حوالہ جات و حواشی9 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 818
عنوان حوالہ جات و حواشی9
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 222870
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی9 کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی9 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی9


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

حوالہ جات و حواشی

1؂۔ اگر ہم بڑھائے جانے والے سرمائے کی قدر کو مقررہ سرمائے کا حصہ گنتے ہیں تو ہمیں ایسے سرمائے کی باقی ماندہ قدر کو سال کے اختتام پر سالانہ آمدن کے حصے کے بطور گننا ہو گا۔

(Malthus, Princ. of Pol. Econ. 2nd. ed., Lond., 1836, p. 269.)

2؂۔لیوکریٹس Lucretiusایک بدیہی بات کرتا ہے کہ:nil posse creari de nihilo, عدم سے کسی چیز کا وجود ممکن نہیں۔ قدر کی پیداوار [دراصل] قوتِ محن کی محن میں تبدیلی ہے۔ اور قوتِ محن بجائے خود ایک ایسی توانائی ہے جو غذا کے توسط سے انسانی جسم کو مہیا کی جاتی ہے۔

3؂۔اسی انداز میں انگریز نفع کی شرح اورسود کی شرح کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ تیسری کتاب میں ہم دیکھیں گے کہ جونہی ہمیں قدرِ زائد کے قوانین کاپتا چلے گا، ہم دیکھیں گے کہ منافع کی شرح کوئی پرا سرار چیز نہیں۔ اگر ہم اس عمل کو پلٹ دیں تو ہمیں نہ ایک کی سمجھ آئے گی اور نہ دوسرے کی۔

4؂۔ [یہ نوٹ تیسری جرمن اشاعت میں شامل کیا گیا۔ اس مقام پر مصنف اُس معاشی زبان کا حوالہ دے رہا ہے جو فی زمانہ استعمال ہو رہی ہے۔یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ ص182(پروگریس پبلشرز ماسکو کے ایڈیشن، ص174 )پر یہ دکھایا گیا ہے کہ در حقیقت یہ مزدور ہی ہے جو سرمایہ دار کو پیشگی دیتا ہے نہ کہ سرمایہ دار مزدور کوپیشگی مہیا کرتا ہے۔فریڈرک اینگلز]

5؂۔اس کتاب میں ہم نے اب تک لازم وقتِ محن کی اصطلاح اُس عرصے کی نشان دہی کے لیے استعمال کی ہے جو مخصوص سماجی حالات میں کسی بھی شے کی تیاری کے لیے اوسطاً درکار ہوتا ہے۔ اس کے بعد سے ہم اِس اصطلاح کو اُس مخصوص وقت کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال کریں گے اس خاص شے یعنی قوتِ محن کی تیاری کے لیے درکار ہوتا ہے۔ایک ہی تکنیکی اصطلاح کا مختلف مفاہیم میں استعمال غیر روایتی سی بات ہے؛ لیکن دنیا میں کوئی علم ایسا نہیں جس میں اس کی بالکل بھی نوبت نہ آئے۔مثال کے لیے علمِ ریاضی کی اعلیٰ و ادنیٰ شاخوں ہی کو دیکھیں۔

6؂۔Herr Wilhelm Thucydidesصاحب نے ایک اچنبہ کر دکھایا ہے۔ اُس نے انتہائی اہم دریافت کی ہے کہ اگر ایک طرف قدرِ زائد کی تشکیل یا پیداوارِ زائد اور اس کے نتیجے میں ہونے والا سرمائے کا ارتکاز آج کل سرمایہ دار کی کفائت شعاری کی وجہ سے ممکن ہو رہا ہے؛ جبکہ دوسری طرف تہذیب کی پست ترین سطحوں میں طاقت ور ہی کمزور کو کفایت شعاری پر مجبور کرتا ہے۔( l. c., p. 78 )کس چیز کی کفایت پر آمادہ کرتا ہے؟ آیا محن کی کفایت پر؟ یا پھر اُس فالتودولت کی جس کا وجود بھی کوئی نہیں؟ آخر وہ چیز کیا ہے جو Roscherجیسے لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ یہ قدرِ زائد کی تشریحات اس انداز میں کریں کہ وہ سرمایہ دار کے اعتزازات کو نت نئے انداز میں پیش کریں جو وہ قدرِ زائد کا جواز حاصل کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اُن کی ذاتی جہالت کے علاوہ اس کی وجہ قدر اور قدرِ زائد کی صحیح معنوں میں تشریح کرنے سے وہ اس لیے ڈرتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ طاقت ور طبقوں کے لیے خوش آئند ثابت نہ ہو۔

7؂۔اگرچہ قدرِ زائد کی شرح قوتِ محن کے استحصال کی سطح کاٹھیک ٹھیک اظہار کرتی ہے، تاہم یہ استحصال کی مطلق رقم کی کسی طرح بھی وضاحت نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر اگر محنِ لازم اور محنِ زائد پانچ پانچ گھنٹے کا ہو تو استحصال کی شرح 100%بنتی ہے۔اب یہاں پر استحصال کی مقدار کو 5گھنٹوں سے ناپا گیا ہے۔ دوسری طرف اگر محنِ لازم اور محنِ زائد چھ چھ گھنٹے تو بھی استحصا ل کی شرح پہلے کی مانند 100%ہی رہتی ہے، جب کہ استحصال کی اصل مقدار 20%بڑھ چکی ہے یعنی پانچ گھنٹوں سے چھ گھنٹے ہو چکی ہے۔

8؂۔مندرجہ بالا قابلِ اعتباراعدادوشمار مجھے مانچسٹر کے ایک کتائی کرنے والے آدمی سے حاصل ہوئے تھے۔ انگلستان میں ایک انجن کی ہارس پاور روایتی طور پر اس کے سلنڈر سے معلوم کی جاتی تھی اب حقیقی ہارس پاور کا حساب نشان زد سوئی سے لگایا جاتا ہے۔

9؂۔متن میں دی جانے والے اعدادوشمار محض توضیحی ہیں۔ درحقیقت ہم نے قیمتوں کو اقدار کے مساوی فرض کیا ہے۔تاہم اب ہم تیسری کتاب میں دیکھیں گے کہ اوسط قیمتوں کے معاملے میں بھی ایسے سادہ انداز میں مفروضات نہیں قائم کئے جا سکتے۔

10؂۔Senior, l. c., pp. 12, 13. ۔ہم ایسے غیر معمولی اشارات کو اس وجہ سے نظر انداز کر جائیں گے کہ یہ ہمارے نقطۂ نظر سے قطعی غیر اہم ہیں، مثال کے طور پر یہ مفروضہ کہ کارخانہ دار مشینری کی مرمت کے لیے ، یعنی سرمائے کے ایک حصے کی بحالی کے لئے درکار رقم کو اپنے حتمی یا غیر حتمی نفع کا حصہ خیال کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم اُس کے اعدادوشمار کی صحت کے بارے میں بھی کسی بحث میں نہیں الجھیں گے۔ A Letter to Mr. Senior, مطبوعہ لندن 1837 میں لیونارڈ ہارنر صاحب نے واضح طور پر کہا ہے کہ اِن کو تو صرف نام نہاد تجزیات کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیونارڈ ہارنر صاحب 1833کے فیکٹری انکوائری کمشنرز میں سے ایک تھے اور جو بعد ازاں 1859تک فیکٹریوں کے انسپکٹر بلکہ سینسر رہے۔ انہوں نے انگلستانی مزدور طبقے کے لئے یاد گارخدمات سر انجام دیں ۔ آپ نے نہ صرف بگڑے ہوئے کارخانہ داروں کے خلاف تا حیات جدوجہد کی بلکہ کابینہ کے اُن اہل کاروں کے خلاف بھی طویل جنگ لڑی جن کے خیال میں کارخانہ داروں کے ایوان زیریں میں ڈالے جانے ووٹوں کی اہمیت اُن گھنٹوں سے کہیں زیادہ تھی جن کے دوران مزدور مِلوں میں محن کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔

سینئر کی اصولی غلطیوں سے قطع نظر اُس کے اعدادوشمار ہی الجھے ہوئے ہیں۔ اصل میں وہ کہنا یہ چاہتا تھا کہ: کارخانہ دار مزدور کو -03گھنٹوں یا 23آدھے گھنٹے روزانہ کام پر رکھتا ہے۔ ہر دیہاڑی کی طرح ، کام کے سال کی ہر ایک دہاڑی -03 گھنٹوں یا 23 آدھے گھنٹوں پر مشتمل ہو گی لیکن انہیں سال کے کل کام کے دنوں سے ضرب دینا ہوگی۔ اس مفروضے کے مطابق 23آدھے گھنٹوں سے سالانہ -A3115000 کی مصنوعات حاصل ہوتی ہیں؛-03؛20آدھے گھنٹوں کی پیداوار= -03مطلب یہ کہ ان گھنٹوں نے رأس سرمائے کی بحالی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔3آدھے گھنٹے بچ رہتے ہیں جن میں سے ایک آدھا گھنٹہ -03 پیدا کرتا ہے، مطلب یہ کہ مشینری کی ٹوٹ پھوٹ کا مداوا کرتا ہے؛ اور باقی کے دو گھنٹے، یعنی آخری گھنٹہ -03یا پھر حتمی نفع پیدا کرتا ہے۔ متن میں سینئر مصنوعات کے آخری -03حصے کو خود دہاڑی کے حصوں میں بدل دیتا ہے۔

11؂۔اگر ایک طرف سینئر یہ ثابت کرتا ہے کہ کارخانہ دار کا حتمی نفع ، اورانگلستان کی روئی کی صنعت کا وجود، اورانگلستان کا عالمی منڈی پر غلبہ کام کے آخری گھنٹے پر منحصر ہے تو دو




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

No Article found
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے