حوالہ جات و حواشی۔10 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 827
عنوان حوالہ جات و حواشی۔10
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 215884
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی۔10 کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی۔10 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی۔10


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ9
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذشتہ صفحہ

تلف اوقات میں حاصل کئے جانے والے ذاتی اعدادوشمار بھی اس سلسلے میں مجھے قائل کرتے ہیں ۔اس کے باوجود ، اپنی زندگی کے پہلے سال میں بچوں کی خوف ناک حد تک بڑھتی ہوئی شرحِ اموات اور ڈاکٹر گرین ہاؤ کے دفتری اعدادوشمار سے یہ پتا چلتا ہے کہ صنعت کار اضلاع میں معمول کی صحت رکھنے والے زراعتی اضلاع کی نسبت صحت کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر ہم [ڈاکٹر] موصوف کی 1861کی رپورٹ دیکھتے ہیں:



عورتوں کے پیشوں کی اقسام

-01e-00-00-00کارخانوں میں کام کرنے والی بالغ عورتوں کی شرح فیصد

-01r-00-00-00پھیپھڑوں کے امراض کی وجہ سے 100,000عورتوں میں اموات کا تناسب

-01-15-00-00-00ضلع کا نام

-01q-00-00-00 پھیپھڑوں کے امراض کی وجہ سے 100,000مردوں میں اموات کا تناسب

-01c-00-00-00کارخانوں میں کام کرنے والے بالغ مردوں کی شرح فیصد

-01 -00-00-00کپاس

=

ورسٹڈ

=

ریشم

=

ظروف سازی

=

-01-06-00-00-0018. 0

34. 9

20. 4

30. 0

26. 0

17. 2

19. 3

13. 9

-01-04-00-00-00644

734

564

603

804

705

665

727

340

-01-14-00-00-00Wigan(ویگان)

بلیک برن

ہیلی فیکس

بریڈ فورڈ

میک لیس فیلڈ

لِیک

سٹون اوپن ٹرینٹ

وول سٹینٹن

آٹھ صحت مندزرعی اضلاع

-01-04-00-00-00598

708

547

611

691

588

721

726

305

-01-06-00-00-0014.90

42.60

37.30

41.90

31.00

14.90

36.60

30.40

-01-01-00-00-00

141؂۔ یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ انگلستانی آزاد تجارت نے کتنی مشکل سے ریشم کی مصنوعات پر پیداواری ڈیوٹی ختم کرنے میں رضامندی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی درآمدات کے خلاف تحفظ کے بجائے اب انگلستان کے کارخانوں میں بچوں کے تحفظ کا فقدان اس کمی کو پورا کر رہا ہے۔

142؂۔1859اور 1860کے دوران جو انگلستانی صنعت کے عروج کے سال ہیں، کچھ کارخانہ داروں نے اوور ٹائم کے لئے زیادہ اُجرتوں کا جھانسہ دے کر کوشش کی کہ بالغ مزدور دیہاڑی میں اضافے پر رضامندی کا اظہار کر دیں۔ ہتھ کھڈی پر کتائی کرنے والوں اور خود کار کھڈیاں چلانے والوں نے اپنے مالکان کو ایک درخواست دے کر اس تجربے کوختم کر دیا جس میں انہوں نے کہا: سچ تو یہ ہے کہ ہماری زندگی ہمارے لئے بوجھ بن چکی ہے، اور جب ہم ملک کے دوسرے مزدوروں کی نسبت مِلوں میں قریب قریب دو دن زیادہ کام کرتے ہیں ، تو ہمیں یوں محسوس ہو تا ہے جیسے ہم زرعی غلام ہیں اور ہم ایسے نظام کا حصہ بن رہے ہیں جو خود ہمارے لئے اور آنے والی نسلو ں کے لئے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے...۔اس کا مقصد صرف آپ کو مؤدبانہ اطلاع دینا ہے کہ جب ہم کرسمس اور سالِ نو کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کام شروع کریں گے تو ہم 60گھنٹے فی ہفتہ کام کریں گے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ؛ یا چھ بجے سے چھ بجے تک جس میں ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ بھی ہو۔(30اپریل 1860کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 30۔)

143؂۔اس قانون کے الفاظ میں اس کی خلاف ورزی کرنے کی جو گنجائش موجود ہے اسے جاننے کے لئے ملاحظہ ہو پارلیمنٹ کے لئے رپورٹ Factory Regulating Act.( 6اگست1859)اور اس میں لیونارڈ ہارنر کے وہ مشورے جو قوانینِ کارخانہ کے بارے میں تھے تاکہ فیکٹری کے معائنہ کار غیر قانونی محنت کا سدِ باب کر سکیں جو آج ہمیں سرِ عام نظر آتی ہے۔

144؂۔ 8سال اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو اصل میں صبح 6بجے سے رات9بجے تک کام پر لگائے رکھنے کا وطیرہ نصف سال سے میرے ضلع میں موجود ہے۔(31اکتوبر1857کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص .39۔)

145؂۔ Printworks Actکو اس کے تعلیمی اور تحفظاتی ہر دو اعتبار سے ناکام تصور کیا جاتا ہے۔( 31اکتوبر1862کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 52۔)

146؂۔پس اس کی مثال ای پوٹر کا وہ [کھلا] خط ہے جو 24مارچ 1863کے روزنامہ ٹائمز میں چھپا۔دی ٹائمز نے اس کو کارخانہ داروں کی وہ بغاوت یاد دلائی جو دس گھنٹے کے بِل کے خلاف تھی۔

147؂۔ پس ٹوکےTooke کی کتاب Histry of Price کے ایڈیٹر اور تعاون کنندہ مسٹر ڈبلیو نیو مارچ نے بھی اسی قسم کی بات کی ہے۔مگر کیا آرائے عامہ کو بزدلوں کی طرح رعایتیں دینا سائنسی ترقی ہے؟

148؂۔ 1860میں جو قانون منظور ہوا اس میں یہ طے کر دیا گیا تھا کہ رنگائی اور دھلائی کے کاموں میں یکم اگست 1861کو دیہاڑی کا تعین کر دیا جائے گاجو ابتدائی طور پر 12گھنٹے ہو گی اور آخر کار یکم اگست 1862میں 10گھنٹے۔ مطلب یہ کہ عام دن میں -03گھنٹے اور ہفتہ کو -03گھنٹے۔ اب جبکہ 1862کا مہلک سال آن پہنچاتو پرانے پاکھنڈکو دوہرایا گیا۔ اس کے علاوہ کارخانہ داروں نے پارلیمنٹ کو یہ درخواست دائر کی کہ بچوں اور عورتوں کے 12گھنٹے کے محن کی ایک سال مزید اجازت دے دی جائے۔ تجارت کی موجودہ صورتِ حال میں( روئی کی شدید قلت کا زمانہ) یہ بات مزدوروں کے حق میں جاتی تھی کہ وہ روزانہ 12گھنٹے کام کریں اور جب ممکن ہو اُجرت بنا لیں۔اس مقصد کے لئے ایک بِل بھی پیش کیا گیا۔ اور سکاٹ لینڈ میں دھلائی کرنے والوں کے اقدام کی وجہ سے ممکن ہوا کہ اس بِل پر عمل درآمد روک دیا گیا۔(31اکتوبر 1862کی بابت رپورٹیں وغیرہ، ص. 14،15۔)پس اُنہی کارندوں سے شکست کھا کر جن کے بہانے سے یہ پٹیشن دائر کی گئی تھی، سرمائے کو وکیلوں کے ذریعے اس بات کا پتا چلا کہ 1860کا قانون بھی پارلیمنٹ کے دوسرے تمام قوانین کی طرح مزدوروں کے تحفظ کے لئے نافذ کیا جا رہا ہے، اس میں استعمال کئے جانے والے مبہم جملے ان کے لئے اس امر کی گنجائش پیدا کر دیتے ہیں کہ یہ اپنے تانا سازوں، اور تیار کپڑے کے آخری مراحل میں کام کرنے والوں کو اس قانون سے مستثنیٰ کر لیں۔ انگریز فلسفہ ٔقانون نے _جو ہمیشہ ہی سرمایہ دار کی فرمان بردار خادم رہا ہے_ عام اعتراضات سننے والی عدالت کے ذریعے اس قانونی حیلہ بازی کی اجازت دے دی۔ مزدور بہت بد دل ہو گئے .... انہوں نے کثرتِ کار کی شکایت کی، اور یہ سخت قابلِ افسوس بات ہے کہ قانون سازی کے واضح ارادے قانون کی شکستہ تعریف کی وجہ سے ناکام ہو جائیں۔( ایضاً، ص. 18۔)

149؂۔ کھلی فضا میں دھلائی کرنے والے کارخانہ دار اس جھوٹ کی بنا پر 1860کے قانون سے بچ گئے کہ کسی عورت کو بھی رات کے وقت کام پر نہیں لگایا گیا۔ اس کھوٹ کی نقاب کشائی فیکٹری کے معائنہ کاروں نے کی؛ اور ساتھ ہی مزدوروں کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے ٹھنڈے سبزہ زار کی خوشبو کے خیال کو خیر باد کہہ دیا ، جس میں کھلی فضا میں دھلائی کا کام ہونے کی رپورٹ کی جاتی تھی۔اس علاقے میں ہوا کے ذریعے دھلائی اور سُکھائی والے کمروں میں درجہ حرارت 90سے 100ڈگری فارن ہیٹ تک رکھا جاتا ہے، اور ان کمروں میں کام کا زیادہ حصہ لڑکیاں ہی مکمل کرتی ہیں۔ ٹھنڈ ی ہوا کا لفظ اس بہانے کے بطور ان کے کام آتا ہے جسے استعمال کر کے وہ سُکھانے والے کمروں سے باہر کھلی ہوا میں آتی ہیں۔ 15لڑکیاں آتشدان پر کام کرت




ٹوٹل صفحے12
موجودہ صفحہ9
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8--9--10--11-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی۔10 ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے