حوالہ جات و حواشی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 801
عنوان حوالہ جات و حواشی
شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
پڑھا گیا 226095
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی کے بنیاد
روپے کی سرمائے میں تبدیلی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی


شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ








1؂۔وہ حکومیت جو تسلط اور محکومیت کے ذاتی تعلقات پر مبنی ہے اور جو زمین کی ملکیت کی دین ہوتی ہے ، دوسری طرف غیر شخصی طاقت جسے روپیہ عطا کرتا ہے، کے مابین پائے جانے والے تضاد کو دو فرانسیسی حکایات سے بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے،‘‘ آقا کے بغیر زمین کا کوئی تصور نہیں،اور‘‘ روپے کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔

2؂۔ ‘‘روپے کے ساتھ ایک شخص اشیاء خریدتا ہے، اور اشیاء کے ساتھ ایک دوسرا شخص روپیہ خریدتا ہے۔

(Mercier de laRiviere, L ordre naturel et essential des societes politiques, p.543).

3؂۔‘‘ جب ایک چیز اس مقصد کے لئے خریدی جائے کہ اس کو بیچا جائے ، تو اس سلسلے میں جو رقم استعمال کی جائے اُسے‘‘ روپیہ بطور راسکہا جاتا ہے۔اور جب اس کو نہ بیچنے کے لئے خریدا جائے تو اس کو خرچ کرنا کہا جا سکتا ہے۔ _( جیمز سٹیورٹ : ‘‘ کلیات ، & سی مرتبہ جنرل .سر جیمز سٹیورٹ، اس کا بیٹا . لندن .، 1805جلد1 ص. 274 ۔)

4؂۔ ‘‘کوئی شخص روپے کا روپے سے مبادلہ نہیں کرتا مارسائر .ڈی . لا. ریوری کا بیان ماہرینِ تجارت کے بارے میں(l.c., p. 486 )۔ اس کی ایک ایسی کتاب جس کے بارے میں وہ کہنے کو تو‘‘ تجارتاور سٹے بازیکے سلسلے میں درج ذیل بات کرتا ہے:‘‘ تمام تجارت کا دارومدار مختلف قسم کی چیزوں کے مبادلے پر ہے ، اور فائدہ(اور تاجر کے لئے؟)‘‘اسی فرق ہی سے اخذ ہوتا ہے۔ ایک پونڈ ڈبل روٹی کا مبادلہ ایک پونڈ ڈبل روٹی سے کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا؛...۔ پس تجارت کا فائدہ اٹھانے کی رو سے جوئے سے بڑا فرق ہے، جو محض روپے کے روپے سے مبادلے پر ہی مشتمل ہے۔

(Th. Cobret, An Inquiry into the Causes and Modes of Wealth of Individuals; or The Principles of Trade and Speculation Explained, london, 1841,p 5.)

اگرچہ کاربٹ کو اس بات کا پتا نہیں چلتا کہ M_Mیعنی روپے کا روپے سے مبادلہ گردش کی خواصی بنتر ہے، اور نہ صرف تاجری سرمائے کی بلکہ ہر قسم کے سرمائے کی، اس کے باوجود وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ بنتر سٹے بازی اور تجارت کی ایک نوع میں مشترک ہے، یعنی سرمایہ کاری میں۔ لیکن اس کے بعد میک کلاچ کا نام آتا ہے اور وہ کہتاہے کہ بیچنے کی غرض سے خریداری ، سٹے بازی ہی کا ایک انداز ہے اور اس طرح تجارت اورسرمایہ کاری کا فرق جاتا رہتا ہے۔‘‘ ہر وہ سودے بازی جس میں ایک آدمی دوبارہ بیچنے کی غرض سے مصنوعات کی خریداری کرتا ہے ، در اصل ایک طرح کی سٹے بازی ہے(McCulloch, A Dictionary Practical, &c,.of Commerce, London, 1847,p.1009)۔ زیادہ خر دماغی کے ساتھ ایمسٹر ڈیم سٹاک ایکسچینج کا پینٹو نامی پنڈار کہتا ہے،‘‘ تجارت ایک کھیل ہے(لو کے سے اخذ کردہ)‘‘ اور فقیروں سے کوئی چیز بھی نہیں جیتی جا سکتی۔ اگر ایک شخص ہر کسی سے ایک لمبے عرصے تک جیتتا رہے تو یہ ضروری ہو گاکہ کھیل دوبارہ شروع کرنے کے لئے منافعے کا ایک بڑا حصہ دیا جاتا رہے۔

( Pinto , Traite de la Circulation et du Credit, Amsterdam, 1771, p.231. )۔

5؂۔ سرمایہ .... بنیادی سرمائے اور نفع میں قابلِ تقسیم ہوتاہے، نفع سے مراد سرمائے میں اضافہ ہے... اگرچہ عملی طور پر یہ نفع فور ی طور پر سرمائے ہی کی طرف مڑ جاتا ہے اور بنیادی سرمائے کے ساتھ ہی متحرک ہو جاتا ہے۔

( F. Engles, Umrisse der Nationalokonomie, in: Deutch-franzosische Jehrbucher, heraugegeben von Arnold Rogue und Karl Marx.Pris, 1844, p.99. )

6؂۔ ارسطو معاشیات اور مال بنانے میں فرق کرتا ہے۔ وہ معاشیات سے بحث شروع کرتا ہے ۔چونکہ یہ روزی کمانے کا فن ہے اس لئے یہ صرف وہی چیزیں پیدا کرتا ہے جو بقا کے لئے ضروری ہیں یا حکومت اور گھریلو استعمال کے لئے مفید ہیں۔‘‘ حقیقی دولت اسی قسم کی استعمال کی قدروں پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے کہ ان چیزں کی تعداد لا محدود نہیں ہے جن سے زندگی کو خوش گوار بنایا جا سکے ۔ تاہم چیزیں حاصل کرنے کا ایک اور طریقہ بھی ہے جس کے لئے ٹھیک ترین اصطلاح‘ مال بناناہی استعمال ہو سکتی ہے، اور اس سلسلے میں نہ تو دولت پر کوئی حد مقرر ہوتی ہے اور نہ املاک پر۔تجارت( لفظی معنوں میں پرچون فروشی ہے، اور ارسطو ان کو اس لئے سامنے رکھتا ہے کہ اس میں استعمال کی قدریں سب سے زائد اہمیت رکھتی ہیں )اپنی نوعیت کے اعتبار سے مال بنانے سے تعلق نہیں رکھتی کیونکہ پرچون فروشی میں اشیاء کے مبادلے کا تعلق ان چیزوں سے ہوتاہے جو ان کے( خریدار اور فروخت کنندہ) کے لئے ضروری ہوتی ہیں ۔ چنانچہ جیسے ہی وہ یہ باو ر کرانے کے لئے آگے بڑھتا ہے کہ تجارت کی بنیادی شکل بارٹر تھی، لیکن آخرالذکر کی ترقی کے ساتھ روپے کی ضرورت پیدا ہو گئی۔ روپے کی دریافت پر بارٹر لازمی طور پر ترقی پا کر اشیاء کی تجارت میں بدل گیا، اور یہ تعلق اپنے ابتدائی رجحان کے بر خلاف روپیہ بنانے کے فن میں نمایاں ہوا ۔ اب اسی وجہ سے معاشیات کو مال بنانے سے ممیزکیا جا سکتا ہے،یعنی، مال بنانے کے سلسلے میں گردش امارت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اور یہ روپے کے گر گھومنے کے لئے ظہور میں آیا ہے کیونکہ روپیہ اس قسم کی گردش کا حتمی مطمع ٔ نظر ہے ۔اسی لئے ایسی امارت جس کی مال بنانے میں تگ ودو کی جاتی ہے لا محدود ہیں۔ بالکل اس فن کی طرح جو خود کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ نہ ہو بلکہ خود ہی ایک مقصد ہو اپنے مقاصد میں لا محدود ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ ہر لمحہ اپنے مقصد سے قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کرتا رہتا ہے، جبکہ جو فنون ایک مقصد کے حصول کا ذیعہ ہوتے ہیں لا محدود نہیں ہوتے اس لئے کہ خود مقصد ان پر حد بندی مسلط کر دیتا ہے۔ اسی طرح مال بنانے کا حال یہ ہے کہ اُس کے مقاصد کی حدود نہیں ہیں، کیونکہ یہ مقصد دولتِ مطلق ہی ہے۔ معاشیات ، نہ کہ مال بنانے کی اپنی حدود ہیں۔ اول الذکر کا مقصد روپے کے حصول سے مختلف ہے اور دوسری کاروپے میں اضافہ۔ دونوں کو گڈ مڈ کر دینے کی وجہ سے ، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ، اس لئے بعض لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ معاشیات کا مقصد بھی یہی ہے کہ دولت اور امارت میں لا محدود کی ذرائع سے بحث کرے۔

(Aristotle,De rep.edit. Bekker, lib. l. c. 8. 0. passim)

7؂۔‘‘ اشیاء( یہاں پر اقدارِ صرف کے معنوں میں)تجارتی سرمایہ دار کا آخری مقصد نہیں ہوتیں، بلکہ روپیہ اس کا آخری مقصد ہے۔

( Th,. Charmer , On Pol. Econ.& ,c.,2nd Ed.,Glasgow,1832, p.165,166., )

8؂۔‘‘ تاجر روپے کا شمار اس انداز میں کرتا ہے جیسے اس نے ابھی تک کچھ نہیں بنایا۔ اس کی نظر ہمیشہ مستقبل کی طرف ہوتی ہے۔

( A.Genovesi, Lezioni di Economia Civile(1765), Custodi s edit. of Italian Economists. Parte Moderna,t.viii,p.139.)

9؂۔نفع کا حصول ،سونے کے حصول کی شدید ترین بھوک، ہی سرمایہ



ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری اور جدید صنعت
روپے کی سرمائے میں تبدیلی - موضوع کے دوسرے داخلے