حوالہ جات و حواشی 7 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 809
عنوان حوالہ جات و حواشی 7
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 215031
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی 7 کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی 7 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی 7


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

کرتے ہیں کہ وہ ان سب کو سمندر میں نہیں ڈبوتے، آگ میں نہیں جلاتے ، جیل میں بھی سڑنے نہیں دیتے، بلکہ کچھ کو زندہ بھی رہنے دیتے ہیں، اور انہیں دیس نکالا دے دیتے ہیں اور یہ کہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اسے چھین لیتے ہیں۔ خود شیطان بھی اپنے چیلوں کی ناقابلِ بیان خدمت کرتاہے...۔مختصر یہ کہ دُنیا شاندار ، عظیم اور روزانہ کی خدمت اور فائدے سے بھری پڑی ہے۔
(Martin Luther, An die Pfarrherrn wider den Wucher zu predigen, Wittemberg, 1540 [pp. 10,11]

16؂۔اپنی کتاب : Zur Kritik der Pol. Oek.,کے صفحہ 14پر میں نے اس مسئلے پر ذیل میں درج رائے دی ہے: یہ بات جاننا مشکل نہیں کہ جے-بی-سے اور ایف-باسٹیٹ جیسے معیشت دانوں کے پورے ایک گروہ کوخدمت کے درجے کی کون سی سطح کی خدمت مرحمت فرمائی جائے۔

