حوالہ جات و حواشی12 : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 831
عنوان حوالہ جات و حواشی12
شاخ متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
پڑھا گیا 218324
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی12 کے بنیاد
متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی12 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی12


شاخ متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0-گذشتہ صفحہ

حوالہ جات و حواشی

FOOTNOTES



1؂۔ اس اوسط روزینے کی قدر کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ مزدور کو‘‘ زندہ رہنے، محنت کرنے اور بحال ہونے(Wm. Petty: Political Anatomy of Ireland, 1672, p. 64. )کے لئے کیاکچھ درکار ہوتا ہے۔ ‘‘ محن کی قیمت ہمیشہ ضروریات کی قیمت پر تشکیل پاتی ہے ... جب بھی... کام کرنے والے آدمی کی اُجرت، اُس کے نچلے درجے اور حالات کے مطابق، بطور ایک کام کرنے والے آدمی کے ایسے کنبے کی معاونت نہ کر سکے، جیسے اُن میں سے اکثر کی قسمت میں یہی ہوتا ہے،اُس کو مناسب اُجرت نہیں ملتی۔( J. Vanderlint, l. c., p. 15. )۔ ‘‘ صرف[مزدوری کرنے والا]محن کار جس کے پاس صرف بازو اور اپنی کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس وقت تک کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی قوتِ محن کو دوسروں کے ہاتھ بیچ نہیں دیتا...۔ ہر قسم کے کام میں اس بات کا ہونا ناممکن نہیں ہوتا ، اور حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہو کر ہی رہتا ہے کہ مزدور کی اُجرت محض ان چیزوں تک محدود ہیں جن سے وہ صرف اپنی بقا ہی حاصل کر سکتا ہے۔(Turgot,Reflexions, & c.Oeuvres, ed. Daire, t. I, p. 10)‘‘ زندگی کے لوازمات کی قیمت در حقیقت محن پیدا کرنے کی لاگت ہوتی ہے۔( Malthus,Inquiry into, &c., Rent,London, 1815, p. 48, note.)

2؂۔‘‘ کمالِ صناعی سے مراد کسی مصنوعہ کو کم لوگوں کی مدد سے، یا پہلے کی نسبت کم وقت میں ،(بات وہی ہے )تیار کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔( Galiani, l. c., p. 159.)۔‘‘پیداواری لاگت میں کفائت محض پیداوار میں استعمال ہونے والے محن کی مقدار میں کفائت ہی ہے۔( Sismondi, Etudes, t. I, p.22.)

3؂۔‘‘ فرض کرتے ہیں کہ ..... جو مصنوعات ..... سرمایہ دار بناتا ہے ،مشینری کی ترقی کی وجہ سے دوچند ہو جاتی ہیں....تو وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اپنے مزدور کو کُل آمدنی returnکے ایک چھوٹے حصے سے لباس مہیا کر سکے.... پس اُس کے منافعے میں اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن کسی دوسرے طریقے سے اس میں فرق نہیں آئے گا۔(Ramsay, l. c., pp. 168, 169. )

4؂۔‘‘ ایک آدمی کے نفعے کا دارومدار اس بات پر نہیں ہوتا کہ اُسے کسی دوسرے کے محن کی مصنوعات پر کس حد تک دسترس ہے، بلکہ اس بات پر کہ خود محن پر اس کی کیا دسترس ہے۔اگر وہ اپنے سامان کو زیادہ قیمت پر بیچ سکتا ہے ، جبکہ اس کے مزدور کی اُجرت میں کوئی فرق نہ آئے ، تو صاف بات ہے کہ وہ فائدے میں ہے....۔ وہ جو کچھ پیدا کرتا ہے اب اُس کا نسبتاً کم حصہ محن کو متحرک کرنے کے لئے کافی ہے، اور نتیجتاً خود اُس کے لئے ایک بڑا حصہ بچ رہتا ہے۔ London, 1832, pp. 49, 50.)(Outlines of Pol. Econ.

5؂۔ ‘‘اگر میرا ہمسایہ تھوڑے محن سے زیادہ کام کرتے ہوئے ، سستا بیچ سکتا ہے ،تو مجھے بھی کوشش کرنی ہو گی کہ اُس کے برابر سستا بیچوں۔ تاکہ تھوڑے افراد سے اور سستا کام کرتا ہوا ہر فن، پیشہ، یا انجن ، دوسروں میں ایک ایسی لازمیت اور محرک پیدا کردیتا ہے ، کہ یا وہ اِسی فن، پیشے، یا انجن کو اختیار کر لیں یا اس جیساکوئی نیا اختراع کر لیں، اور وہ اس مقصد کے لئے کہ ہر آدمی اس قابل ہو جائے کہ کوئی شخص بھی اپنے ہمسائے سے سستا بیچنے کے قابل نہ رہے۔(The Advantages of the East India Trade to England.London, 1720, p. 67.)

6؂۔‘‘ ایک مزدور کے اخراجات چاہے کسی تناسب میں بھی کم ہوں ، اُس کی اُجرت اُسی تناسب میں کم ہو گی بشرطیکہ صنعت پر عائد ہونے والی پابندیاں اسی وقت ہٹا لی جائیں۔(Considerations Concerning Taking off the Bounty on Corn Exported,&c., London, 1753, p.7 )۔ تجارتی نفع خوری اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ غلہ اور دیگر تمام سازوسامان جس قدر ممکن ہو سستا ہونا چاہیے، کیونکہ جو چیز اسے مہنگا کرتی ہے وہ محن کو بھی مہنگا کرتی ہے... اُن تمام ممالک میں جہاں صنعت پر کوئی پابندی نہیں وہاں چیزوں کی قیمت محن کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ اس وقت سستا ہو گا جب زندگی کے لوازمات سستے ہوں گے۔(l. c., p. 3.)‘‘ اُجرتوں میں اُسی تناسب میں کمی آئے گی جس میں پیداواری قوتوں میں اضافہ ہو گا۔ یہ سچ ہے کہ مشینری زندگی کے لوازمات کو سستا کرتی ہے، لیکن یہ مزدور کو بھی سستا کرتی ہے۔

(A Prize Essay on the Comparative Merits of Competition and Co-operation.London, 1834, p. 27. )

7؂۔ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ کاریگر کی بنائی ہوئی چیز میں سے جو کچھ بھی محن یا مہنگے اخراجات میں سے بچ سکتا ہے ، لیکن ساتھ اس [چیز کے معیار کو] نقصان بھی نہ پہنچے، اتنا ہی وہ بچت منافع بخش ہے کیونکہ اس سے ان مصنوعات کی پیداوارکی لاگت میں کمی واقع ہو گی۔ تاہم، ان کا خیال ہے کہ دولت کی پیداوار جو کاریگر کے محن کا نتیجہ ہے، مصنوعہ کی منڈی کی قدر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔(Quesney:Dialogues sur le Commerce et les Travaux des Artisan,pp. 188, 189.)

8؂۔‘‘ یہ شارحین جو مزدوروں کے محن کے معاملے میں اِتنے کنجوس واقع ہوئے ہیں جیسے اُنہیں ان کی اُجرت ادا کرنی پڑتی ہے( J. N. Biduat, Du Monopole Qui setablit dans kes arts industriels et le commerce, Paris, 1828, p. 13.)

‘‘ مالک ہمیشہ اس کوشش میں ہو گا کہ وقت اور محن میں کفایت کرے۔( Dugald Stewart: Works ed. by Sir W. Hamilton, Edinburg, v., viii., 1855.Lectures on Polit. Econ.,p. 318. )اُن کا( مراد سرمایہ دار کا )مفاد اس میں ہے کہ مزدور کی جس پیداواری قوت کو وہ استعمال کرتے ہیں ، اتنی زیادہ ہونی چاہیے جس قدر ممکن ہو۔ اس قوت کو بڑھانے پر ہی اُن کی توجہ مرکوز ہے اور مکمل طور پر مرکوز ہے۔( R Jones: l. c., Lecture III.)

____________________________________________________



س کتاب کو مارکسسٹس انٹر نیٹ آرکائیو marxists.orgکے لیے ابن حسن نے ترتیب دیا۔

کمپوزنگ: امتیازحسین، ابن حسن

اپنی رائے اور تجاویز کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں۔

hasan@marxists.org




ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0-گذريل صفحو

No Article found
متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ - موضوع کے دوسرے داخلے