دمحن کی تشدید : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 847
عنوان دمحن کی تشدید
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 236961
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دمحن کی تشدید کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دمحن کی تشدید - کی دوسری شاخیں-

دمحن کی تشدید


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

کے قانون کے تحت پہلے ہی حاصل کر لیا گیا تھا، اس وقت کے انگریز مینوفیکچروں نے ایک دعوے کی تعویلیں کرنا شروع کر دیں کہ اس سمت میں ہونے والی مستقبل کی کوئی بھی ترقی نہ ممکن ہے، چنانچہ محن کے گھنٹوں میں کی جانے والی کسی قسم کی مزید تخفیف کا مطلب پیداوار میں کمی ہو گا۔ اُن کی دلیل کی ظاہری درستی فیکٹری انسپکٹر لیونارڈ ہارنر کے درج ذیل بیان سے بخوبی دیکھی جا سکتی ہے، جو اُن کا بہت محتاط نگران تھا۔

‘‘ اب، جب کہ مشینری کی رفتار ہی یقینا [چیزو ں کی] پیداوار کی مقدار کو طے کر رہی ہے، تو مِل کے مالک کا فائدہ اِسی میں ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اِسے مناسب رفتار پر چلائے، تاکہ مشینری کو انتہائی تیزی سے گھسائی سے بچایا جا سکے؛ اِس پر بننے والی چیزوں کی حفاظت ممکن ہو؛ اور مزدور کو حد سے زیادہ توجہ لگانے سے بھی بچایا جا سکے۔ چنانچہ فیکٹری کے مالک کو جو مشکلات حل کرنی پڑتی ہیں اُن میں سے ایک اہم ترین یہ ہے کہ وہ اُس زیادہ سے زیادہ قوت کے حصول میں کامیاب رہے جس پر وہ مندرجہ بالا صورتِ احوال کے مطابق [مشینیں] چلا سکے۔ ہوتا بتدریج یوں ہے کہ اُسے پتا چلتا ہے کہ وہ بہت تیز جا رہا ہے، کہنے کا مطلب یہ کہ ٹوٹ پھوٹ اور خراب کام بڑھی ہوئی رفتار کے ساتھ ہم آہنگی سے متجاوز ہو چکا ہے اور وہ اس رفتار کو کم کرنے میں آمادہ ہے۔ چنانچہ میں یہ نتیجہ اخذ کروں گا کہ جیسے مِل کا ایک فعال اور ذہین مالک زیادہ محفوظ انداز میں سوچے گا، 11گھنٹے میں اُتنا زیادہ پیدا نہ کیا جا سکے گا جتنا 12 گھنٹے میں پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مزید میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس مزدور کو ٹھیکے کا کام کے انداز میں ادائیگی کی جاتی ہے، اُسے چاہیے کہ اپنی طاقت کو ایک ہی تسلسل میں یکساں رفتار کے ساتھ استعمال کرتا رہے۔84؂ چنانچہ ہارنر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کام کے دورانئے کو اگر 12گھنٹے سے کم کر دیا جائے تو اس سے پیداوار میں یقینا کمی آئے گی۔ 85؂دس سال بعد وہ خود ہی اپنے 1845 کے نظریے کو اس بات کی وضاحت کے لئے پیش کرتا ہے کہ اُس سال اس نے مشینری کی لچک ، اور محنِ انسانی کا غلط تخمینہ لگایا تھا، جن میں سے ہر ایک کو دیہاڑی کی تخفیف کے ذریعے کس طرح سے اچانک ہی انتہائی حد تک کھینچا جا سکتا ہے۔

اب ہم اُس عہد کی طرف آتے ہیں جس میں انگلستان کی روئی، اون، ریشم، اور سوت کی مِلوں میں سال 1847 میں دس گھنٹے کے قانون کی منظوری ہوئی۔

