حوالہ جات و حواشی6 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 805
عنوان حوالہ جات و حواشی6
شاخ قوتِ محن کی خرید اور فروخت
پڑھا گیا 221805
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی6 کے بنیاد
قوتِ محن کی خرید اور فروخت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی6 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی6


شاخ قوتِ محن کی خرید اور فروخت
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ


1؂۔‘‘ روپے کی بنتر میں.... سرمایہ کوئی نفع پیدا نہیں کر سکتا۔ ’’ریکارڈو :Princ. of Pol. Econ ص. 267 ۔





2؂۔ ازمنۂ قدیم کے انسائیکلو پیڈیاؤں میں ہمیں اس قسم کی جاہلانہ باتیں ملتی ہیں کہ قدیمی دنیا میں سرمایہ مکمل طور پر ترقی یافتہ تھا،‘‘ سوائے اس کے کہ آزاد مزدور اور کریڈٹ کا نظام موجود نہیں تھا۔ ’’مامسن بھی اپنی کتابHistry of Romeمیں اسی انداز میں یکے بعد دیگرے حماقتیں کرتا چلا جاتا ہے۔





3؂پس مختلف ممالک میں قانون محن کے ٹھیکوں کا زیادہ سے زیادہ مقرر کرتا ہے۔ جہاں کہیں بھی آزاد محن کو قانون کا درجہ حاصل ہو قوانین ہی اس ٹھیکے کو ختم کرنے کا انداز وضع کرتے ہیں۔ کچھ ریاستوں، بالخصوص میکسیکو میں( امریکی خانہ جنگی سے قبل میکسیکو سے حاصل شدہ علاقوں میں بھی ، اور اس کے علاوہ حقیقتاً دینوبیا کے صوبوں میں بھی جب تک کہ Kausa کے زیر اثر انقلاب نہیں تھا )غلامی گھٹیا درجے کے نوکروں اور پیشگی قرضے کے بدلے غلاموں کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔ محن کے سلسلے میں قابلِ واپسی پیشگیوں کے ذریعے سے جو کہ نہ صرف نسل در نسل اکیلے مزدور کو غلام بناتی ہے بلکہ اس کے گھر والوں کو بھی ، اور یہ اصل میں ان کو دوسرے لوگوں اور اُن کے خاندان کی ملکیت بنا دیتی ہے۔Juarezنے پیشگی قرضے کے بدلے غلامیpionismکا خاتمہ کی دیا ۔لیکن بدنامِ زمانہ شہنشاہ Maximilianنے اس کوایک آئین کے ذریعے سے دوبارہ لاگو کر دیا، اور جس کی واشنگٹن میں ایوان نمائندگان میں مخالفت کی گئی کہ یہ میکسیکو میں غلامی کی بحالی کو آئینی شکل دینے کی کوشش تھی۔ ‘‘ میں ایک محدود مدت کے لیے اپنی جسمانی اور ذہنی رجحانات اور صلاحیتیں کسی دوسرے کے سپرد کر سکتا ہوں ۔ کیونکہ اس پابندی کے نتیجے میں مجموعی طور پر میرے اپنے آپ سے بُعد کے خاصے سے کافی متاثر ہوں گا۔لیکن اپنے سارے کے سارے عرصۂ محن کے بُعد سے میں خود ماہیت ہی کو ، یا دوسرے لفظوں میں اپنی عمومی سرگرمی اور حقیقت کو اور اپنی ذات کو کسی دوسرے کی ملکیت میں بدل رہا ہوں گا۔ ہیگل کی کتاب: Philosophie des Rechts.برلن، 1840، ص.104 ،67 ۔





4؂۔ سرمایہ دارانہ دور کا خاصہ اسی سے وضع ہوتا ہے کہ قوتِ محن خود مزدور کی نگاہوں میں ایک ایسی شے کی بنتر ہے جو خود اس کی اپنی ملکیت ہے۔ اسی وجہ سے اس کا محن مزدوری کا محن بن جاتا ہے۔دوسری طرف یہ صر ف اِس لمحے سے ہے کہ محن کی پیداوار بین الاقوامی سطح پر شے بن جاتی ہے۔





5؂۔‘‘ ایک انسان کی قدر یا اہلیت تمام دیگر چیزوں کی طرح اُس کی قیمت ہے_ کہنے کا مطلب یہ کہ اُتنا ہی جتنا کہ اس کی قوت کے خرچ ہونے پر اس کو دیا جائے۔ ’’


(Th. Hobes:Leviathen in his works Ed. Molwsworth. Lond. 1839-44, v. iii. p.76. )۔





6؂۔ اس وجہ سے Roman Villicus کو غلاموں کے نگران کی حیثیت سے‘‘ کام کرنے کے صلہ میں غلاموں سے کم تر معاوضہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ اس کا کام آسان تھا۔’


(Th. Memmsen, Rom. Geschichte, 1856,p. 810. )





7؂۔ موازنہ W. Th. Thornton:Over population and its Remedy , Lond., 1846. ۔





8؂۔ Petty.۔





9؂۔ ‘‘اس کی(یعنی محن کی )فطری قیمت ... زندگی کی ضروریات اور آرام و سکون کی اُتنی مقدار پر مشتمل ہے، جتنا کہ موسم کی نوعیت اور ملکی حالات مزدور کے لئے ساز گار ہوں اور اُس کو اِس قابل بنا دیں کہ وہ ایک ایسا خاندان تیار کر سکے جو منڈی کے لیے محن کی نہ ختم ہونے والی رسد مہیا کر سکے۔ ’’


(R. Torrens:An Essay on the External Corn Trade.Lond. 1815, p. 62.)۔





10؂۔ Rossi:Cours d Econ. Polit., Bruxelles,1842, p. 370.





11؂۔ Sismondi:Nouv. Princ. etc.,t. I, p. 112.





12؂۔‘‘ ہر محن کی معاوضہ اس وقت دیا جاتا ہے جب یہ ختم ہو چکتا ہے۔’


( An Inquiry into those Principles Respecting the Nature of Demand, & c., p. 104.)


کمرشل کریڈٹ کا نظام اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب مزدوریعنی مصنوعات کا بڑا پیدا کنندہ اپنی بچت پر مطمئن ہو اور اپنی مزدوری کا ایک ہفتہ کے ،یا دو ہفتوں کے یا ایک ماہ کے یا تین ماہ کے ... وغیرہ کے اختتام تک انتظار کرے’’


(Gh. Ganilh, Des Systems d Econ. Polit., 2eme edit., Paris, t. II, p. 150. )





13؂۔‘‘ مزدور اس کی صنعت ادھار لے لیتا ہے ’’،لیکن Storckمزید یہ بھی کہتا ہے کہ‘‘ خطرے کی کوئی بات نہیں ’’ ، سوائے یہ کہ‘‘اس کی مزدوری ضائع ہو جاتی ہے.... مزدور مادی نوعیت کی کوئی بھی چیز اس کے سپرد نہیں کر سکتا۔ ’’(Stork, Cours d Econ. Polit., Petersbourg, 1815, t. II, [p],p. [36] 37).





14؂۔ ایک مثال ۔ انگلستان میں دو قسم کے بیکری والے تھے، ایک‘‘ پوری قیمت والے ’’جو ڈبل روٹی کو اس کی پوری قدر پر بیچتے تھے، اور دوسرے‘‘ کم قیمت پر بیچنے والے ’’جو اس کو قدر سے کم پر بیچتے تھے۔ آخرالذکر گروہ بیکری والوں کی مجموعی تعداد کا تین چوتھائی تھا۔


( p. xxxii in the Report of H. S. Tremenheere, commissioner to examine into the grievances complained of by the journeymen bakers , &, c., Lond. 1862.)


کم قیمت پر بیچنے والے تقریباً سارے کے سارے ایسی ڈبل روٹی بیچتے جس پر پھٹکڑی، صابن، پوٹاشیم کاربونیٹ ، کھریا مٹی ، ڈربی شائر کا پسا ہوا پتھر ،اور اسی قسم کے دیگر موافق اورقابل ہضم اجزا شامل ہوتے۔


( See the above cited Blue book, as also the report ofthe committee of 1855 on the adulteration of bread , and Dr. Hassal s Adulteration Detected,2nd Ed. Lond. 1861.)


سر جان گارڈن نے 1855کی کمیٹی کے سامنے بیان دیا کہ‘‘اس قسم کی پکوائیوں کے نتیجے کے طور پر وہ غریب لوگ جو روزانہ دو پونڈ ڈبل روٹی پر گزارا کرتے تھے ، اب ان کو افزودہ مادے کا ایک چوتھائی بھی نہیں ملتا، اور اس کی کی صحت پر مضر اثر ات تو ہیں ہی ۔ ’’ٹری مین ھیری کہتا ہے( l.c., p. xlviii )کہ جس وجہ سے کام کرنے والوں کا ایک بہت بڑا حصہ جن میں اس ملاوٹ adulteration سے اچھی خاصی آگاہی رکھنے والوں کی تعداد بھی کافی ہے، اگرچہ وہ پھٹکڑی ، اور سٹون ڈسٹ وغیرہ کو اپنی خریداری کے ایک حصے کے بطور قبول کرتے ہیں کہ اُن کے لیے‘‘لازم ہے کہ اپنے بیکری والے سے یا کسی دکان دار سے ایسی ڈبل روٹی خریدیں جیسی وہ سپلائی کرنا چاہیں۔ ’’کیونکہ ان کی مزدوری ہفتے کے اختتام تک ادا نہیں کی جاتی ، چنانچہ وہ اپنی باری آنے پر اس قابل نہیں ہوتے کہ‘‘ اس روٹی کا عوضانہ ہفتے کے اختتام سے قبل ادا کریں جو ان کے گھر والوں نے استعمال کی ہے ’’، پھر گواہ فراہم کرتے ہوئے Tremenheere مزید کہتا ہے کہ‘‘ یہ بدنام زمانہ بات ہے کہ اس انداز میں تیار کی گئی ڈبل روٹی صرف اس طریق سے بیچنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ ’’ انگلستان اور سکاٹ لینڈ کے متعدد زرعی اضلاع میں مزدوریاں پندرہ دن بعد یا مہینے بعد ادا کی جاتی ہیں۔ ادائیگیوں کے درمیان اتنے لمبے وقفوں کی وجہ سے زرعی مزدور ادھار پر خریدنے کو مجبور ہیں ...۔اس کو ہر صورت میں زیادہ قیمت ادا کرنا ہو گی ، در حقیقت ایسی دکان سے ہی خریدنا ان کی مجبوری ہے جو انہیں ادھار پر سودا دے۔ مثلاً جیسے Horninghamمیں Wilts کے مقام پر ، ج




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

No Article found
قوتِ محن کی خرید اور فروخت - موضوع کے دوسرے داخلے