دمحن کی تشدید : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 847
عنوان دمحن کی تشدید
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 236980
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دمحن کی تشدید کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دمحن کی تشدید - کی دوسری شاخیں-

دمحن کی تشدید


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

1862 میں 10,709تھی۔ مگر مزدوروں کی تعداد 1856میں 56,131 اور 1862 میں 52,439 تھی۔ پس تکلوں کی تعداد میں اضافہ 26.9% اور لوموں کی تعداد میں اضافہ 15.6% تھا، جبکہ مزدوروں کی تعداد دمیں 7% تک کمی آئی تھی۔ سال 1850میں اونی دھاگہ بنانے والی مشینوں میں 875,830 ، اور سال 1856 میں 1,324,549یعنی( 51.2%اضافے کے ساتھ )اور 1862 میں 1,289,172 تکلے( یعنی 7%اضافے کے ساتھ )استعمال ہوتے تھے۔ لیکن اگر ہم سال 1856کے مذکورہ دوہرے تکلوں کو لیں اور 1862 میں اضافہ ہونے والے تکلوں کو اس میں شامل نہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ1856 کے بعد تکلوں کی تعداد قریباً وہی رہتی ہے۔دوسری طرف 1850 میں بہت ساری صورتوں میں تکلوں اور لوموں کی رفتار دُگنی ہو گئی۔ اونی دھاگہ بنانے والی مِلوں میں پاور لوموں کی تعداد 1850 میں 32,617، تھی 1856 میں 38,956 ، اور 1862 میں43,048 رہی۔ مزدوروں کی تعداد 1850 میں 79,737 ،اور 1856 میں 87,794 اور 1862 میں 86,063تاہم ان میں 14سال سے کم عمر بچے بھی شامل تھے جن کی تعداد 1850 میں 9,956 ، 1856میں 11,228 اور 1862میں 13,178تھی۔ چنانچہ 1856کے مقابلے میں 1862میں لوموں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کے باوجود کام پر لگائے گئے مزدوروں کی کُل تعداد میں کمی ،اور بچوں کے استحصال کی تعداد میں اضافہ ہوا۔92؂

27اپریل 1863 کو مسٹر فیرنڈ ؔنے ہاؤس آف کامنز میں کہا:‘‘ مجھے لنکاشائر اور چے شائر کے16اضلاع میں بھیجے گئے وفود کی زبانی پتا چلا ہے ، جن کے بل بوتے پر میں بات کر رہا ہوں کہ مشینری میں ہونے والی ترقی کے نتیجے میں فیکٹریوں میں ہونے والا کام تواتر میں بڑھ رہا ہے۔ پہلے ایک آدمی دو[شاگردوں] کی مدد سے 2لومیں چلاتا تھا اب ایک آدمی کسی کی مدد کے بغیر تین لومیں چلاتا ہے، اور ایک آدمی کے لئے 4 لومیں چلانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ چنانچہ، محولہ بالا حقائق سے مترشح ہے کہ 12گھنٹے کے کام کو اب 10گھنٹے سے بھی کم عرصے کے اندر سمیٹ دیا گیا ہے۔ چنانچہ یہ بات از خود عیاں ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران فیکٹری کے کارکنان کی مشقت میں کس قدر بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے۔93؂

لیکن، اگرچہ فیکٹری کے معائنہ کاروں نے کس طرح بلاروک ٹوک اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے 1844 اور 1850 کے قوانین کے نتائج کا جائزہ لیا، اس کے باوجود وہ تسلیم کرتے ہیں کہ محن کے گھنٹوں کی تخفیف نے محن کی شدت میں جس قدر اضافہ کیا ہے وہ مزدوروں کی صحت اور ان کے کام کرنے کی اہلیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔‘‘ روئی، اونی دھاگہ اور ریشم بنانے والی بہت سی مِلوں میں، جوش وجذبے کی وہ تھکا دینے والی کیفیت جو مزدوروں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مشینری کو سکون سے سمجھ سکیں، جس کی رفتار میں گزشتہ چند برسوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، میرے نزدیک یہ پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے شرحِ اموات میں اضافے کا باعث نہیں بنتی جس کی طرف ڈاکٹر گرین ہاؤ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اشارہ کیا ہے۔94؂ اس بات میں ذرّا برابر بھی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے کہ، جونہی محن کے گھنٹوں کی مزید تطویل پر ہمیشہ کے لئے پابندی عائد کر دی جاتی ہے وہ رجحان جو سرمائے کو اپنی کمی کو محن کی شدت میں منضبط اضافے کے ذریعے پورا کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور مشینری میں رونما ہونے والی ہر ترقی کو مزدور کو تھکا دینے والے زیادہ مؤثر ذریعے میں بدلنے پر آمادہ کرتا ہے ، یقینا عن قریب حالات کو اُس نہج تک لے جائے گا جس میں محن کے گھنٹوں میں کمی ایک بار پھر ناگزیر ہو جائے گی۔95؂ دوسری طرف انگلستانی صنعت میں، 10گھنٹے کی دیہاڑی کے زیرِ اثر 1848سے تا حال ہونے والی تیز رفتار ترقی ، اُس ترقی سے بھی تجاوز کر گئی ہے جو 1833سے 1847 کے درمیان ہوئی تھی، جس وقت دیہاڑی کی طوالت 12گھنٹے تھی، اور یہ تجاوز آخرالذکر اُس ترقی سے بھی بہت زیادہ ہے جو فیکٹری سسٹم کے آغاز سے نصف صدی بعد تک متعارف ہوئی جس وقت دیہاڑی کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔96؂




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

No Article found