حوالہ جات و حواشی 7 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 809
عنوان حوالہ جات و حواشی 7
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 215015
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی 7 کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی 7 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی 7


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ


حوالہ جات و حواشی

1؂۔زمین کی خود رو پیداوار اگر بہت کم مقدار میں رہے اور انسان سے بالکل آزاد ، یعنی اسی حالت میں جیسے اس کو فطرت نے تیار کیا ہے ، یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک نوجوان کو چھوٹی سی رقم تھما دی جائے اور اسے کاروبار میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے بھیج دیا جائے۔(جیمز سٹیورٹ : Principles of Polt. Econ.شمارہ ڈبلن1770،v. I, ص 116 ۔)

2؂۔ عقل جتنی چالاک ہے اتنی طاقتور بھی ہے۔اس کی مکاری اصولی طور پر عمل میں ارتباط لانے پر مشتمل ہے، جو اشیا میں خود ان کی نوعیت کے مطابق ایک دوسرے پر عمل اور رد عمل پیدا کرنا ہے۔ اس طرح عمل میں بغیر کسی بلاواسطہ مداخلت کے عقل کے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔

3؂۔اپنی اس کے علاوہ فضول تصنیف( Theorie de L Econ. Polit, 1815) میں Ganilhبڑے پر زور انداز میںPhysiocratsکی مخالفت میں ان ماقبل عملوں کے ایک طویل سلسلے کو بیان کرتا ہے جو لازمی ہیں اس سے پہلے کہ زراعت بقول شخصے مناسب طور پر شروع ہو سکے۔

4؂۔ٹرگٹTurgotاپنی کتابReflexions sur la Formation et la Distribution des Richesses( 1766 )میں ابتدائی تہذیبوں میں پالتو جانوروں کی اہمیت کے بارے میں بڑی اہم بات کرتا ہے۔

5؂۔پیداوار کے مختلف ادوار کے تکنیکی موازنے میں سب سے کم اہمیت کی اشیاء سامانِ آسائش ہیں۔ تاہم ہماری اب تک کی لکھی گئی تاریخوں میں مادی ترقی کا بہت کم ذکر ملتاہے جو تمام سماجی زندگی کی بنیاد ہے، اور اس بنا پر یہی حقیقی تاریخ ہے۔ لیکن تاریخ سے پہلے ادوار میں اُن نتائج کے تحت ترتیب دیے جاتے ہیں جن کی بنیادمادی تحقیقات ہیں نہ کہ نام نہاد تاریخی۔ ان ادوار کی تقسیم ان دھاتوں کے حوالے سے کی جاتی ہے جن سے اوزار بنائے جاتے تھے ، جیسا کہ پتھر، تانبے اور لوہے کے ادوار۔

6؂۔اس کی مثال قولِ محال کی سی ہے کہ مثلاً مچھلی کی صنعت میں وہ مچھلیاں ذرائع پیداوار ہیں جو پکڑی نہیں جاتیں۔ لیکن اب تک کوئی شخص بھی مچھلی سے خالی پانی میں سے مچھلی پکڑنے کا فن دریافت نہیں کر سکا۔

7؂۔محض عملِ محن کی رو سے افزودہ محن کی تعیین کا یہ طریقہ کسی طرح سے بھی سرمایہ دارانہ عمل ِپیداوار پر بھی براہِ راست لاگو نہیں ہوتا۔

8؂۔سٹارچ Storchاصل خام مال کوmatieres,اور معاون خام مال کوmateriaux کہتا ہے۔ Cherbuliezمعاون خام مال کے لیےmatieres instrumentales. کی اصطلاح وضع کرتا ہے۔

9؂۔کرنل ٹورنس نے منطقی نقطہ آفرینی کا ایک کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے وحشی کے اُس پتھرمیں سرمائے کی ابتدا دریافت کی ہے ۔ اس پہلے پتھر میں جو اُس وحشی نے اس جانور پر پھینکا تھا جس کے تعاقب میں تھا اور اس چھڑی سے میں جو وحشی نے اس مقصد کے لیے حاصل کی تھی کہ اُس کی پہنچ سے بالا لٹکتے ہوئے پھلوں کو گرا سکے۔ ان میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چیز اس مقصد کے لیے تیار کی گئی کہ دوسری کے حصول میں مدد لی جائے، اسی طرح سے سرمائے کی ابتدا دریافت کی لی۔
(R Torrens:An Essay on the Production of Wealth,&c., pp. 70-71. )