‘‘ تکلوں کی رفتار چرخوں پر 500چکر فی منٹ اور پھرکیوں پر 1,000چکر فی منٹ ہو گئی، مطلب یہ کہ چرخی تکلوں کی رفتار جو 1839 میں 4,500مرتبہ فی منٹ تھی، اب (1862میں )5,000 مرتبہ فی منٹ ہو چکی ہے، اور پھرکی تکلوں کی جو رفتار پہلے 5,000 چکر فی منٹ تھی ، اب 6,000چکر فی منٹ ہو چکی ہے، جو اول الذکر صورت میں دسواں حصہ زیادہ ہے اور ثانی الذکر صورت میں پانچواں حصہ۔ 86؂پیٹری کرافٹ کے باصلاحیت سول انجینئر James Nasmyth نے 1852میں لکھے گئے اپنے ایک خط میں لیونارڈ ہارنر کے لئے 1848 اور 1852 کے برسوں میں سٹیم انجن میں ہونے والی ترقی کی نوعیتوں کی وضاحت کی ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ اُن سٹیم انجنوں کی ہارس پاور جو دفتری اعدادوشمار میں ہمیشہ 1828 کے بنے ہوئے87؂ اسی طرح کے انجنوں کے مطابق درج کئے جاتے تھے، وہ محض برائے نام ہی ہے اور ان کی اصل قوت کا حاشیہ ہی بیان کرتا ہے، وہ مزید کہتا ہے:‘‘ مجھے یقین ہے کہ سٹیم انجن مشینری کے اُسی وزن سے اب ہم اوسطاً 50% زیادہ کام لے رہے ہیں، اور بہت سے معاملات ایسے ہیں ان سے مشابہ سٹیم انجن جو 220 فٹ فی منٹ کی رفتار پر پابندی کے دنوں میں 50 ہارس پاور کے برابر قوت پیدا کرتے تھے، اب وہ 100 ہارس پاور سے زیادہ قوت پیدا کر رہے ہیں....۔‘‘ 100ہارس پاور کا جدید سٹیم انجن اب پہلے کی نسبت بہت زیادہ قوت سے چلنے کا اہل ہو چکا ہے، اور اِس کی وجہ خود اِس کی تعمیر میں، اہلیت میں اور بوائلر وغیرہ کی تعمیر میں آنے والی ترقی ہے۔‘‘ اگرچہ ہارس پاور کے تناسب کے حساب سے اب بھی اُتنے ہی مزدور استعمال ہوتے تھے جتنے کہ ماضی میں ، مگر مشینری کے لحاظ سے اب پہلے کی نسبت کم مزدور استعمال کئے جاتے ہیں۔ 88؂ ‘‘ سال 1850 میں متحدہ برطانیہ کی فیکٹریوں میں 25,638,716 تکلوں اور 301,445 لوموں کو چلانے کے لئے 134,217 ہارس پاور کی قوت استعمال ہوتی تھی۔ 1856 میں تکلوں اور لوموں کی تعداد بالترب 33,503,580 اور 369,205 تھی، جو اُتنی ہی ہارس پاور کی اُتنی ہی قوت کا تقاضا کرتی ہیں جتنا 1850 میں تھا ،ا ور ان کو 175,000 ہارس پاور کے برابر قوت کو ضرورت تھی، لیکن 1856میں اس کو جو اصل قوت بدلے میں دی جاتی تھی وہ 161,435 ہارس پاور تھی، اگر اس کا حساب1850کے حاصل کے مطابق لگایا جائے تو یہ اُس کی نسبت 10,000 سے زیادہ ہارس پاور کم ہے جتنا 1856میں ہونا چاہئے تھا۔89؂‘‘ پس( 1856کی )رپورٹ سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار سے معلوم یوں ہوتا ہے کہ فیکٹری کا نظام تیزی سے نشوو نما پا رہا ہے؛ مطلب یہ کہ اگرچہ ہارس پاور کے حساب سے پہلے کی طرح اب بھی اُتنے ہی مزدور لگائے جاتے تھے، جبکہ مشینری پر پہلے کی نسبت کم مزدور لگائے جاتے تھے؛ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب قوت اور دیگر طریقوں کے کفائت شعارانہ استعمال سے سٹیم انجن کو زیادہ وزن کی مشینری چلانے کے قابل بنا دیا گیا ہے، اور یہ کہ مشینری میں ہونے والے ترقی کی بدولت کام کی بڑھی ہوئی مقدار حاصل کی جا سکتی ہے، اور مشینری کی رفتار میں اضافے کی وجہ سے، اور مختلف قسم کے دیگر معاملات کی وجہ سے مینوفیکچر کے طریقوں میں بہتری لائی گئی ہے۔90؂

‘‘ تمام انواع واقسام کی مشینوں میں ہونے والی عظیم الشان ترقی نے اُن کی پیداواری قوت میں بہت زیادہ اضافہ کیا۔ محن کے گھنٹوں میں کمی نے بلا شک و شبہ ....اُن آلات کو تحرک مہیا کیا۔ آخرالذکر نے مزدور پر زیادہ بڑھے ہوئے دباؤ کے ساتھ یہ اثر ڈالا کہ تخفیف شدہ دیہاڑی میں کم از کم اُتنا ضرور پیدا ہونا چاہئے جتنا بڑی دیہاڑی میں پیدا ہوتا تھا۔91؂

مینوفیکچروں کی دولت میں قوتِ محن کے زیادہ سخت استعمال سے کس قدر اضافہ ہوا ، اس کو دکھانے کے لئے صرف ایک حقیقت ہی کافی ہے۔ 1838سے لے کر 1850 تک انگلستان کی روئی اوردیگر فیکٹریوں میں ہونے والا اوسط اضافہ 32% تھا، جبکہ 1850 سے لے کر 1856تک یہ بڑھتا ہوا 86%ہو گیا۔

لیکن 1848 سے 1856 کے درمیانی 8برسوں میں دس گھنٹے کی دیہاڑی کے زیرِ اثر انگلستانی صنعت میں ہونے والی ترقی جتنی بھی زیادہ رہی ہو، اس کے بعد 1856سے1862تک کے 6برس میں یہ بہت آگے نکل گئی۔ مثال کے طور پر ریشم کی فیکٹریوں میں سال 1856 میں تکلوں کی تعداد 1,093,799 تھی، 1862 میں 1,388544تھی؛ اور لوموں کی تعداد 1856میں 9,260 اور




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

No Article found