17؂۔ غلام محن کے زیادہ لاگت پذیر ہونے کی ایک صورت حال یہ بھی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ قدما کی ایک دلچسپ حکایت کو استعمال کرتے ہوئے یہاں محن کار [غلام]کو اگر حیوان سے الگ کرنا ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ محن کار آلۂ ناطق ہے، حیوان آلۂ نیم ناطق اور اوزار آلۂ صامت۔ لیکن وہ [غلام] خود حیوان اور اوزار دونوں کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ وہ ان دونوں میں سے نہیں بلکہ ایک انسان ہے۔ وہ اپنے آپ کو کافی اطمینان کے ساتھ قائل کرتا ہے کہ وہ ایک الگ مخلوق ہے اور اس بات کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے وہ جانوروں پر ظلم کرتا ہے اور اوزاروں کو توڑتا پھوڑتا ہے۔پس پیداوار کے اس طریقے پر جو اصول آفاقی طور پر لاگو کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسے اوزار اور آلات استعمال کیے جائیں جو بہت زیادہ بھدے اور بھاری بھرکم ہوں تاکہ انہیں صرف ان کیبے ڈھنگے پن کی بنا پر توڑا نہ جا سکے۔میکسیکو کی خلیج پر واقع غلام ریاستوں میں خانہ جنگی کے بعد سے ہل قدیم چینی انداز میں بنائے جاتے تھے اور صرف طرح کے ہل وہاں پر موجود تھے جو زمین میں جھریاں بنانے کے بجائے مٹی کو سؤر یا چھچھوندر کی مانند الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔ ملاحظہ ہو Conf. J. E. Cairnesکی کتاب : The Slave Power,لندن 1862، ص . 46۔ Olmstedاپنی کتاب : Sea Board Slave State, میں بتاتا ہے : مجھے وہاں پر ایسے اوزار دکھائے گئے کہ ہم میں سے کوئی بھی ذی ہوش شخص اُس مزدور کوجسے وہ معاوضہ ادا کرتا ہے [ان اوزاروں کے استعمال سے ]اس کے کام میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اور میرا مشاہدہ ہے کہ ان کا کافی سے زیادہ وزن اور بھدا پن، بہ نسبت ہمارے عام اوزاروں کے،کام کو دس فی صد سے بھی زیادہ مشکل بنا دے گا۔ اور مجھ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ غلام لازمی طور پر ان اوزاروں کو لاپرواہی کے ساتھ اوربے ڈھنگے انداز میں استعمال کرتے ہیں اس لیے اگر انہیں کم وزن کے اور اچھے اوزار مہیا کیے جائیں تو نفع بخش کاروبار ممکن نہیں،اوریہ کہ ایسے اوزار جو ہم اپنے مزدوروں کو مسلسل دیتے رہتے ہیں اور ان سے ہمیں نفع بھی حاصل ہوتا ہے، اگر ورجینیا کے غلہ کے کھیتوں کے مزدوروں کو مہیا کیے جائیں ، چاہے وہ جس قدر کم وزن کے ہوں اور ان میں پتھر استعمال نہ ہوا ہو ، ایک دن بھی سالم نہ رہیں گے۔اسی طرح سے جب میں نے یہ پوچھا کہ فارم پر گھوڑوں کی جگہ خچر کیوں استعمال کیے جاتے ہیں تو اس کی جو پہلی وجہ بتائی گئی یہی وجہ ا س میں سے معقول بھی معلوم ہوتی تھی، یہ کہ حبشی جیسا سلوک خچروں سے کرتے ہیں گھوڑے اس کو برداشت نہیں کر سکتے،وہ تو گھوڑوں کو بہت جلد لولا لنگڑا اورناکارہ کر دیں گے جب کہ خچر ڈنڈوں سونٹوں کی سزا برداشت کر جاتے ہیں اور دو دو چار چار دن بھوکے بھی رہ لیں گے اور ان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔نہ وہ اتنی جلدی زخمی ہی ہوں گے، اس کے علاوہ ان کو سردی بھی نہیں لگتی اور نہ وہ بیمار پڑتے ہیں چاہے ان کی نگہداشت نہ بھی کی جائے اور ان سے زیادہ کام بھی لیا جائے۔لیکن مجھے تو اس کمرے کی کھڑکی کے آگے جانے کی بھی ضرورت نہیں جس میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں تا کہ حیوانوں کے ساتھ اس سلوک کو دیکھ سکوں جو تقریباً ہر وقت روا رکھا جاتا ہے اور یہ ایسا سلوک ہے کہ اگر شمالی امریکہ میں اگر کوئی اس انداز میں جانوروں کو ہنکارے تو ان کا مالک کاشت کار اس کو نوکری سے فوراً الگ کر دے ۔
18؂۔ہنر یافتہ اور غیر ہنر یافتہ محن میں فرق جزوی طور پر تو محض سراب نظر آتا ہے یا کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا فرق ہے جو کافی عرصے سے حقیقی نہیں رہا ، اور جو محض ایک قدیمی رواج کی وجہ سے زندہ ہے، اور جزوی طور پر یہ فرق مزدور طبقے کے کسی گروہ کی بے بسی پر موقوف ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو ان کو دوسری تمام مزدوروں سے مساوی معاوضہ لینے سے روکتی ہے۔ یہاں پر اتفاقی حالات اتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ محن کی یہ دونوں اقسام بعض وقت آپس میں جگہ بدل لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اُس مزدور طبقے کو لے لیجیے جس کی جسمانی حالت انتہائی خستہ ہے، یا نسبتاً نڈھال ہو چکی ہے، اور یہ صورت حال ان تمام ممالک میں ہے جن میں سرمایہ دارانہ پیداوار کی نظام بڑا ترقی یافتہ ہے۔ وہاں محن کی نچلی شکل کو عام طور پر ہنر یافتہ خیال کیا جاتا ہے جس میں اعصاب کا زیادہ استعمال درکار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں زیادہ نازک قسم کے محن کو غیر ہنر یافتہ محن قرار دے دیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں ہم اینٹیں چُننے والے کی مثال لیتے ہیں جس کو انگلستان میں ریشم بُننے والے کی محنت کی نسبت زیادہ بہت زیادہ اعلیٰ درجے کی تصور کیا جاتا ہے۔ یا مثال کے طور پر دھوتر کاٹنے والے ہی کو لیجیے جس میں سخت جسمانی مشقت درکار ہے، اور ساتھ ساتھ یہ کام غیر صحت مندانہ بھی ہے ، تب بھی اس کو غیر ہنر یافتہ محن میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قومی محن کے میدان میں یہ نام نہاد ہنر یافتہ محن زیادہ بڑا دائرہ نہیں گھیرتی۔ لینگ Laingکا تخمینہ ہے کہ انگلستان( اور ویلز)میں 11,300,000افراد کے روزگار کا دارومدار غیر ہنر یافتہ محن پرہے۔ اب اگر 18,000,000میں سے،جو انگلستان کی لینگ کے عہد کی آبادی ہے ، ہم 1,000,000 افراد کو ہم منہا کر دیں جو اشرافیہ پر مشتمل ہے، اور 1,500,000آبادی فقرا، خانہ بدوش، مجرم اور طوائف وغیرہ شامل ہوں، اور درمیانی طبقہ 4,650,000افراد پر مشتمل ہو ، اس صورت میں مذکورہ بالا 11,000,000 افراد ہی بچ رہتے ہیں۔ لیکن اس درمیانی طبقے میں لینگ نے چھوٹے درجے کے سرمایہ کاروں، حکام ، اہلِ قلم، فنکاروں اور سکول ماسٹروں کو بھی شامل کر لیا ہے۔ اس درمیانی طبقے کی تعداد بڑھانے کی خاطر اُس نے اِن 4,650,000میں فیکٹریوں کے زیادہ تنخواہ پانے والے ملازمیں بھی شامل کر لیے ہیں، اور اینٹیں چننے والے معمار بھی انہیں میں شامل ہیں۔( S. Laing: National Distress, & c., London, 1844. )۔ وہ بڑا طبقہ جو خوراک کو اپنے محن کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں خرید سکتا سب سے زیادہ تعداد میں ہوتا ہے۔
(James Mill, in art.: Colony,Supplement to the Encyclop. Brit., 1831.)
19؂ ۔ جہاں پر محن کا حوالہ قدرکے پیمانے کے بطور دیا جائے




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

No Article found
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے