حوالہ جات و حواشی9 : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 818
عنوان حوالہ جات و حواشی9
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 222874
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

حوالہ جات و حواشی9 کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

حوالہ جات و حواشی9 - کی دوسری شاخیں-

حوالہ جات و حواشی9


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ری طرفDr. Andrew Ureیہ بتاتا ہے کہ اگر 18سال سے کم عمر کے بچوں اور جوانوں کو فیکٹری کے گرما گرم اور خالصتاً اخلاقی ماحول میں رہنے کے بجائے باہر کے ٹھنڈے اور اخلاق سے خالی ماحول میں ایک گھنٹہ قبل نکال دیے جائیں تو وہ کاہلی اور برائی میں پڑنے کی وجہ سے اپنی روحانی تطہیر کے تمام مواقع کھو بیٹھیں گے۔ 1848کے بعد سے فیکٹری انسپکٹروں نے اس جان لیوا آخری گھنٹے کا ذکر کر کے مالکان کی سرزنش کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ چنانچہ اپنی 21مئی 1855کی رپورٹ میں Mr. Hovellلکھتا ہے: اگر درج ذیل پر مغز اعدادوشمار ٹھیک ہوتے( وہ سینئر کے اقتباسات رقم کرتا ہے )تو انگلستان کی ہر فیکٹری 1850سے خسارے میں چل رہی ہوتی۔

(Reports of the Insp. of Fact. for the half-year, ending 30th April, 1855, pp. 19, 20.)

سال 1848میں دس گھنٹے کی بابت بِل کی منظوری کے بعد ملک بھر کے طول و عرض Dosertاور Somersetکے سرحدی شہروں میں کہیں کہیں موجودسِن کاتنے والے کارخانوں کے مالکان نے اپنے کارندوں کو استعمال کرتے ہوئے اِس بِل کے خلاف ایک پٹیشن دائر کیا۔ ان پٹیشنوں میں سے ایک اقتباس حسبِ ذیل ہے: آپ کے حضور پٹیشن دائر کرنے والے ماں باپ کی حیثیت سے یقین رکھتے ہیں کہ فراغت کا ایک اور اضافی گھنٹہ کام کرنے والے بچوں کے لیے اخلاقی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنے گا اس لیے کہ آوارہ گردی ہی برائی کو جنم دیتی ہے۔ اس اقتباس کی بابت 31اکتوبر 1848کی فیکٹری رپورٹ میں کہا گیا: سِن کاتنے والی مِل کا ماحول جس میں اِن نیک و کار اور نرم خو والدین کے بچے کام کرتے ہیں ، گردو غبار اور خام مال کے اجزاء کی وجہ سے اس قدر اَٹا ہوا ہے کہ کاتنے والے کمروں میں تو 10منٹ بھی کھڑے ہونا محال ہے۔ وہ اس لئے کہ آپ کی آنکھیں، کان، نتھنے، اور مُنہ سِن سے اٹھے گرد کے بادل سے بہت جلدی بھر جاتے ہیں اور اس سے بچا بھی نہیں جا سکتا، کیونکہ ان کی نکاسی کا کوئی انتظام بھی نہیں ہے۔ مشینری کی بے تُکی تیزی کی وجہ سے اس پر جاری رہنے والا محن کے لئے بھی لا متناہی تیزی اورمہارت درکار ہے جو ایک انتھک نگرانی کے زیرِسایہ جاری رہتی ہے۔ چنانچہ والدین کے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے آوارہ خرامی کا لفظ استعمال کریں جو کھانے کے قلیل سے توقف کے بعد دس گھنٹے تک اس کام میں بندھے رہتے ہیں۔ ....۔ یہ بچے قریب و جوار کے دیہات میں کام کرنے والے مزدوروں سے زیادہ محنت کرتے ہیں....۔برائی اور آوارہ خرامی کے بارے میں ایسی ظالمانہ قسم کی گفتگو کو بکواسِ محض قرار دینا چاہیے....۔ بارہ سال قبل تک، عوام کے جس حصہ کو اعلیٰ ذمہ داری سے اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی تھی کہ کارخانہ دار کا سارے کا سارا نفع آخری گھنٹے کے محن سے حاصل ہوتا ہے، اور اگر دہاڑی میں یہی ایک گھنٹہ کم کر دیا جائے تو کارخانہ دار کا یہ حتمی نفع تباہ ہو کر رہ جائے ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوام کا وہی حصہ بمشکل ہی اپنی آنکھوں پر یقین کرے گا جب یہ دیکھے گا کہ اِس آخری گھنٹے کی جو خوبیاں گنوائی جاتی تھیں او ر اب ان میں اِتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ نفع کے ساتھ ساتھ اخلاقیات بھی اِن کا جزوبن کر رہ گئیں ہیں۔ چنانچہ اگر بچوں کے محن کی مُدت کو صرف دس گھنٹے کر دیا جائے تو مالکان کے نفع کے ساتھ ساتھ اُن بچوں کا اخلاق بھی رُخصت ہو جاتا ہے ؛ کیونکہ ان دونوں کا تعلق اس آخری جان لیوا آخری گھنٹے پر ہی ہے۔( See Repts. of Fact., for 31st Oct., 1848, p. 101.)پھر اسی رپورٹ میں اِن ہی نیک اور پرہیز گار کارخانہ داروں کی اخلاقیات اور نیک نامیوں کی مثالیں بھی رقم ہیں،اُن کی شعبدہ بازیوں ، چالبازیوں ، خوشامدوں، دھمکیوں اور فریب کاریوں کی چند مثالیں بھی ہیں، وہ جن کا سہارا لے کر چند بے سہارہ مزدوروں کو مجبور کر کے ایسی پٹیشنوں پر دستخط کراتے ہیں تاکہ اِن کو پارلیمنٹ میں اس انداز میں پیش کیا جائے کہ یہ ایک پوری صنعت یا پورے ملک کی جانب سے پیش ہونے والی پٹیشن ہے۔آج کی نام نہاد معاشی سائنس کی یہ بہت بڑی صفت ہے کہ خود سینئر نے کچھ عرصے کے بعد، اور یہ اُس کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی ، کارخانہ کے قانون کی پُر زور حمایت کی، بلکہ اُس کے مخالفین کو بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس تازہ نظریے کے غلط نتائج کا پول کھولتے۔ تاہم وہ اِس اصلی تباہی کی غلط توضیحات کرنے میں بھی ناکام رہے۔وہ حقیقی تجربات کو ثبوت کے طور پیش کرتے ہیں ، لیکن کیوں اور کیسے ان کے لئے پر اسرار باتیں ہی رہتی ہیں۔

12؂۔تاہم فاضل پروفیسر کو اپنے مانچسٹر کے سفر سے کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور پہنچا ہو گا۔ The Letters on The Factory Acts میں وہ تمام کے تمام محصولات کو جن میں نفع ، سود ، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ شامل ہیں صرف ایک ہی چیز پر منحصر قرار دیتا ہے ، یعنی مزدور کے صرف ایک گھنٹے کا محن جس کا اسے معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ اس سے ایک سال قبل اپنی تصنیف Outlines of Political Economyمیں جو اُس نے آکسفورڈ کے طلبہ ، اور پڑھے لکھے بیوقوفوں کے لئے لکھی تھی، اُس نے ریکارڈو کے محن کی قدرپیدا کرنے کی اہلیت کے پہلو کی مخالفت کرتے ہوئے یہ دریافت کیا کہ نفع سرمایہ دار کے محن سے حاصل ہوتا ہے، اور سود اُس کی انسانیت سے، مطلب یہ کہ اُس کی پرہیز گاری سے۔ dodge ایک قدیم لفظ ہے جبکہ ـabstinenceنیا لفظ ہے۔ Herr Roscherنے اس کا ترجمہ Enthaltung.بالکل ٹھیک کیا ہے۔ اُس کے کچھ ہم وطن براؤن، جانز، اور رابنسن، جو جرمنی نژاد ہیں وہ سب کے سب لاطینی میں اتنے مشاق نہیں ہیں جتنا کہ وہ ؛ اور انہون نے اس لفظ کو پادریوں کی طرح Entsagungکا لفظ دیا ہے یعنی(renunciation)

13؂۔اگر ایک فرد کا سرمایہ 20,000پونڈ ہواور اس پر 2,000پونڈ سالانہ کا نفع ہو تو اس معاملہ سے کچھ فرق نہ پڑے گا آیا کہ اس کے سرمائے میں 100ملازمین کام کر رہے ہوں یا 1,000ملازمین؛ پیدا ہونے والی شے 1,000پونڈ یا 2,000پونڈ میں فروخت کی گئی ،بشرطیکہ ان تمام معاملات میں اس کا نفع 2,000پونڈ سے کم نہیں ہوا۔ تو کیا قوم کا حقیقی مفادایک سا نہ ہو گا؟ اگر اس کی حتمی حقیقی آمدن یعنی اس کے محصولات اور نفع یکساں ہوں تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ یہ قوم ایک کروڑ ہے یا ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔(Ric. l.c., p. 416)ریکارڈو سے طویل عرصہ قبل آرتھر ینگ جو پیداوارِ زائد کا مجنونانہ حامی تھا، اور علاوہ از ایں ایک بے تُکا اور غیر منطقی لکھاری تھا، اور جس کی شہرت اس کی صلاحیت اور اہلیت سے متضاد طور پر تھی ؛ کہتا ہے: ایک جدید ریاست میں وہ صوبہ کس کام کا ہو گاجو [قدیم رومی انداز کے چھوٹے چھوٹے آزاد کسانوں کی شکل میں]تقسیم کر دیا جائے ؛ خواہ اس میں کتنے اچھے طریقے سے کھیتی باڑی کی جاتی ہو،نسل انسانی کو بڑھانے کے علاوہ ان کا کیا فائدہ ہے، جو علیحد




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

No Article found
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے