خاص مساوی القوت حالت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 788
عنوان خاص مساوی القوت حالت
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 225294
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

خاص مساوی القوت حالت کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

خاص مساوی القوت حالت - کی دوسری شاخیں-

خاص مساوی القوت حالت


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0-گذشتہ صفحہ


تمام اشیاء جیسے کوٹ ،چائے،مکئی ، لوہا وغیرہ مساوی القوت کے طور پر ململ کی قدر کے اظہار میں آ جاتی اور اس کے نتیجے میں ایک ایسی چیز بن جاتی ہیں جسے قدر کہا جا سکتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کی جسمانی ساخت اب مساوی القوت کے لبادے میں آ جا تی ہے۔اس طرح سے کئی طرح کا مفید محن جو ان مختلف اشیاء میں مجتمع ہوتا ہے اب وہ اظہار کی ان لا تعداد میں آ جاتا ہے،یا دوسرے لفظوں میں ناقابلِ تفریق محنِ انسانی بن جاتا ہے۔


پہلی صورت جس کے تحت20 گز ململ ایک کوٹ کے برابر تھی ،محض حادثاتی انداز ہی میں ممکن تھا،یعنی ان دونوں چیزوں کی خاص مقداریں ہی ایک دوسرے سے بدلی جا سکتی تھیں۔ دوسری صورت میں، اس کے برعکس،ہمیں اسی وقت اس پس منظر کا بھی پتا چل جاتا ہے جو اس لمحاتی اظہار کا موجب بنتا ہے،اور اس سے بنیادی طور پر مختلف بھی ہے۔ململ کی قدر کے اجماع پر مجموعی طور پر کچھ فرق نہیں آتا، چا ہے اس کا اظہار کوٹ میں کیا جائے یا لوہے میں یا کسی بھی دوسری شے میں،جو کسی کی بھی ملکیت ہو۔ اس صورت میں دو اشیاء کے مالکین کے درمیان لمحاتی(اتفاقی )تعلق ختم ہو جائے گا۔اب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اشیاء کا تبادلہ نہیں ہوتا جو ان کی قدر کی تعیین کرتا ہے بلکہ اس سے برعکس ان اشیاء کی قدروں کا حجم ہی ان کی مبادلی مقداروں کو متعین کرتا ہے۔




ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0-گذريل صفحو

خاص مساوی القوت حالت ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص