حوالہ جات و حواشی11 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 829
عنوان حوالہ جات و حواشی11
شاخ قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
پڑھا گیا 224120
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی11 کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی11 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی11


شاخ قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0-گذشتہ صفحہ

حوالہ جات و حواشی11



1؂۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس بنیادی قانون سے نام نہاد معاشیات آگاہ نہیں۔ یہ لوگ رسد اور طلب کے اصولوں کے تحت محن کی منڈی کی قیمت جانتے ہوئے، ارشمیدس سے برخلاف ، یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے ایک ایسی ناب پا لی ہے جو زمین کو متحرک کرنے کے بجائے اسے روکتی ہے۔

2؂۔چوتھی کتاب میں اس کے بقیہ لوازم دئے جائیں گے۔

3؂۔محن جو کسی معاشرے کا معاشی وقت ہوتا ہے ، ایک طے شدہ حصہ ہے: جیسے دس لاکھ لوگوں کے ایک دن میں دس گھنٹے، یا دس لاکھ گھنٹے...۔ سرمائے کے بڑھنے کی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ حد کسی بھی مخصوص عہد میں معاشی طور پر استعمال ہونے والے وقت کے زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

An Essay on the Political Economy of Nations. London, 1821, pp. 47, 49.

4؂۔کسان خود اپنے محن پر انحصار نہیں کر سکتا، اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ گھاٹے میں رہتا ہے۔ اس کی محنت کُل کام کو عمومی توجہ دینے کا تقاضا کرتی ہے۔جیسے اس کے تھریشر کی مسلسل دیکھ بھال ہونی چاہیے، بصورتِ دیگر وہ بہت جلد اُس غلہ کا نفع کھو بیٹھے گا جس کو گاہا نہیں جا سکا؛ اس کی درانتیاں، کٹائی کے آلات وغیرہ کی مسلسل دیکھ بھال ہونی چاہیے۔ اسے مسلسل اپنے کھیتوں کا چکر لگانا چاہیے، اسے یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کسی چیز سے غفلت تو نہیں برتی گئی۔ایسا تب ہوتا ہے جب وہ ایک جگہ یا کام پر اپنی توجہ مرکوز کر دے۔

( An Inquiry into the Connexion between The Present Price Provisions and the Size of Farms, &c., By a Farmer. London, 1773, p. 12 )

یہ کتاب بڑی دلچسپ ہے۔ اس میں سرمایہ دار کسان یا تاجر کسان _جیسا کہ اسے عموماً کہا جاتا ہے_ کی ابتدا کو، اور اس کی اُس چھوٹے کسان قیمت پر خود آموز عظمت کوبھی دیکھا جا سکتا ہے، یعنی ایساکسان جوصرف اشیائے خودرونوش ہی کماتا ہے۔ سرمایہ داروں کا یہ طبقہ پہلے تو جزوی طور پر مگر بعد ازاں کُلی طور پر دستی محن کی لازمیت سے مبر اہو جاتا ہے۔

( Textbook of Lectures on the Political Economy of Nations. By the Rev. Richard Jones. Hertford, 1852. Lecture III., p. 39.)



5؂۔ جدید کیمسٹری کا مالیکیولی نظریہ جس پر پہلے Laurentاور Gerhardt نے سائنسی انداز میں کام کیاتھااس کی بنیاد کوئی اور قانون نہیں۔( تیسری اشاعت میں اضافہ )اس بیان کی وضاحت کے بارے میں، جو غیر کیمیا دانوں پر اتنا واضح نہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مقام پر مصنف کاربن کے مرکبات کے ہم انداز سلسلے کی بات کر رہا ہے ؛ پہلے یہ نام 1843میں C. Gerhardtنے تجویز کیا ، ان میں سے ہر سلسلہ اپنا ایک مخصوص بنیادی الجبریائی فارمولہ رکھتا ہے، جیسے Paraffins کا:-03سادہ الکوحلAlcohalکا -03 سادہFatty Acidsکا -03اور اسی طرح بہت سے دوسرے۔ اوپر دی گئی مثالوں میں مالیکیولی فارمولے میں -03کے سادہ مقداری اضافے سے ہردفعہ خواصی اعتبار سے مختلف مرکبات بنتے ہیں۔ اس حقیقت کی تعیین میں(جس کے بارے میں مارکس نے مبالغے سے کام لیا )Laurent اور Gerhardtکے کردار کے لئے ملاحظہ کیجئےKopp کی کتاب Entwicklung der Chemie. Munchen, 1873, pp. 709,716 اور Schorlemmerکی کتاب: The Rise and Development of Organic Chemistry.London, 1879, p. 54. فریڈرک اینگلز۔



6؂۔مارٹن لوتھر اس قسم کے اداروں کو The Compny Monopolia.کہتا ہے۔

7؂۔30اپریل 1849کی بابت فیکٹری کے معائنہ کار کی رپورٹ۔، ص. 59۔

8؂۔ ایضاً ،ص. 60۔فیکٹری کا معائنہ کار سٹیورٹ جو خود بھی سکاٹ لینڈ کا باشندہ ہے، اور انگریز فیکٹری کے معائنہ کاروں کے برخلاف جو سرمایہ دارانہ اندازِ فکر اپنائے ہوئے ہے، اُس خط پر رائے دیتا ہے جس کو وہ اپنی رپورٹ میں شامل کرتا ہے، کہ یہ ابلاغ کا سب سے موثر ایسا طریقہ جو ریلے کے نظام سے وابستہ کسی بھی سرمایہ دار نے اُن کو دیا جو اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔ مزید یہ کہ یہ خط نپے تلے انداز میں ان لوگوں کے تعصبات کو دور کرتا ہے جنہیں کار خانے میں کام کے بندوبست میں تبدیلی کے بارے کوئی شکوک و شبہات ہیں۔



ّّّّ____________________________________________________



اس کتاب کو مارکسسٹس انٹر نیٹ آرکائیو marxists.orgکے لیے ابن حسن نے ترتیب دیا۔

کمپوزنگ: امتیاز حسین

اپنی رائے اور تجاویز کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں۔

hasan@marxists.org




ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0-گذريل صفحو

حوالہ جات و حواشی11 ان داشلائوں میں استعمال ھے
حوالہ جات و حواشی11
قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار - موضوع کے دوسرے داخلے