف بچوں کے محنہی کے بارے میں تھا۔ اس میں 8سے 10سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے آٹھ گھنٹے کا محن مقرر تھا، اور 12سے 16سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے 12گھنٹے کا محن ، وغیرہ وغیرہ؛ اور اس میں ایسی مستثنیات بھی تھیں جن کی رو سے آٹھ سال کے بچے کو بھی رات کو کام پر لگانے کی اجازت تھی۔ اس قانون کی نگرانی اور نفاذ ایک ایسے مُلک کے سپرد تھی جہاں ایک چوہا بھی پولیس کے زیرِ دست ہوتاہے، اور اس قانون کو تجارتی قائدین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ صرف 1853سے اور وہ بھی محض ایک تنہا شعبے میں _ the department of du Nord _ایک تنخواہ دار ملازم تعینات کیا گیا ۔فرانسیسی سماج کی ترقی کی ایک خاصیت یہ واقعہ بھی ہے کہ لوئی فلپ کا یہ قانون فرانس کے اور دیگر تمام ہمہ گیر قوانین میں ایک جداگانہ حیثیت کا حامل رہا اور یہ صورتِ حال 1848کے انقل




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ7
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے