دمحن کی تشدید : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 847
عنوان دمحن کی تشدید
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 236978
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دمحن کی تشدید کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دمحن کی تشدید - کی دوسری شاخیں-

دمحن کی تشدید


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

لی فیکٹری میں مزدوروں کی بڑھی ہوئی توجہ سے کسی بھی اہم نتیجے کی توقع کرنا بے کار تھا۔ 78؂یہ مفروضہ تجربات سے غلط ثابت ہو گیا۔ مسٹر رابرٹ گارڈنر نے پیٹرس برگ میں20اپریل 1844اور اس کے بعد سے اپنی دو بڑی بڑی فیکٹریوں میں محن کے گھنٹوں میں کمی کر تے ہوئے اسے 12سے 11گھنٹے روزانہ کر دیا۔ تقریباً ایک سال کی کوششوں کا نتیجہ یہ تھا کہ‘‘ مصنوعہ کی وہی مقدر اُتنے ہی خرچ سے موصول ہوتی، اور کام کرنے والے مجموعی طور پر 11گھنٹوں میں اُتنی ہی اُجرت حاصل کر لیتے تھے جتنی وہ قبل ازیں 12گھنٹوں میں کماتے تھے۔ 79؂کتائی اور دھاگا بافی کے کمروں سے حاصل ہونے والے تجربات سے میں صرفِ نظر کر رہا ہوں، کیونکہ مشین کی رفتار میں 2%کے اضافے کی وجہ سے اُن کا خسارہ پورا ہو جاتا۔ لیکن بُنائی کے شعبے میں تصویروں والے کپڑے کی کئی ایک اقسام کی بُنائی کی جاتی، وہاں کام کی صورتِ احوال میں زرّہ برابر فرق بھی نہ آیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ:‘‘سال 1844 میں 6جنوری سے 20 اپریل تک 12گھنٹے کی دیہاڑی میں ہر مزدور کی ہفتے کی اوسط اُجرت 10شلنگ 1 -BD ڈالر تھی، 20اپریل سے 29جون تک 11گھنٹے کی دیہاڑی میں ہفتہ وار اوسط اُجرت 10 شلنگ 3 -BD ڈالر تھی۔80؂ یہاں ہم نے 11گھنٹے میں 12گھنٹوں کی نسبت زیادہ پیدا کر لیا ہے، اور داخلی طور پر یہ کام کرنے والے لوگوں کے زیرِ استعمال وقت کے زیادہ ہموار اور باکفائت استعمال کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اگراُن کو وہی اُجرت ملتی اور ایک گھنٹہ بھی بچا رہتا، تو سرمایہ دار کو اسی مقدار کی پیداوار کے سلسلے میں کوئلے، گیس، اور اسی قسم کی دیگر چیزوں کا ایک گھنٹے کے برابر فائدہ ہوتا۔ میسرز، ہوروکز اورجیکسن کی مِلوں میں بھی ایسے ہی تجربات حاصل ہوئے ہیں۔81؂

محن کے گھنٹوں کی تخفیف، مزدور کو ایک خاص وقت میں زیادہ قوت استعمال کرنے پر مجبو ر کرتے ہوئے، محن کی مرتکز تکثیر کے لئے داخلی حالات پیدا کرتی ہے۔جونہی ایسی تخفیف لازم درجہ حاصل کر لے، مشینری سرمایہ دار کے ہاتھ میں وہ معروضی ذریعہ بن جاتی ہے جو منضبط طور پر ایک خاص وقت میں زیادہ محن نچوڑنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ نتیجہ دو طرح سے حاصل کیا جا سکتا ہے: [اولاً] مشینری کی رفتار میں اضافہ کرتے ہوئے، اور مزدور کو چلانے کے لئے زیادہ مشینری دیتے ہوئے۔ مشینری کی ترقی یافتہ تعمیر ضروری ہے، جزوی طور پر اس وجہ سے کہ ایسا کئے بغیر مزدور پر زیادہ دباؤ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا، اور کچھ اس وجہ سے کہ محن کے تخفیف شدہ گھنٹے سرمایہ دار کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ پیداواری لاگت پر زیادہ فعال نگرانی مقرر کرے۔ سٹیم انجن میں آنے والی ترقی نے پسٹن کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ قوت کے بے انتہا کفائت کے ساتھ خرچ سے ایک ہی انجن کے ذریعے کوئلے کی اُتنی ہی یا پھر اُس سے بھی کم کھپت سے زیادہ مشینری کو چلا دیا۔ ترسیلی میکانزم میں آنے والی ترقی نے نہ صرف رگڑ کی قوت کو کم کر دیا اور_ جو چیز جدید مشینری کو قدیم مشینری سے بہت واضح انداز میں ممیز کرتی ہے _ اس نے دُھرّے کا حجم اور وزن بھی آہستہ آہستہ ممکن حد تک کم کر دیا۔ آخری بات یہ کہ محرک مشینوں میں آنے والی ترقی نے، اُن کے حجم میں کمی کرتے ہوئے رفتار اور اثر پذیری میں اضافہ کیا ہے، جیسا کہ جدید پاور لوم میں ہوتا ہے؛ یا اُن کے دائرۂ کار کا حجم بڑھاتے ہوئے اُن کے چلتے پُرزوں کی تعداد اور حیطے میں اضافہ کیا ہے، جیسے کاتنے والی کھڈیوں میں، یا پھر جزیات میں ناقابلِ فہم تبدیلیاں لاتے ہوئے اِن چلتے پُرزوں کی رفتار میں اضافہ کیا ہے، جیسا کہ وہ جنہوں نے دس سال پہلے خود کار کھڈیوں میں چلنے والے تکلوں کی رفتار میں اضافہ کر دیا۔

دیہاڑی میں 12گھنٹے تک کمی انگلستان میں 1832 سے شروع ہوتی ہے۔ 1836 میں ایک مینوفیکچر کرنے والے نے کہا :‘‘ آج کل فیکٹریوں میں سرانجام دیا جانے والا محن اُس سے بہت زیادہ ہے... جتنا تیس یا چالیس سال پہلے ہوتا تھا... اور اس کی وجہ توجہ اور سرگرمی کی وہ بڑھی ہوئی مقدار ہے جو مشینری میں آنے والی انتہا درجے کی رفتار کی مرہونِ منت ہے۔ 82؂سال 1844میں لارڈ ایشلے ، جو آج کل Lord Shaftesbury ہے، نے ہاؤس آف کامنز میں مندرجہ ذیل بیان مرتب کرایا جس کے ساتھ دستاویزی ثبوت بھی موجود ہے:

‘‘ مینوفیکچر کے عمل کے سلسلے میں سرانجام دیا جانے والا محن اس قسم کے افعال میں شروع شروع میں سرانجام دئے جانے والے محن سے تین گُنا زیادہ ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مشینری نے وہ کام کر دکھایا جو یقینا لاکھوں افراد کے زورِ بازو کا تقاضا کرتا؛ لیکن اس نے اُن لوگوں کے محن میں حیرت انگیز حد تک اضافہ کیا ہے جو اس کی خطرناک حرکات کی حاکمیت میں آئے...۔ 1815 میں 40نمبر کی روئی کاتنے والے چرخوں کے جوڑے کے محن_ جس میں دیہاڑی کے 12گھنٹے ہی تھے_ میں 8میل پیدل سفر کی لازمیت بھی پائی جاتی تھی۔ 1832 میں اسی نمبر کی سوت کاتنے کے لئے دو چرخوں کے درمیان طے کیا جانے والا فاصلہ 20میل تک پہنچ گیا، جو آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ 1835 میں(غالباً 1815یا 1825میں؟)‘‘ کتائی کرنے والا ان دو چرخوں میں سے ہر ایک کے 820چکر لگاتا، یوں ایک دن میں مجموعی طور پر 1,640چکر بن جاتے ہیں۔ 1832میں کاتنے والے کو ہر چرخے پر 2200چکر لگانا پڑتے جن کا کُل 4400بنتا ہے۔ 1844 میں 2400جن کا کُل 4800بنتا ہے؛ اور بعض صورتوں میں تو محن کی اس سے بھی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی...۔ میرے پاس ایک اور دستاویز بھی ہے جو مجھے 1842 میں بھیجی گئی، جس میں یہ درج ہے کہ محن ترقی کی سمت میں بڑھ رہا ہے__ نہ صرف اس لحاظ سے بڑھ رہا ہے کہ اب طے کیا جانے والا فاصلہ زیادہ ہے ، بلکہ اس وجہ سے بھی کہ پیدا کی جانے والی چیزوں کی تضریب ہو رہی ہے، جبکہ مزدور پہلے کی نسبت سے کم ہو گئے ہیں؛ مزید یہ کہ اب اکثر روئی کی ہلکی قسم کاتی جاتی ہے جس پر کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے...۔ دھاگا بافی والے کمروں میں محن میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک آدمی اتنا کام کرتا ہے جسے پہلے دو میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ بُنائی والے کمروں میں جہاں لوگوں کے جمِ عفیر کو کام پر لگایا جاتا ہے، جس میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے.... محن میں 10فیصد کا ٹھیک ٹھاک اضافہ ہوا ہے، اور اس کا سبب کتائی سے متعلقہ مشینری کی بڑھی ہوئی رفتار ہے۔ 1838 میں فی ہفتہ کاتی جانے والی نلکیوں کی تعداد 18,000تھی، 1843 میں یہ بڑھتے ہوئے 21,000ہو گئی۔ 1819میں پاور لوم کی کتائی میں پِکوں picks کی فی منٹ تعداد 60 تھی_ 1842 میں یہ 140تک پہنچ گئی جس میں محن کی بہت واضح بڑھت موجود ہے۔83؂

محن کی اس انتہائی واضح شدت کے سامنے ہی ،جسے 1844میں 12گھنٹے




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

No Article found