حوالہ جات و حواشی8 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 812
عنوان حوالہ جات و حواشی8
شاخ بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
پڑھا گیا 216570
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی8 کے بنیاد
بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی8 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی8


شاخ بقا پذیر سرمایہ اور تغیر پذیر سرمایہ
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ


حوالہ جات و حواشی

1؂۔محن ایک ختم ہونے والی چیز کونئی زندگی دیتا ہے۔

(An Essay on the Polit. Econ. of Nations, London, 1821, p.13)



2؂۔یہاں پر آلاتِ محن کی مرمت ہمارا موضوع نہیں۔زیرِ مرمت مشین محن کے آلے کا کام نہیں دے رہی ہوتی بلکہ اس وقت وہ محن کا معمول ہوتی ہے۔کام اس کے ذریعے نہیں ہو رہا ہوتا بلکہ اس کے اوپر ہو رہا ہوتاہے۔ اپنے مقصد کی رو سے اس بات کو فرض کرنے پر کوئی روک نہیں لگ سکتی کہ آلات کی مرمت پر استعمال ہونے والا محن اُن کی بنیادی پیداوار کے لئے درکار ضروری محن میں شمار کیا جائے گا۔ لیکن اس کے بعد ہمارے زیرِ بحث وہ ٹوٹ پھوٹ آئے گی جس کو کوئی کاریگر بھی مرمت نہیں کر سکے گااور جو آہستہ آہستہ اپنے خاتمے کی طرف رینگتی ہے، یعنی جو اُس قسم کا گھسنا ہے جسے وقتاً فوقتاً مزیدمرمت کرنا ممکن نہ رہے۔ اور وہ چیز اگر کوئی چاقو ہو تو آہستہ آہستہ ایک ایسی شکل میں آ جائے کہ چھری چاقو تیز کرنے والا یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ اب اس کو مزید آب نہیں دی جا سکتی۔ہم متن میں اس بات کامطالعہ کر چکے ہیں کہ ایک مشین ہر عملِ محن میں ایک کُل کی حیثیت سے شامل ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ قدر پیدا کرنے والے عمل میں یہ محض تھوڑا تھوڑا حصہ کر کے شامل ہوتی ہے۔ پھر ذیل کے اقتباس میں خیالات کی الجھن کس قدر بڑھی ہوئی ہے! مسٹر ریکارڈو کہتے ہیں کہ [جرابیں] بنانے والی مشین میں انجینئر کے محن کا ایک حصہفرض کریں جرابوں کے ایک جوڑے میں پایا جاتا ہے۔اس کے باوجود وہ کُل محن جو جرابوں کا ہر واحد جوڑا پیدا کرتا ہے ، اُس میں انجینئر کا کُل محن شامل ہوتا ہے نہ کہ صرف ایک حصہ ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مشین [جرابوں کے] کافی سارے جوڑے بناتی ہے اور ان میں سے کوئی بھی جوڑا مشین سے الگ نہیں بن سکتا( Obs on Certain Verbal Disputes in Pol. Eson., Particularly Relating to Value,p. 54.)۔اس قسم کا احمقانہ طور پر مطمئن مصنف اپنی الجھن اور قناعت میں صرف اتنی حد تک حق بجانب ہے کہ نہ ریکارڈو نے اور نہ اس سے قبل یا مابعد کے مصنف نے ہی محن کی ان دو اقسام کو ٹھیک ٹھیک ممیز کیا ہے ، لہٰذا اسی وجہ سے قدر کی تشکیل کے دونوں پہلوؤں میں اس [محن] کے کردار کو تو وہ اور بھی کم سمجھ سکے ہیں۔



3؂۔اس گفتگو سے ہم مسٹر بی.جے. سِے کے احمقانہ پن کا اندازہ کر سکتے ہیں ، جس نے یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ قدرِ زائد( سود، نفع،لگان )کی وضاحت ان پیداواری خدمات سے کی جا سکتی ہے جو ذرائع پیداوار ، زمین، آلات، اور خام مال اپنی اقدارِ صرف کے ذریعے عملِ محن میں سرانجام دیتے ہیں۔ مسٹر ولیم روشرجو اپنی مضحکہ خیزاور معذرت آمیز خیال آفرینیوں کو ضبطِ تحریر میں لانے کا موقع شاز ہی گنواتے ہیں یوں قلم گو ہوتے ہیں: بی. جے. سِے(Traite, t. l, ch. 4 )نے بڑی ٹھیک بات کی ہے کہ:ایک آئل مِل کی پیدا کی ہوئی قدر تمام اخراجات کی کٹوتی کے بعد ایک نئی چیز ہی بن جاتی ہے یعنی اس محن سے بالکل مختلف چیزجس نے خود آئل مِل کو چلایا تھا۔( l. c., p. 82. note )جنابِ پروفیسر صاحب آپ نے بالکل ٹھیک کہا! آئل مِل نے جو تیل پیدا کیا اُس محن سے بالکل مختلف چیز ہے جس نے اس مِل کو تعمیر کیا! مسٹر روشر صاحب قدر سے مراد تیل جیسا سازوسامان لیتے ہیں؛ کیونکہ تیل بھی قدر کا حامل ہے اور باوجود اس کے کہ پٹرولیم تو فطرت ہی کا پیدا کردہ ہے اگرچہ کم مقدر ہی میں سہی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی طرف اُس نے اپنے کسی اور قول میں اشارہ کیا ہے: یہ(فطرت )بمشکل ہی کوئی قدرِ مبادلہ پیدا کرتی ہے۔ مسٹر روشر کی فطرت اور اس فطرت کی پیدا کردہ قدرِ مبادلہ کی مثال اُس احمق دوشیزہ کی سی ہے جو یہ تسلیم کر لے یہ اُس کے ایک بچہ پیدا ہوالیکن یہ تو بہت چھوٹا تھا۔یہ وسیع البحر عالم آگے چل کر فرماتے ہیں : ریکارڈو کے مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے سرمائے کو محن کے خانے میں مرتکزمحن قرار دینے کے عادی ہیں؛ یہ غیر ماہرانہ کام ہے کیونکہ حقیقت میں سرمائے کا مالک محض اسے پیداکرنے اور بحال کرنے سے کچھ زیادہ بھی کرتا ہے، یعنی وہ اس سے لطف اندوز ہونے سے پرہیز کرتا ہے اور اس وجہ سے وہ سود وغیرہ کا مطالبہ کرتا ہے۔( l. c. )سیاسی معیشت کا یہجزیاتی تشریحی طرزِ بحث کس قدر ماہرانہ ہے جس نے ایک خواہشِ محض کو آخر کا ر قدر کے ایک ذریعے میں بدل دیا ہے۔



4؂۔ کاشتکار کے کام میں استعمال ہونے والے تمام آلاتِ محن میں سے انسان کا محن وہ ہے جس پر سرمایہ دار اپنے سرمائے کی ادائیگی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ دوسرے دو آلاتِ محن .....کام کرنے والے مویشی اور بیل گاڑیاں ....اور چھکڑے، ہل، بیلچے وغیرہ پہلے [والے محن] کے دیے گئے حصے کے بغیربالکل بیکار ہیں۔

(Edmond Burke: Thoughts and Details on Scarcity, originally presented to the Right Hon. W. Pitt. in the month of November 1797,طباعت ، لندن، 1800. ص: 10۔

5؂۔26نومبر 1862کے روزنامہ دی ٹائمز میں ایک کارخانہ دار جس کی مِل میں ملازمین کی تعداد 800ہے اور جو ایسٹ انڈیا کی روئی کی150 بوریاں یا امریکی روئی کی 130بوریاں کھپاتی ہے؛ بڑے درد بھرے اندازمیں اپنی فیکٹری کے اُس وقت کے اخراجات کی شکایت کرتا ہے جس دوران فیکٹری بند ہوتی ہے۔ وہ ان اخراجات کا تخمینہ 6,000پونڈ سالانہ لگاتا ہے۔ ان میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن سے ہمیں یہاں پر کوئی سروکار نہیں ہے جیسے کرائے، نرخ، ٹیکس، انشورنس ؛اورمنیجر وں، کھاتہ داروں، انجینئر وں اور دیگر افراد کی تنخواہیں وغیرہ ۔ پھر وہ اُس کوئلے کے 150پونڈ بھی شمار میں لاتا ہے جو مِل کو چالو حالت میں رکھنے کے لیے کبھی کبھار جلایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اُن ملازمین کی تنخواہوں کو بھی گنتا ہے جو اس مشنری کو چالو حالت میں رکھنے کے لئے مختلف اوقات میں ملازم رکھے جاتے ہیں۔ اور آخر میں اُس نے 1,200پونڈ مشنری کے ناکارہ ہوجانے کے رکھے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موسم اور فرسودگی کا فطری اصول تو اِن وجوہات کی بنا پر اپنا معمول نہیں بدلتا کہ آج کل سٹیم انجن کام نہیں کر رہا۔ وہ بڑے پر زور انداز میں کہتا ہے کہ وہ اپنی مشنری کے ناکارہ ہونے کا تخمینہ 1,200پونڈ سے زیادہ نہیں لگاتا کیونکہ یہ پہلے ہی بہت گھسی پٹی ہے۔



6؂۔افزودہ اصراف .....جہاں پر ایک شے کا اصراف پیداواری عمل ہی کا حصہ ہو ۔.... ان مثالوں میں قدر کا کوئی اصراف نہیں ملتا۔(S. P. Newman, l. c., p. 296.)



7؂۔ایک امریکی تصنیف میں جس کے غالباً بیس شمارے چھپ چکے ہیں ذیل میں درج اقتباس بھی آتا ہے: اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ سرمائے کی باز آمدکس بنتر میں ہوتی ہے؛ پھر پیداوار کے تمام اجزائے ترکیبی کی لمبی فہرست گنوانے کے بعد جن کی قدر مصنوعہ میں دوبارہ ظاہر ہوتی ہے یہ اقتباس ان الفاظ پر اختتام پذیر ہوتا ہے: انسانی زندگی کی بقا اور سکون کے لیے درکار روٹی کپڑا اور لباس کی مخ




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

No Article found