10؂۔مصنوعات سرمائے میں بدلنے سے پہلے ملکیت میں کی جاتی ہیں ، ان کی سرمائے میں تبدیلی انہیں ایسی ملکیت سے محفوظ نہیں کرتی۔(Cherbulaiz: Richesse ou Pauvrete.edit. Paris, 1841,p. 54. )۔ پرولتاری طبقہ جو لوازماتِ زندگی کی ایک خاص مقدار حاصل کرنے کے لیے اپنا محن فروخت کرتا ہے، تو وہ مصنوعہ میں اپنے حصے سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ مصنوعات پر قبضے کا طریق پہلے جیسا ہی رہتا ہے۔ ہمارے بتائے گئے سودے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مصنوعات قطعی طور پر سرمایہ دار کی ملکیت میں رہتی ہیں جو خام مال اور زندگی کے لوازم فراہم کرتا ہے۔ یہ ملکیت کے قانوں کے سخت ترین نتائج ہیں، ایک ایسا قانون جس کے بنیادی اصول اس بات کے بالکل الٹ ہیں کہ ہر مزدور کو اپنی مصنوعہ پر ملکیت رکھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔(l. c., p. 58. )جب مزدور اپنے محن کا معاوضہ وصول کر لیتے ہیں ... تو اس وقت سرمایہ دار نہ صرف سرمائے کا مالک بن جاتا ہے(وہ اس سے ذرائع پیداوار مراد لیتاہے )بلکہ محن کا بھی۔ اگر جو کچھ محن کے عوضانے کے بطور ادا کیا گیا ہے اسے بھی ،جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، سرمائے کی اصطلاح میں شامل کر لیا جائے ، تو یہ بات مضحکہ خیز ہو گی کہ محن کو سرمائے سے الگ کر لیا جائے۔ لفظ سرمائے میں اصطلاحاً محن اور سرمایہ دونوں آ جاتے ہیں۔
(James Mill: Elements of Pol. Edon., &c.,Ed. 1821, pp. 70,71.)

11؂۔جیسا کہ ایک پہلے حاشیے میں یہ بات آئی ہے کہ انگریزی زبان میں محن کے ان دونوں پہلوؤں کے بارے میں دو مختلف وضعیں موجود ہیں۔ سادہ عملِ محن میں اقدارِ صرف پیدا کرنے والے عمل کو کام work کہتے ہیں، اور قدر پیدا کرنے والے عمل میں اس کو محنlabour کہتے ہیں اگر اس اصطلاح کو اس کے ٹھیٹھ معاشی معنوں میں لیا جائے۔

12؂۔یہ اعدادوشمار محض فرضی ہیں۔

13؂۔یہی وہ اساسی مسئلہ ہے جس پر Physiocratsکے نظریات کی بنیاد استوار ہوتی ہے، یہ کہ غیر زرعی محن غیر افزودہ ہوتاہے، اس دلیل کاقدامت پرست معیشت دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔ایک مخصوص چیز میں کچھ دوسری چیزوں کی قدر کا اضافہ کرنے کا یہ طریقہ(مثال کے طور پر کپڑے میں جولاہے کازندہ رہنے کا خرچ جمع کرتے ہوئے )اسی طرح کا ہے جیسے ایک تنہا قدر کے اوپر بہت ساری قدروں کا تہہ در تہہ ڈھیر لگا دیا جائے، اس کا نتیجہ یہ رہتاہے کہ یہ قدراسی حد تک نشوونما پا جاتی ہے...۔یہ اظہار یعنی اضافہ اس انداز کی بہت واضح تصویر کشی کرتا ہے جس کے تحت ایک تیار شدہ مصنوعہ کی قیمت تشکیل پاتی ہے۔ یہ قیمت محض ان اقدار کی کُل تعداد کا مجموعہ ہوتی ہے جو اس میں خرچ آئی ہیں۔ اور اس قیمت کو اُن تمام اقدار کو جمع کر کے حاصل کیا جا سکتاہے، تاہم جمع کی مثال ضرب کی سی نہیں ہوتی۔( Mercier de la Riviere, L.c., p. 599) .۔

14؂۔پس 1844-47تک اُس نے پیداواری روز گار سے اپنا سرمایہ اٹھا لیا تاکہ اس کو ریلوے کے سٹے میں لگاسکے۔ اور اسی طرح امریکی خانہ جنگی میں اس نے اپنی فیکٹری بند کر دی اور اپنے مزدوروں کو گلیوں میں نکال دیا تاکہ وہ لیور پول کاٹن ایکسچینج میں جوا کھیلیں۔

15؂۔اپنا درجہ بڑھاؤ ، نفیس لباس زیبِ تن کرو ، اور اپنی تزئین کرو... لیکن جو کوئی بھی اُس سے زیادہ لیتا ہے جتنا دیتا ہے تو یہ رباہ ہوا نہ کہ خدمت، بلکہ اس نے تو اپنے ہمسایوں کے ساتھ بُرا کیا جیسے کوئی چوری کر لے یا ڈاکہ ڈال لے۔جن جن کاموں کو ہم ہمسایوں کی خدمت اور بھلائی کہتے ہیں وہ سارے کے سارے خدمت اور بھلائی نہیں ہوتے۔ اس طرح تو ہر زانی اور زانیہ بھی ایک دوسرے کی خدمت اور تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ایک گھوڑ سوار کسی لٹیرے کی خدمت کرتا ہے کہ وہ جب مسافروں کو لوٹے ، زمینوں اور لوگوں کے گھروں پر ڈاکے ڈالے تو اس کی مدد کرے۔ روم کے کیتھولک عیسائی بھی ہماری بڑی خدم




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

No Article found
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے