حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215891
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ8
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

اب تک برقرار رہی۔

101؂۔ فیکٹری کے معائنہ کار کی ایک رپورٹ 30اپریل ،1860، ص. 50۔

102؂۔ فیکٹری کے معائنہ کار کی ایک رپورٹ31اکتوبر، 1849، ص. 6۔

103؂۔ فیکٹری کے معائنہ کار کی ایک رپورٹ31اکتوبر، 1848، ص 98۔

104؂۔لیونارڈ ہارنر اپنی سرکاری رپورٹ میں قابلِ ملامت سرگرمیوں کی اصطلاح استعمال کی ہے۔(فیکٹری کے معائنہ کاروں کی رپورٹ،31اکتوبر، 1859، ص. 7۔)

105؂۔ رپورٹوغیرہ ، 30ستمبر.، 1844، ص. 15۔

106؂۔قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بچوں کو اس صورت میں ایک دن میں 10گھنٹے کام کروایا جا سکتا ہے اگر وہ روزانہ کام نہ کریں بلکہ صرف وقفے وقفے سے کر رہے ہوں۔ لیکن مجموعی طور پر اس جملے پر کسی قسم کا عمل درآمد نہ ہو سکا۔

107؂۔اگر ان کے اوقاتِ کار کے گھنٹوں میں کمی کر دی جائے تو(بچوں کو )زیادہ تعداد میں نوکری دینا پڑے گے، چنانچہ یہ سوچا گیا کہ 8اور 9سال کی عمر کے بچوں کی اضافی رسد اُس بڑھی ہوئی طلب کو برابر کر دے گی۔(l. c., p. 13.)

108؂۔ فیکٹری کے معائنہ کار کی رپورٹ،31اکتوبر ،1848، ص. 16۔

109؂۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص جو 10شلنگ ہفتہ وار کے حساب سے اُجرت لے رہا ہے ، اس سے 10%کے حساب سے 1شلنگ کی کٹوتی کر لی جاتی ہے؛ اور باقی ماندہ 9شلنگ سے 1شلنگ اور 6ڈالر کی کٹوتی وقت کی بابت کی جاتی ہے جو مل کر 2شلنگ 6ڈالر بن جاتے ہیں۔ معاملہ یہاں تک ہی نہیں رہ جاتا ان میں سے بہت ساروں نے یہ کہا کہ اس کے بجائے وہ 10گھنٹے کام کر لیں گے۔ ایضاً۔

110؂۔ گرچہ میں نے اس [پیٹیشن] پر دستخط کر دئے ؛ لیکن میں یہ سمجھ رہا تھا کہ میرا ہاتھ غلط جگہ پر جا رہا ہے، پھر تم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا کیوں؟ ، کیونکہ اگر میں ایسا کرنے سے انکار کر دیتا تو مجھے ملازمت سے بر طرف کر دیا جاتا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مزدور اپنے آپ کو مظلوم تو ظاہر کر تا ہے مگر قانون برائے کارخانہکا مظلوم نہیں ہے۔بحوالہ سابقہ صفحہ102۔

111؂۔ ایضاً ، ص 17۔ مسٹر ہارنر کے ضلعے میں 10,270جوان مزدوروں سے پوچھ گچھ کی گئی جو 181فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کی یہ گواہیاں اکتوبر 1848کو ختم ہونے والے آدھے سال کی بابت فیکٹری رپورٹوں کے ضمیمے میں موجود ہیں۔ یہ مشاہدات دوسرے معاملوں میں بھی اہم مواد فراہم کرتے ہیں۔

112؂۔ ایضاً۔ دیکھئے وہ گواہیاں جولیونارڈہارنرنے خود جمع کیں _ان گواہیوں کے ضمائم نمبر 69،70، 71،72،92،93؛ اور دوسری جو اس کے ماتحت Aنے اکٹھی کیں_ ان گواہیوں کے ضمائم نمبر :51،52،58،59،62، 70 ۔ ایضاً۔

113؂۔ 31اکتوبر 1848کی بابت رپورٹیں، ص. 133،134۔

114؂۔ 30اپریل ،1848کی بابت رپورٹیں ، ص. 47۔

115؂۔اکتوبر 1848کی بابت رپورٹیں، ص. 130۔

116؂۔رپورٹیں وغیرہ ، ایضاً .، ص. 142۔

117؂۔ 31اکتوبر کی بابت رپورٹیں وغیرہ .، ص. 5،6۔

118؂۔سرمائے کی نوعیت اس کی افزودہ بُنتر میں بھی وہی رہتی ہے جو غیر افزودہ بُنتر میں ہو۔ وہ قوانین جنہیں غلاموں کے مالکان کے اثر کی وجہ سے امریکی خانہ جنگی سے کچھ ہی عرصہ قبل نئے میکسیکو کے علاقوں میں تھوپا گیا تھا ، ان کے بارے یہ قانون کہتا ہیں کہ مزدورکی قوت محن _ جیسا کہ سرمایہ دار نے اس کی قوتِ محن کو خریدلیا ہے_ اس( سرمایہ دار )کا زر بن جاتا ہے۔ اس قسم کے نظریات روم کے طبقۂ امراء میں مقبول تھے۔ وہ زر جو انہوں نے عام افراد کو قرض کی مد میں دیا ہوا تھا اس کو ذرائع بقا [خوردونوش] کے ذریعے قرض لینے والے کے خون اور گوشت میں بدل گیا، چنانچہ یہی خون اور گوشت ان کا زر ہوتا تھا۔اسی سے شائیلوک Shylock کا the law of Ten Tables.کا قانون جو دس قصص میں شامل ہے۔ لِنگ وِٹ کا مفروضہ کہ قرض دینے والے امراء وقت کے ساتھ ساتھ مقروضوں کے خون اور گوشت کی ضیافتیں اڑاتے رہے، یہ بات اسی طرح غیر طے شدہ رہے گی جیسے عیسائی عشائے ربانی کے متعلق ڈامر کا مفروضہ غیر طے شدہ ہے۔

119؂۔ 30اپریل ،1848کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 28۔

120؂۔ پس دوسری باتوں کے علاوہ خدائی فوج دار آشورتھ اپنے ایک قابلِ نفرین خط میں لیونارڈ ہارنر کو یہ بات بھی کہتا ہے۔(اپریل ،1849کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 4۔)

121؂۔31اکتوبر 1850کی بابت رپورٹیں وغیرہ ایضاً .، ص. 140۔

122؂۔اپریل ،1849کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص.22،23۔ایسی ہی مثالوں کے لئے ملاحظہ ہو ،ص. 4،5۔

123؂۔By 1, and II Will. IV., ch. 24, s. 10جسے سر جان ہاب ہاؤس کے قانون برائے کارخانہ کے بطور جانا جاتا ہے، ہر روئی کاتنے والی یا بُننے والی مِل کے مالکان یا ان کے کسی باپ بیٹے یا بھائی وغیرہ کے لئے یہ بات ممنوعہ تھی کہ وہ جسٹس آف دی پیس کے طور پر کسی ایسی تحقیقات میں کام کریں جن کا تعلق قانونِ کارخانہ سے ہو۔

124؂۔ ایضاً

125؂۔ 30اپریل ،1849کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص.5۔

126؂۔ 31اپریل ،1849کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص.6۔

127؂۔ 30اپریل ،1849کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص.21۔

128؂۔31اکتوبر 1848کی بابت رپورٹیں وغیرہ ایضاً .، ص.95۔

129؂۔دیکھئے 30اپریل 1849کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 6۔ اور فیکٹری کے معائنہ کاروں ہاؤل اور سانڈرز کی ادلی بدلی کے بارے میں تفصیلی تشریحات ملاحظہ ہوں جو 31اکتوبر 1848کی بابت رپورٹوں کی مد میں آئی ہے۔وہ مقدمہ بھی ملاحظہ ہو جو ملکہ کے سامنے برین ایسٹن اور مضافات کے پادریوں نے 1849کے موسمِ بہار میں شفٹ کے نظام کے خلاف دائر کیا تھا۔

130؂۔مثال کے طور پر ملاحظہ ہو آر. ایچ . گریگ کی کتاب

The Factory Question and the Ten .Hours Bill. 1837۔

131؂۔فریڈرک اینگلز :کی کتاب The English Ten Hours Bill.( ملاحظہ ہوNeue Rheinische Zeitung, Politische-oekonomische Revue.مُرتبہ ،کارل مارکس، اپریل نومبر ، 1850، ص. 13۔)انصاف کی اسی عدالتِ عظمیٰ نے امریکی خانہ جنگی کے دوران ایک لفظی ابہام دریافت کیا جس کے نتیجے میں اس قانون کے معنی بالکل ہی بدل گئے جو بحری قزاقی کرنے والے جہازوں کے مسلح ہونے کے خلاف بنایا گیا تھا۔

132؂۔30اپریل 1850کی بابت رپورٹ وغیرہ۔

133؂۔سردیوں میں صبح 7بجے سے شام 7بجے تک بدلی کی جا سکتی ہے۔

134؂۔( 1850کا )حالیہ قانون ایک طرح کی مفاہمت تھی جس کے تحت ملازمین نے دس گھنٹے کے بل کے فوائد کو چھوڑدیا تاکہ ان لوگوں کے لئے جن کا محن محدود تھا ،کام کے آغاز اور اختتام کا ایک متعین وقت حاصل ہو۔ (30اپریل 1852کی بابت رپورٹیں وغیرہ .، ص 14۔)

135؂۔ ستمبر 1844کی بابت رپورٹیں وغیرہ .، ص. 13۔

136؂۔ایضاً

137؂۔ایضاً

138؂۔ 31اکتوبر، 1846کی با ت رپورٹیں وغیرہ .، ص.20۔

139؂۔31اکتوبر، 1861کی با ت رپورٹیں وغیرہ .، ص.26۔

140؂۔ایضاً، ص 27۔مجموعی بطور پر مزدور پیشہ افراد جن پر قانون برائے کارخانہ کا اطلاق ہوتا ہے جسمانی طور پر کافی بہتر ہو گئے ہیں۔ تمام طبی معائنے اس بات پر متفق ہیں؛ اور م




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ8
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے